Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد عثمانی میں مالِ غنیمت سے بچوں کا حصہ نہیں مقرر کیا گیا

  علی محمد الصلابی

سیدنا تمیم بن مہریؒ کا بیان ہے کہ میں دوسری مرتبہ فتح اسکندریہ میں شریک تھا لیکن مجھے مالِ غنیمت میں حصہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے قریب تھا کہ میری قوم اور قریش کے درمیان اختلاف رونما ہو جائے، لیکن بعض لوگوں نے کہا اس سلسلہ میں سیدنا بصرہ غفاری اور سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہما سے دریافت کر لیا جائے ،دونوں صحابی رسول اللہﷺ ہیں، جب ان دونوں سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو ان دونوں نے کہا: اگر زیرِ ناف بال آ گئے ہیں تو پھر حصہ دیا جائے، چنانچہ بعض لوگوں نے میرا معائنہ کیا تو زیرِ ناف بال آ چکے تھے لہٰذا مجھے مالِ غنیمت میں حصہ دیا گیا۔

(فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ، 121)

اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ بچے کا مالِ غنیمت میں حصہ نہیں ہے اور اسی طرح عورت کا بھی حصہ نہیں ہے، لیکن چونکہ انہوں نے جنگ میں مسلمانوں سے تعاون کیا ہے اس لیے کچھ مال دیا جائے گا اور یہی رسول اللہﷺ‏ کے دور میں نافذ العمل تھا۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 93)