عہد عثمانی میں خراج و عشر کی عام آمدنی
علی محمد الصلابی1: خراج: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھا۔ ان فتوحات کے نتیجہ میں مفتوحہ ممالک کی زرعی زمینیں اسلامی خلافت کے قبضہ میں آئیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ انہیں مسلمانوں کے لیے مالِ فے قرار دے کر ان کے مالکین اہلِ کتاب کے ہاتھوں میں باقی رکھا جو اپنے دین پر باقی رہنا چاہتے تھے کہ وہ ان زمینوں کو کاشت کریں اور بیت المال کو خراج ادا کریں چوں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اسلامی فتوحات کا پھیلاؤ بڑھا اس لیے خراج کی شکل میں بیت المال کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 113)
2: تجارتی عشر: عہدِ فاروقی میں عشر کا نظام ان اسس و قواعد پر قائم رہا جسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وضع کیا تھا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بظاہر عام طور سے تجارتی عشر کی آمدنی میں اضافہ ہوا کیوں کہ فتوحات کی وجہ سے اسلامی سلطنت کی مساحت میں کافی اضافہ ہوا اور پھر بعض لوگوں کے پاس مال و ثروت میں کافی اضافہ ہوا جس کی وجہ سے عام طور سے قوتِ خرید بڑھی، خصوصاً عہدِ عثمانی کے ابتدائی سالوں میں جن میں کہ استقرار اور امن و امان بحال رہا اور قوتِ خرید میں اضافہ کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں در آمدات میں زیادتی ہوتی اور پھر در آمد شدہ اشیاء پر اصول و ضوابط کے مطابق تجارتی عشر نافذ ہوتا ہے۔
اسی طرح عہدِ عثمانی میں اشیاء کی قیمتوں میں ارتفاع بھی تجارتی عشر کے اضافہ کے بنیادی اسباب و عوامل میں سے ثابت ہوا کیوں کہ تجارتی عشر ایک طرح کا ٹیکس ہے جس میں قیمت کا اعتبار کیا جاتا ہے، اشیاء کی قیمتوں پر متعین شرح سے وصول کیا جاتا ہے۔ اشیاء کی نوعیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 123)