بعض عثمانی فتوحات میں مال غنیمت کی قیمت اور بیت المال کا حصہ
علی محمد الصلابیسیدنا عبدالملک بن مسلمہؒ دوسروں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم افریقہ کی فتح میں سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے ہمارے درمیان خمس نکالنے کے بعد مالِ غنیمت تقسیم کیا، ہر شہسوار کو تین ہزار دینار (دو ہزار گھوڑے کا حصہ اور ایک ہزار شہوار کا) اور پیدل کو ایک ہزار دینار ملے۔ فوج میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا تو اس کے اہلِ خانہ کو اس کے انتقال کے بعد ایک ہزار دینار دیے۔
(فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ، 125)
سیدنا عثمان بن صالح وغیرہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کا لشکر بیس ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ اور یہ بات واضح ہے کہ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ اس ارشادِ الہٰی کے مطابق بیت المال کا ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 41)
ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسولﷺ اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی۔ جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کا اور قرابت داروں کا حصہ ختم ہو گیا۔ عہدِ صدیقی اور فاروقی اور اسی طرح عہدِ عثمانی میں اسی پر عمل رہا اور باقی چار حصے فاتحین پر تقسیم کیے جاتے رہے۔ بایں طور کہ شہسوار اور اس کے گھوڑے کے لیے تین حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ۔
مذکورہ بالا دونوں روایات سے خمس کی قیمت کا حساب جو بیت المال کو حاصل ہوا لگایا جا سکتا ہے، اس طرح پورے مالِ غنیمت کو معلوم کیا جا سکتا ہے بالفرض اگر شہسوار فوج کا دسواں حصہ تھے جس کی تعداد بیس ہزار تھی تو حساب اس طرح ہو گا:
2000 شہسوار x 3000 = 6000,000 دینار
18000 پیادہ x 1000 = 18000،000 دینار
مجموعی رقم جو مجاہدین کو حاصل ہوئی 24 ملین دینار۔ جو مالِ غنیمت کا 4/5 حصہ ہے اور بیت المال کا خمس حصہ، 6 ملین دینار۔ اس طرح مالِ غنیمت کی مجموعی رقم، 30 ملین دینار ہوئی۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 95)