Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خوش حالی کا اثر امت کی روش پر

  علی محمد الصلابی

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عوام کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ان کی رہنمائی فرمائی اور انہیں متنبہ کیا کہ کہیں دنیا اور دنیاوی ناز و نعم اور لذتیں انہیں اپنی طرف گھسیٹ نہ لے جائیں۔ آپؓ کو اس بات کا شدید خوف تھا کہ جب امت میں تین چیزیں پیدا ہو جائیں تو وہ ابتداع کا شکار ہو جائے گی: خوش حالی، قیدی خواتین کی اولاد کی بلوغت، عجمیوں کا قرآن پڑھنا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 245)

سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے یہ محسوس کیا کہ مال کی فراوانی خوش حال لوگوں کو صحیح روش سے پھیر دے گی کیوں کہ رعایا کے پاس مال کی فراوانی اور بہتات رعایا کے فساد کا سبب بنتی ہے کیوں کہ وہ اس کو عیش و عشرت اور غلط کاموں پر صرف کرتے ہیں۔

ارشادِ الہٰی ہے:

وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞

(سورۃ الإسراء: آیت 16)

ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہو جاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔