عہد عثمانی میں جزیہ سے حاصل شدہ آمدنی کی چند مثالیں
علی محمد الصلابیالف: حضرت عثمان بن عفانؓ کے عہدِ خلافت میں سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ جو کوفہ کے والی تھے آذربیجان پر چڑھائی کی اور وہاں کے لوگوں سے آٹھ لاکھ درہم پر مصالحت کی جس کو انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت روک لیا تھا، چنانچہ حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے ان پر فوجی چڑھائی کی، انہوں نے اطاعت قبول کی اور انہوں نے ان سے مال کو حاصل کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 246)
ب: جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو افریقہ کی طرف روانہ کیا تو انہوں نے راستہ میں جرجیر سے مصالحت کر کے جو رقم حاصل کی اس کی مقدار دو ملین پانچ لاکھ بیس ہزار دینار تھی۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 255)
ج: قبرص کی صلح سات ہزار دینار جزیہ کی ادائیگی پر ہوئی جو وہ مسلمانوں کو ادا کرتے رہیں گے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 261)
د: سیدنا سعید بن صالح نے جرجان والوں سے مصالحت کی وہ کبھی ایک لاکھ کبھی دو لاکھ اور کبھی تین لاکھ ادا کرتے تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 261)
ھ: سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نیساپور پر قبضہ کیا اور سرخس کی طرف رخ کیا تو مرو کے باشندوں نے صلح کا مطالبہ کیا بنا بریں انہوں نے ابنِ حاتم باہلی کو ان کی طرف روانہ کیا انہوں نے مرو کے حاکم سے دو ملین پر مصالحت کی اور ایک بیان کے مطابق ساٹھ ہزار درہم پر مصالحت کی۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 318)
و: سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بلخ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کر لیا، تو انہوں نے چار لاکھ پر مصالحت کی پیش کش کی، احنف نے اسے قبول کر لیا اور اپنے چچا زاد بھائی اسید بن متشمش کو ان سے وصول کرنے کے لیے مقرر کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 307)