Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زمینوں کی جاگیر سے متعلق سیاست عثمانی

  علی محمد الصلابی

زمینوں کی اصلاح و کاشت کی غرض سے لوگوں کو جاگیر پر اسے دینے کی سیاستِ نبوی پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قائم رہے چنانچہ جرف اور قناۃ 

(الطبقات الکبریٰ، ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 104)

کے مابین پڑی ہوئی زمین کو سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہما کو عطا کیا اور سیدنا مجاعہ بن مرارہ حنفیؓ کو یمامہ کا ایک گاؤں خضرمہ عطا کیا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ، العمری: صفحہ، 220)  

اور زبرقان بن بدر کو جاگیر دینے کا ارادہ کیا لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اعتراض کی وجہ سے رک گئے۔ اسی طرح سیدنا عیینہ بن حصن فزاری رحمۃ اللہ اور سیدنا اقرع بن حابس تمیمی رحمۃ اللہ کو ایک بنجر زمین اس کی اصلاح کی خاطر دینا چاہی، لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس رائے کو اختیار کرتے ہوئے رک گئے کہ اب دونوں کے تالیفِ قلب کی ضرورت نہ رہی، فرمایا: رسول اللہﷺ‏ جب اسلام کمزور تھا تو تالیفِ قلب کی خاطر تم دونوں کو نوازتے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے، جاؤ خود محنت کرو۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ زمینوں کی اصلاح کی خاطر جاگیر عطا کرنے کے مخالف نہ تھے بلکہ تالیفِ قلب کی خاطر مخصوص افراد کو جاگیر عطا کرنے کے مخالف تھے۔ خود سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں زمینوں کی اصلاح کی خاطر نبوی سیاست پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جاگیر عطا کرنے میں بڑی وسعت سے کام لیا اور یہ فرمان نامہ جاری کیا: 

جو مردہ غیر آباد زمین کو آباد کرے وہ اس کی ہے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ، العمری: صفحہ، 221)

کچھ ضعیف روایات وارد ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جاگیر کی زمینوں کی ملکیت ان حضرات سے واپس لے لی جو اس کی اصلاح نہ کر سکے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ، العمری: صفحہ، 221)  

اور ضعیف روایت سے اس کے لیے تین سال کی مدت کی تحدید ظاہر ہوتی ہے یعنی جو حضرات جاگیر ملنے کے تین سال کے اندر زمین کو کام میں نہیں لا سکتے تھے ان کی ملکیت سلب کر لی جاتی تھی۔ 

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ آپؓ نے سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کو غیر آباد زمین جاگیر میں عطا کی۔ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کو عقیق کی پوری زمین عطا کر دی۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ینبع کی زمین دی اور اس میں کافی پانی نکل آیا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس کو فقراء کے لیے وقف کر دیا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ، العمری: صفحہ، 222)

جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو جاگیر عطا کرنے میں توسع سے کام لیا، خاص کر ان مفتوحہ علاقوں میں جہاں مالکان اپنی زمینیں چھوڑ کر فرار ہو گئے اور یہ زمینیں لاوارث ہو گئیں اور ان کی آباد کاری اور استثمار حکومت کی ذمہ داری قرار پائی لہٰذا حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ان کے بنجر پڑ جانے اور غیر مزروعہ رہ جانے کے خوف سے لوگوں میں بطورِ جاگیر تقسیم کر دی۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ، العمری: صفحہ، 223) 

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کا کہنا ہے کہ ارضِ سواد (عراق کے سرسبز و شاداب علاقے کو سواد کہا جاتا ہے۔) میں سے بھی جاگیر دی، لیکن اس میں کوئی اشکال نہیں کیوں کہ بہت سی لاوارث زمینیں ارضِ سواد میں بھی تھیں بہرحال لاوارث زمینوں کو بطورِ جاگیر دینے کی وجہ سے آمدنی میں کافی اضافہ ہوا چنانچہ لاوارث زمینوں کی آمدنی دورِ فاروقی میں نو ہزار درہم تھی اور دورِ عثمانی میں یہ آمدنی بڑھ کر پچاس ملین درہم کو پہنچ گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاوارث زمینوں کا انتظام و انصرام دورِ عثمانی میں کامیاب رہا۔

تاریخی مصادر میں ان حضرات کے ناموں کی فہرست بیان کی گئی ہے جنہیں سیدنا عثمانِ غنیؓ نے جاگیر عطا کی ان میں اکثر غیر قرشی تھے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے جاگیر عطا کرنے سے متعلق اکثر روایات ضعیف ہیں لیکن مجموعی طور سے جاگیر عطا کرنے میں توسیع ثابت ہوتی ہے۔ ان جاگیر داروں کے نام یہ ہیں:

٭ سیدنا عبداللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ (دریائے بیل اور سواد کے درمیان کی زمین)

٭ سیدنا عمار بن یاسر عنسی رضی اللہ عنہ (أستینیا) 

٭ سیدنا خباب بن ارت تمیمی رضی اللہ عنہ (صعبنی سواد کا ایک گاؤں)

٭ سیدنا عدی بن حاتم طائی رحمۃ اللہ (دریائے عبس پر واقع بغداد کے مضافات میں واقع ایک گاؤں الروحاء)

٭ سیدنا سعد بن ابی وقاص زہری قرشی رضی اللہ عنہ (فارس کا ایک گاؤں ہرمز)

٭ سیدنا زبیر بن العوام قرشی رضی اللہ عنہ

٭ سیدنا اسامہ بن زید کلبی رضی اللہ عنہما

٭ سیدنا سعید بن زید عدوی قرشی رضی اللہ عنہ

٭ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ (فرات کے ساحل پر ایک زمین)

٭ ابنِ ہبار رحمۃ اللہ

٭ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ تمیمی قرشی رضی اللہ عنہ (نشاستج کوفہ کی ایک زمین)

٭ سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ (کوفہ میں زرارہ گاؤں کے قریب ایک زمین)

٭ سیدنا خالد بن عرفطہ قضاعی (کوفہ میں حمام اعین کے پاس ایک زمین)

٭ سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ (طیزناباذ کوفہ اور قادسیہ کے درمیان ایک مقام)

٭ ابو مربد حنفیؒ (دریائے تیری پر اہواز کی ایک زمین)

٭ نافع بن حارث بن کلدہ ثقفیؒ (بصرہ میں شط عثمان کے پاس ایک زمین)

٭ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (حمام عمرہ کے پاس ایک زمین)

٭ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ (بصرہ میں شط عثمان کے پاس ایک زمین )

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان زمینوں کے مالکان کے چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے یہ زمینیں غیر آباد ہو گئی تھیں اور حضرت عثمانِ غنیؓ نے ان زمینوں کو جاگیر کے طور پر لوگوں میں تقسیم کر کے ان کی آباد کاری اور کاشت کاری کرانا چاہی تاکہ یہ بے کار نہ پڑی رہیں۔ اور سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے طرزِ عمل سے بھی یہی ظاہر ہوتا کہ انہوں نے شام کے سواحل میں زمینوں کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر کے ان کو آباد کرنا اور رومیوں کے حملہ کے مقابلہ کے لیے تیار کرنا چاہا تھا۔ اسی طرح سیدنا عثمان بن عفانؓ کے حکم سے انطاکیہ اور قالیقلا کی کچھ زمینیں جاگیر پر دی گئیں۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ، 224)

مروان بن حکم سے متعلق یہ جو مشہور ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے انہیں فدک کو بطورِ جاگیر عطا کر دیا تھا یہ صحیح طرق سے ثابت نہیں ہے اور یہ بھی اس سلسلہ میں کہا گیا کہ فدک کو حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے مروان کو دیا تھا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ، 225)

اراضی کو بطورِ جاگیر لوگوں کو عطا کرنے کی عثمانی سیاست بیت المال کی آمدنی میں اضافہ کا سبب ثابت ہوئی کیوں کہ سبھی لوگ شروطِ زکوٰۃ کے مکمل ہونے کی صورت میں اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے لگے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ عراق میں حکومت کے خاص املاک کی آمدنی میں زیادتی اس کی واضح دلیل ہے چنانچہ آپؓ کے دورِ حکومت میں یہ آمدنی 50،000،000 درہم پہنچ گئی جب کہ دورِ فاروقی میں صرف 900،000 درہم تھی۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 118)