مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4

– ابوھشام نے اصول کافی کی روایت پر بات کرنے کے بجائے اہل سنت کو تحریف القرآن کا قائل ثابت کرنے کی کوشش کی!!
– شیعوں کی مجبوری ہے کہ اہل سنت پر تحریف ثابت کی جائے بصورت دیگر اپنے لوگوں کو سمجھانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے قرآن کریم کو محفوظ کیسے کر لیا جبکہ صحابہ کرام تو شیعوں کے مطابق معاذاللہ بعد از نبی مرتد ہوچکے تھے!!

حضرت ابن عباس کے اس قول کو کسی ایک اہل سنت عالم نے تحریف القرآن پر محمول نہیں کیا !!

جبکہ اصول کافی میں سترہ ہزار آیات کو نہ صرف شیعہ جید علماء نے صحیح تسلیم کیا ہے بلکہ اس روایت سے قرآن کریم میں معاذاللہ نقص، تغییر، ساقط اور تحریف تک بیان کیا ہے!!

♦️ تعداد آیات کا اختلاف:

– آیات نمبر، نکتے، اعراب بعد میں قرآن کریم میں لفظوں پر لگائے گئے تاکہ غیر عرب مسلمان صحیح تلفظ سے قرآن کریم کی تلاوت کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل تعداد آیات میں اختلاف ہے۔

– تعداد آیات میں اختلاف کا قرآن کریم کی تحریف سے کوئی تعلق نہیں ہے!! کیونکہ اس اختلاف سے قرآن کریم میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ بیشک قرآن کریم کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے اور متواتر چلا آ رہا ہے۔!!


آڈیو


ڈاؤن لوڈ

ڈاؤن لوڈ

صفحہ 4 از 4