دھوکہ نمبر 82 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 82

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 2

قال نجدة الحروري لابن عباس انك تقول ان الهدهد اذا البصر الارض مرف ساحة ما بين هو وبين الماء وهو لايبصر شعرة الفخ فقال ابن عباس اذا هباء القضاء منشى البصر.

نجد حروری نے ابن عباسؓ سی دریافت کیا کہ اپ کہتے ہیں کہ ہدہد جب زمین دیکھتا ہے تو اس فاصلہ کا اندازہ لگا لیتا ہے جو اس کے اور پانی کے درمیان ہے تو پھر وہ پھندہ کا جال کیوں نہیں دیکھ پاتا اس پر ابن عباسؓ نے فرمایا جب قضا آتی ہے تو آنکھ بند ہو جاتی ہے۔

اسی طرح طبرسی نے کتاب احتجاج میں ایک روایت لکھی ہے وہ بھی اس طرح گڑبڑ ہے پڑھئیے اور وہ یہ ہے۔

أنه دخل ابو حنيفه المدينة ومعه عبد الله بن مسلمه فقال له يا ابا حنيفه أن ههنا جعفر بن محمد من علماء آل محمد فاذهب بنا نقتبس منه علما فلما اتياء ذاهما بجماعة من شيعة ينتظرون خروجه فبيناهم كذالك إذا خرج غلام حدث فقام الناس هيبة له فقال أبو حنيفة لابن مسلمه من هذا لغلام فقال إذا ابنه موسى لا جبهنه بين ايدى شيعة قال مه لا تقدر على ذالك فقال والله لا فعلنه ثم التفت الى موسى فقال يا غلاماين ليضع الرجل جاجته في مدينتكم هذه فقال يتوارى خلف الجدار يتوقى حين الجدار شطوط الانهار ومساقط الشمار ولا يستقبل القبلة ولا يستدبرهما فحينئذ يضع حيث شاء.

امام ابو حنیفہ عبداللہ بن مسلمہ کی معیت میں مدینہ منورہ پہنچے ابن مسلمہ نے آپ سے کہا آئیے جعفر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں چلیں جو آل محمد کے علماء میں سے ہیں وہ ان سے کچھ اکتساب فیض کریں جب دونوں وہاں پہنچے تو دیکھا کہ شیعوں کی ایک جماعت ان کے انتظار میں وہاں بیٹھی ہوئی ہے۔ ابھی انتظار ہو ہی رہا تھا کہ ایک نو عمر صاحبزادے اندر سے باہر آئے تو سب احتراماً کھڑے ہوں گئے۔ امام صاحب نے ابن مسلمہ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے انہوں نے کہا کہ یہ موسیٰ حضرت جعفرؓ کے بیٹے ہیں امام صاحب کہنے لگے میں شیعوں کے سامنے ہی ان کی پیشانی پر بوسہ دوں گا ابن مسلمہ نے کہا تم ایسا نہیں کر سکتے امام صاحب نے کہا واللہ میں ضرور ایسا کروں گا.

امام صاحب نے موسی سے مخاطب ہو کر پوچھا میاں صاحبزادے تمہارے اس شہر میں آدمی قضائے حاجت کہا کرے؟موسی بولے دیواروں کی اڑ میں پڑوسی کی نظر سے بچے نہروں کے کنارے پر نہ کرے ،میووں کے پھینکنے کی جگہ نہ کرے اور قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پشت ان باتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے جہاں چاہیں فارغ ہو لے۔

یہ روایت بھی کسی متعصب شیعہ کی گھڑت اور ان کے گھڑے ہوئے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ اس میں صحیح اسی قدر ہے جو دوسرے شیعوں نے روایت کی ہے یا اہل سنت بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے۔

لما دخل ابو حنيفه المدينة زار قبر النبي صلى الله عليه وسلم ثم اتى الى دار الصادق فجلس ينتظر خروجه فخرج ابنه موسى وهو صغير فقام ووقره ثم قال اين يضع العرب حاجته في بلدكم فاحاب بما ذكر اما بقا فقال أبو حنيفة الله اعلم حيث يجعل رسالته.

جب امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ مدینہ النبی پہنچے تو پہلے حضور اکرم ﷺ کے روضہ اور حاضری دی پھر حضرت صادق رحمۃ اللہ علیہ کے مکان پر حاضر ہوئے اور ان کے انتظار میں وہاں بیٹھے کہ اتنے میں ان کے کمسن بیٹے موسیٰ باہر آئے امام صاحب نے یہ آیت پڑھی اللہ اعلم حیث یجعل رسالته

اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ رسالت کس کو بخشے۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب نے بچے سے سوال اہل بیت کے بچوں کی ذکاوت و و تیزی فھم سے متاثر ہوکر اظہارِ تعجب کے طور پر کیا تھا ۔ اور یہ بات اس زمانہ ہی میں نہیں آج کل بھی ہے کہ بچوں کی ذکاوت ذہانت سے حیرت زدہ ہو کر بطور امتحان اس قسم کے سوالات کر ہی لیتے ہیں۔

اور مقصد یا تو اس خاندان سے اظہار عقیدت ہوتا ہے یا دوسروں پر اس خاندان کی بلند مرتبیت واضح کرنا الزام و طعن کا تو ایسے موقع پر سوال ہی نہیں۔


صفحہ 2 از 2