Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اراضی کو حکومتی چراگاہ میں تحویل کرنے کی عثمانی سیاست

  علی محمد الصلابی

یہ وہ اراضی تھی جو حکومت کے اونٹوں اور گھوڑوں کے چرنے کے لیے خاص کر دی گئی تھی۔ وادی نقیع کو رسول اللہﷺ‏ نے گھوڑوں کے لیے خاص کر دیا تھا۔

(صحیح سنن ابی داود، الالبانی: جلد، 2 صفحہ، 595) 

اس کا طول اسی (80) کلومیٹر تھا جو مدینہ کے جنوب میں چالیس کلومیٹر پر شروع ہوتا تھا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ، 225، 226)

خلافتِ صدیقی اور فاروقی میں اس کی یہی حالت باقی رہی، اور خلافتِ فاروقی میں اس طرح کی چراگاہوں میں کافی اضافہ ہوا کیوں کہ جہاد کے لیے حکومت کے گھوڑوں اور اونٹوں میں اضافہ ہوا چنانچہ آپؓ نے ربذہ کو زکوٰۃ کے جانوروں کے لیے خاص کر دیا اور وہاں اپنے غلام (ھنی) کو مقرر کیا اور انہیں حکم دیا کہ جن کے پاس معمولی اونٹ ہیں انہیں یہاں چرانے دینا البتہ مال داروں کو یہ موقع نہ دینا۔ اسی طرح آپؓ نے دیار بنی ثعلبہ میں ایک زمین کو چراگاہ کے لیے خاص کر دیا باوجود یہ کہ ان لوگوں نے اس پر بڑا احتجاج کیا، آپؓ نے ان کے جواب میں فرمایا: 

ملک اللہ کا ہے اور اللہ ہی کے مال کے لیے اس کی حفاظت کی جا رہی ہے۔

(الطبقات: جلد، 3 صفحہ، 326 یہ اثر صحیح ہے۔)

عہدِ عثمانی میں اسلامی سلطنت کی وسعت اور فتوحات میں اضافہ کے سبب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے پیش رو سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے منہج کو اختیار کیا۔ آپؓ نے چراگاہوں کی تخصیص مسلمانوں کے صدقات کی حفاظت و حمایت کے لیے کی، چنانچہ جب چرنے والے جانوروں میں اضافہ ہوا تو چراگاہوں میں بھی اضافہ کیا اور جو چیز ضرورت کے تحت جائز ہو تو ضرورت میں اضافہ کی صورت میں اس میں اضافہ بھی جائز ہو گا۔

(نظام الخلافۃ فی الفکر الاسلامی، د۔ مصطفیٰ حلمی: صفحہ، 78)

جب حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے چراگاہوں کی تخصیص فرمائی تو کسی نے اعتراض نہ کیا تو جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے اونٹوں اور جانوروں میں کثرت اور چرواہوں کے مابین اختلاف میں کثرت کے سبب چراگاہوں میں اضافہ کیا، تو یہ قابلِ اعتراض نہیں ہو سکتا ہے۔

(نظام الخلافۃ فی الفکر الاسلامی، د۔ مصطفیٰ حلمی: صفحہ، 78) 

بلکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ نے چراگاہوں کو جو حکومت کی تحویل میں لیا تو یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مشہور و معروف تھا کسی نے بھی اس پر نکیر نہیں کی لہٰذا یہ اجماع و اتفاق سمجھا جائے گا۔

(نظام الاراضی فی صدر الدولۃ الاسلامیۃ: صفحہ، 169)

چنانچہ ابنِ قدامہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

(المغنی ابنِ قدامۃ: جلد، 5 صفحہ، 581)