مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

اور شیعہ عالم کو دلیل اور استدلال درست نہیں لگ رہا!!

اہم سوال: کیا امام معصوم کا قول اہل تشیع کے ہاں حجت نہیں ہے۔؟؟

♦️ اہل سنت استدلال شیعوں پر چسپاں کیا گیا ہے! (ابوھشام) 

حقیقت:  اصول کافی کی روایت بمعہ چار جید شیعہ علماء کی توثیق اور وضاحت پیش کی گئی ہے۔

– علامہ مجلسی نے نہ صرف سند کو صحیح کہا ہے بلکہ متن سے لفظی تحریف قرآن تسلیم کرتے ہوئے نقص القرآن و تغییر کے الفاظ بیان کئے ہیں!!

♦️ شیعہ عالم ابوھشام کی صریح جہالت! اور علامہ باقر مجلسی کی تضاد بیانی!

لفظ “تغییر” بحار الانوار سے دکھا کر فرما رہے ہیں کہ علامہ مجلسی نے تحریف القرآن کا انکار کیا ہے اور قرآن کریم کو محفوظ تسلیم کیا ہے۔

⬅️ یہ دیکھیں کھلا تضاد➡️

تغییر کا لفظ دونوں جگہ

 ایک جگہ نقص اور تغییر قرآن میں ہے (شرح اصول کافی)

دوسری جگہ تغییر قرآن میں نہیں ہے۔ (بحارالانوار)

غور فرمائیں:  وہی لفظ “تغییر” مرآة العقول میں سترہ ہزار آیات کے تحت لکھتے ہوئے علامہ باقر مجلسی نے نقص اور ایسی روایات کو متواتر معنوی کہہ کر تحریف قرآن کو تسلیم کیا ہے!! 

✳️ علامہ باقر مجلسی کی یہ تضاد بیانی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟؟ نقص القرآن اور تغییر جیسے صریح لفظ تحریف قرآن پر دلالت کرتے ہیں!

 ⬅️ ابوھشام کی عجیب جاہلانہ تاویل➡️

علامہ مجلسی کے ذہن میں نقص القرآن  کے معنی تحریف سے الگ ہیں۔ (ابوھشام)

مطلب پوری دنیا نقص کے لفظ کی معنی عیب، خرابی،غلطی، گھٹانا، بڑھانا، کمی، زیادتی وغیرہ سمجھتی ہے۔

لیکن علامہ باقر مجلسی کی لغت میں نقص کا مطلب بے عیب، کمی بیشی سے پاک، اچھائی، خوبی، محفوظ حالت وغیرہ ہے!!

♦️ ابوھشام کی غیر ضروری باتیں

– ناسخ و منسوخ پر گفتگو!! جبکہ یہ موضوع زیر بحث نہیں تھا۔ اہل سنت کے نزدیک ناسخ و منسوخ  کو کسی عالم نے تحریف قرآن نہیں سمجھا!

– ابوھشام اپنے چار جیّد علماء کا دفاع نہ کرسکے بلکہ ان کی مذمت بھی نہ کرسکے!!

اجتہادی خطا کہہ کر دفاع کیا مطلب روایت بھی صحیح ، توثیق بھی صحیح لیکن تحریف قرآن کا اقرار بھی تسلیم نہیں کرنا!!

♦️ابوھشام کی طرف سے صحیح السند روایت کا ایک راوی بدل کر روایت کو ضعیف قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی گئی!!

اہم سوال جو شیعہ عالم ابوھشام سے بار بار پوچھا گیا۔

– اصول کافی میں محمد بن احمد اگر السیاری ہے تو یہ علم ابوھشام کو کیسے ہوگیا؟

جبکہ چار جید شیعہ علماء کرام اتنی اہم بات سے لاعلم رہے اور اس روایت کی توثیق کرتے ہوئے تحریف القرآن کے عقیدے کو بھی بیان کردیا!!

♦️ ابوھشام کی ایک اور جہالت

راوی اپنی مرضی سے بدل کر فریق مخالف سے مطالبہ کیا گیا کہ ثابت کیا جائے کہ اس روایت میں السیاری نہیں ہے۔۔۔!!!

جبکہ اہل سنت نے دلیل میں بطور دلیل چار جیّد شیعہ علماء سے پہلے ہی ثابت کردیا تھا کہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق صحیح السند ہے، مطلب سند میں السیاری جیسا کوئی راوی ضعیف نہیں ہوسکتا!

⬅️ ابوھشام کو شیعہ علماء سے ثابت کرنا تھا کہ اصول کافی میں اس روایت کا راوی محمد بن احمد السیاری ہے!!

– ابوھشام نے ذاتی رائے سے ایک راوی کو بدل کر صحیح روایت کو ضعیف کردیا!! لیکن ثابت نہیں کر سکا کہ 

1️⃣ کس شیعہ عالم نے اس روایت کی سند میں السیاری کا ذکر کیا ہے؟

2️⃣ السیاری جیسے ضعیف راوی کے ہوتے ہوئے چار جید شیعہ علماء کرام اس روایت کو صحیح کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟

♦️ طوفان بدتمیزی کا الزام!!

مکمل گفتگو سن کر یہ فیصلہ کرنا نہایت آسان ہے کہ کس فریق نے زیر بحث نکات سے باہر گفتگو کی اور ذاتیات پر باتیں کہہ کر وقت ضایع کیا۔

♦️ شیعہ عالم ابوھشام کی نام نہاد تحقیق!!!

السیاری کی کتاب سے وہی روایت جو اصول کافی سے پیش کی گئی تھی، اسے دکھا کر دعوی کیا گیا کہ مصنف السیاری اس روایت کی سند میں ثابت ہوگیا۔

حقیقت: کسی مصنف کا اپنی کتاب میں کوئی روایت شامل کرنا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ خود بھی سند میں موجود ہے۔

✳️ ابوھشام کی فاش غلطی!!

ابو ہشام نے دعوی کیا کہ وہ دوسرے علماء سے بھی دکھا دے گا کہ اس اصول کافی کی روایت میں السیاری ہے۔

جبکہ آخر دن تک ان سے پوچھا گیا لیکن وہ ایک بھی عالم سے نہ دکھا سکے کہ اصول کافی کی اس روایت میں السیاری نام کا کوئی راوی ہے۔!

بالآخر اپنی بات سے مکرتے ہوئے کہنے لگے کہ

“راوی السیاری ہے یا نہیں اس پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے!!!”

⬅️ ایک اور جہالت➡️

چار جید شیعہ علماء کرام کی تحقیق کا جنازہ نکال دیا!!! ابوھشام کی ذاتی رائے کے مطابق یہ روایت منقطع ہے!! مرسل روایت ہے!!

♦️ اہل تشیع کے پاس صرف  دو راستے :

1️⃣ توثیق کرنے والے جھوٹے ہیں، سند کے تمام راوی بشمول چار جیّد شیعہ علماء کی مذمت اور ان سے ہاتھ اٹھایا جائے!!

2️⃣ اہل تشیع اعلان کردیں کہ سند کے راوی اور چار جیّد علماء سے متفق ہیں اور موجودہ قرآن کریم میں معاذاللہ  نقص ، تغییر ہوگیا ہے اور کچھ حصہ ساقط کردیا گیا ہے۔  

⬅️ بیچ کا کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔

اہل سنت کا دو ٹوک مؤقف

آج کوئی ذرا بھی قرآن کریم میں شک کرے گا تو وہ بالاتفاق کفر کا مرتکب ہوگا۔

حضرت ابن عباسؓ  دور نبوی کے جلیل القدر صحابی رسولﷺ ہیں، اس وقت سات لہجوں  کا قرآن کریم رائج تھا۔ علمائے اہل سنت کے نزدیک اس روایت میں حضرت ابن عباس کا قول فرد واحد کا  قول ہے ۔ عین ممکن ہے دور نبوی کی کسی قرآت میں تستانسو کی جگہ تستاذنو پڑھا جاتا ہو کیونکہ معنی و مفہوم میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ 

۔ قرآن کریم جمع کرتے وقت قریشی لہجہ، اکثریت رائے اور نبی کریم  ﷺ کے سامنے وحی کی کتابت کو براہ راست  دیکھ کر موجودہ قرآن کریم کی کتابت کی گئی ہے۔ یہی قرآن کریم دور نبویﷺ  سے ہر دور میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لئے کسی فرد واحد کے قول کی متواتر روایات کے آگے کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

– بنص قرآن کسی ایک کاتب کی خطا سے قرآن کریم کا کوئی لفظ بدل جانا ناممکنات میں سے ہے۔

♦️ آخری کوشش کہ اہل سنت کو تحریف قرآن کا قائل ثابت کیا جائے!

صفحہ 3 از 4