عہد عثمانی میں حکومت کے عام اخراجات میں ذمیوں کی شرکت
علی محمد الصلابیجزیہ سے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں جب دوسری مرتبہ اسکندریہ فتح کیا گیا تو اخناء کا حاکم جس کا نام طلما تھا سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: بتلایئے کہ ہم میں سے ہر فرد پر کیا جزیہ عائد ہوتا ہے اسے اس سے وصول کیا جائے؟
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کنیسہ کے ایک ستون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم ہمارا خزانہ ہو اگر اخراجات زیادہ ہیں تو ہم تم سے زیادہ لیں گے اور اخراجات کم ہیں تو ہم تم سے کم وصول کریں گے۔ اس پر وہ ناراض ہو گیا اور جا کر رومیوں سے مل گیا اور ان سے مل کر مسلمانوں پر چڑھائی کر دی آخرکار گرفتار ہو کر سیدنا عمرو بن العاصؓ کی خدمت میں حاضر کیا گیا۔ لوگوں نے کہا: اسے قتل کر دیں حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا: نہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ آپؓ کی خدمت میں لایا گیا تو آپؓ نے اس کو کنگن پہنائے اس کے سر پر تاج رکھا اور سرخ رنگ کا برنس اس کو پہنایا اور اس سے کہا: اس طرح کے لوگوں کو میرے پاس لاؤ لہٰذا وہ جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گیا۔
طلما سے کہا گیا: اگر تو شاہِ روم کے پاس اس طرح پیش کیا جاتا تو کیا ہوتا؟ اس نے کہا: وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو قتل کر دیتا۔
(فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ، 102)
جس وقت ہم سیدنا عمرو بن العاصؓ کے اس قول تم ہمارا خزانہ ہو اگر اخراجات زیادہ ہیں تو ہم تم سے زیادہ لیں گے اور اگر اخراجات کم ہیں تو کم لیں گے کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے عہدِ عثمانی میں غیر مسلموں کے لیے مالی سیاست کے مندرجہ ذیل بعض اصول و مبادی سامنے آتے ہیں:
1: ذمی حضرات جزیہ کی ادائیگی کے ذریعہ سے اسلامی بیت المال کے ساتھ تعاون کریں گے۔ وہ بیت المال کا خزانہ ہیں، جزیہ کی شکل میں بیت المال کو اپنا حصہ ان کے مال میں سے ملے گا۔
2: ذمیوں کے مال میں جزیہ کی مقدار حکومت کے اخراجات کی روشنی میں متعین ہو گی اگر اخراجات زیادہ ہوئے تو جزیہ میں اضافہ ہو گا اور اگر اخراجات میں کمی ہوئی تو اسی حساب سے جزیہ کی مقدار بھی کم ہو جائے گی۔
3: حکومت کے اخراجات کے مطابق جزیہ کی مقدار میں اضافہ و کمی اس اصول کا نتیجہ ہے کہ ہر شہری کی ملک کے عام اخراجات میں شرکت ضروری ہے، ہر فرد اپنی طاقت کے مطابق اس میں حصہ لے تاکہ اخراجات کی تقسیم و توزیع میں عدل و انصاف قائم ہو اور ذمیوں کے ساتھ حسن معاملہ کی نبوی وصیت کا تقاضا بھی یہی ہے۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 107)