Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اہل نجران پر رسول اللہﷺ‏ کے فرمان نامے کو نافذ کر رہے ہیں

  علی محمد الصلابی

رسول اللہﷺ‏ نے اہلِ نجران سے کچھ شرائط پر معاملہ طے کیا تھا اور انہوں نے ان شرائط کو قبول کیا تھا اور آپﷺ‏ نے اس سلسلہ میں ان کے لیے فرمان نامہ تحریر کرایا تھا جس میں ان شرائط کی تفصیل تھی، اس میں سے جزیہ کی ادائیگی اور اس کی مقدار کی تعیین بھی تھی۔

پھر یہ لوگ رسول اللہﷺ‏ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ان شرائط سے متعلق فرمان نامہ ان کو تحریر کر دیا پھر جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؓ نے انہیں نجران یمن سے جلا وطن کر کے نجران عراق میں آباد کر دیا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے لیے فرمان نامہ تحریر کر دیا۔

(الخراج، ابو یوسف: صفحہ، 74) 

جب سیدنا عمر فاروقؓ وفات پا گئے اور مسندِ خلافت پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جلوہ افروز ہوئے تو یہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؓ نے اپنے عامل حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے نام یہ فرمان نامہ تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عبداللہ عثمان بن عفانؓ امیر المؤمنین کی طرف سے سیدنا ولید بن عقبہؓ کے نام۔

سلام اللہ علیک، یقیناً میں اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! اہلِ نجران جو عراق میں آباد ہیں ان کے پادری اور ذمہ دار افراد میرے پاس حاضر ہوئے اور شکایت کی اور مجھے حضرت عمر فاروقؓ کی شرط کو دکھایا۔ مسلمانوں سے جو انہیں تکلیف پہنچی ہے اس کا مجھے علم ہے لہٰذا میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس جوڑے کم کر دیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے واسطے چھوڑ دیا ہے اور یمن سے منتقل کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو زمینیں انہیں عطا کی تھیں وہ سب ان کو دے دی ہیں لہٰذا تم ان کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کرو کیوں کہ ان کے لیے ذمہ ہے اور میرے اور ان کے مابین معرفت ہے۔ تم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان نامہ کو دیکھو اور اس میں جو کچھ ہے اس کو پورا کرو اور جب یہ فرمان نامہ پڑھ لو تو پھر اس کو انہیں واپس کر دو۔

والسلام

(الخراج، ابو یوسف: صفحہ، 74) 

یہ پندرہ شعبان 27ھ کا واقعہ ہے۔ 

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 105) 

مذکورہ بالا خط سے مندرجہ ذیل حقائق ہمارے سامنے واضح ہوتے ہیں:

الف: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ‏ کے عہد کو اور آپؓ کے بعد صاحبین حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے عہد کو پورا کیا اور یہ اسلام کے عام اصول کا اثر ہے وہ یہ کہ جب کوئی شخص عہد و پیمان کرے یا کوئی وعدہ کرے تو اس کو پورا کرے۔

ب: حضرت عثمان بن عفانؓ نے جزیہ میں تخفیف فرمائی اور ان کی پوری زمین ان کو دے دی اور اپنے گورنر سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمر فاروقؓ کے مکتوب میں ان سے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کو پورا کریں اور ان کے ساتھ برتاؤ کریں کیوں کہ وہ اہلِ ذمہ ہیں۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 105)