Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عثمانی ارشادات لوگوں کے لیے زکوٰۃ کے قواعد و اصول واضح کرتے ہیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: یہ تمہاری زکوٰۃ کا مہینہ ہے لہٰذا جس پر قرض ہو وہ اس کو ادا کر دے تاکہ تم اپنی زکوٰۃ نکال سکو اور جس کے پاس نصابِ زکوٰۃ تک مال نہ ہو اس سے زکوٰۃ نہیں لی جائے گی الا یہ کہ وہ نفلی طور سے دے۔ اور جس سے زکوٰۃ لے لی گئی اس کو دوبارہ زکوٰۃ نہیں ادا کرنا ہے یہاں تک کہ آئندہ سال یہی مہینہ دوبارہ آ جائے۔ ابراہیم بن سعد کا بیان ہے کہ اس سے مقصود ماہِ رمضان ہے۔ (الاموال، ابو عبید: صفحہ، 534) اور سیدنا ابوعبیدؓ کا بیان ہے کہ بعض آثار میں یہ بات وارد ہے کہ اس ماہ سے حضرت عثمان بن عفانؓ کا مقصود ماہِ محرم ہے۔

(الاموال، ابو عبید: صفحہ، 535)

اس ارشاد کے ذریعہ سے سیدنا عثمان بن عفان نے مندرجہ ذیل مبادی متعین فرمائے:

الف: سالانہ زکوٰۃ: غلوں اور پھلوں کے علاوہ کی زکوٰۃ کے لیے حولانِ حول (سال بھر گزرنا) شرط ہے اور یہ بات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ جس سے زکوٰۃ لے لی گئی اس کو دوبارہ زکوٰۃ نہیں ادا کرنا ہے یہاں تک کہ آئندہ سال یہی مہینہ دوبارہ آ جائے۔ لہٰذا ایک سال کے اندر دوبارہ زکوٰۃ نہیں لی جائے گی۔

ب: اگر ہم حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ کا قول لیتے ہیں کہ اس مہینہ سے مقصود ماہِ محرم ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے یہ چاہا کہ اسلامی مالی سال ہجری سال کے بالکل مطابق ہو لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ مکمل ہجری سال گزرنے پر، اگر مال پر شرائطِ زکوٰۃ پائی جاتی ہیں تو ہر ہجری سال کے آغاز میں زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔

ج: حضرت عثمانِ غنیؓ لوگوں کو اموال زکوٰۃ کا حساب کرنے کی دعوت دیتے ہیں، ان سے آپؓ کا مطالبہ ہے کہ قرض ادا کر دیں تاکہ باقی مال پر زکوٰۃ عائد کی جائے۔ (السیاسۃ المالیۃ، لعثمان بن عفان: صفحہ، 76) شاید حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کو اس بات پر ابھارنا چاہتے ہیں کہ وہ قرض خواہوں کو قرض ادا کر دیں تاکہ زکوٰۃ کا حساب کرنے میں آسانی ہو اور قرض صرف شکلی نہ رہے بلکہ اس سلسلہ میں سنجیدگی واضح ہو۔ 

(السیاسۃ المالیۃ، لعثمان بن عفان: صفحہ، 76)

د: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور جس کے پاس نصابِ زکوٰۃ تک مال نہ ہو اس سے زکوٰۃ نہیں لی جائے گی یہاں تک کہ وہ نفلی طور پر دے۔ اس کے ذریعہ سے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نفلی صدقات کی دعوت دیتے ہیں بعض حضرات جو اپنے آپ کو زکوٰۃ ادا کرنے کا مستحق نہیں سمجھتے لیکن اس کے باوجود نفلی صدقات نکالنا چاہتے ہیں جسے وہ بیت المال میں جمع کریں تو وہ ان سے قبول کیے جائیں گے اور ان کو مواردِ زکوٰۃ میں شامل کیا جائے گا اور پھر حکومت ان کو مصارفِ زکوٰۃ میں خرچ کرے گی۔

(السیاسۃ المالیۃ، لعثمان بن عفان: صفحہ، 77)

اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد اور جس سے ہم نے زکوٰۃ لے لی اس سے زکوٰۃ نہیں لیں گے الا یہ کہ وہ نفلی طور سے ادا کرے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ بیت المال سونا اور چاندی کی زکوٰۃ نہیں وصول کرے گا۔ الا یہ کہ صاحبِ مال خود اسے بیت المال کو ادا کرے۔ البتہ جس زکوٰۃ پر لوگوں کو مجبور کیا جائے گا اور اس کو روکنے پر ان سے جہاد کیا جائے گا وہ جانوروں اور کھیتی اور کھجور کی زکوٰۃ ہے۔ اس طرح گویا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مالکینِ مال کو اموالِ باطنہ سونا، چاندی اور تجارت کی زکوٰۃ میں آزاد چھوڑ دیا ہے، بیت المال ہی کو ادا کرنا لازم نہیں خود وہ مستحقینِ زکوٰۃ میں تقسیم کر سکتے ہیں الا یہ کہ وہ خود سے اپنی خوشی سے بیت المال کو ادا کریں۔

(الاموال، ابوعبید: صفحہ، 537)

اس سلسلہ میں سیدنا ابو عبیدؓ کا کہنا ہے: کیا تم دیکھتے نہیں کہ رسول اللہﷺ‏ جانوروں کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے محصلین کو روانہ فرماتے، وہ ان سے برضا و جبر زکوٰۃ وصول کرتے تھے، یہی روش آپﷺ‏ کے بعد آپﷺ‏ کے خلفاء رضی اللہ عنہم کی بھی رہی۔ جانوروں کی زکوٰۃ نہ ادا کرنے پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مانعین سے قتال کیا۔ اور نہ تو رسول اللہﷺ‏ اور نہ آپﷺ‏ کے خلفاء رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے یہ وارد ہے کہ انہوں نے مالِ صامت (سونا چاندی وغیرہ) کی زکوٰۃ ان سے جبراً وصول کی ہو الا یہ کہ وہ خود سے لا کر پیش کر دیں، یہ ان کے ذمہ امانتیں ہیں جس طرح چاہیں ادا کریں لیکن جانور کی زکوٰۃ کے لیے محکم حکم ہے ان پر لاگو کیا جائے گا اور احکام ظاہری اموال پر ہی لاگو ہوں گے۔ مال ظاہری ہو یا باطنی اس کا معاملہ بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔

(الاموال، ابو عبید: صفحہ، 537)