عہد عثمانی میں عام اخراجات کے انواع و اقسام
علی محمد الصلابیخلیفہ کے اخراجات
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیت المال سے اپنے اخراجات کے لیے کچھ بھی نہیں لیتے تھے کیوں کہ قریش میں سب سے زیادہ مال دار اور بہت بڑے تاجر تھے۔ اپنے اور اپنے اہل و عیال اور اقرباء پر اپنے مالِ خاص سے خرچ کرتے تھے۔
بیت المال سے گورنروں کی تنخواہ
عہدِ عثمانی میں اسلامی سلطنت مختلف صوبوں میں منقسم تھی، ہر صوبے کا ایک گورنر ہوتا تھا جسے خلیفہ مقرر کرتا تھا، اس کو بیت المال سے تنخواہ ملتی تھی اور وہ اسلامی شریعت کے مطابق صوبے کا انتظام و انصرام سنبھالتا تھا۔ اگر صوبے کے بیت المال پر خلیفہ کسی کو اپنا نمائندہ مقرر نہ کرتا تو گورنر ہی کے اختیار میں جزیہ و خراج اور تجارتی عشر کے وصول کی نگرانی ہوتی اور وہ پھر صوبے کی ضروریات پر اس کو خرچ کرتا اور جو زائد ہوتا اسے مدینہ میں مرکزی بیت المال کو بھیج دیتا، رہی زکوٰۃ تو اسے مال داروں سے لے کر صوبے کے فقراء پر خرچ کر دیا جاتا تھا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 130)
بیت المال سے فوج کی تنخواہ
اسلامی فوج کو مالِ غنیمت کے علاوہ بیت المال سے تنخواہ دی جاتی تھی چنانچہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مصری فوج کے سلسلہ میں مصر کے گورنر سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا:
تمہیں معلوم ہے کہ امیر المؤمنینؓ کو اسکندریہ کی کس قدر فکر رہتی ہے، رومی دو مرتبہ عہد توڑ چکے ہیں لہٰذا اسکندریہ میں رباط کو لازم پکڑو اور ان افواج کو تنخواہ جاری رکھو اور ہر چھ ماہ پر ان کی باری بدل دیا کرو۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 140)
بیت المال سے حج کے عام اخراجات:
عہدِ عثمانی میں حج کا عام خرچ بیت المال سے ادا کیا جاتا تھا اور غلافِ کعبہ قباطی سے تیار کرایا جاتا تھا جو مصر کا تیار کردہ سوتی کپڑا ہوتا تھا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 140، 141)
بیت المال سے مسجدِ نبوی کی تعمیرِ نو:
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مسندِ آرائے خلافت ہوتے ہی لوگوں نے آپؓ سے مطالبہ کیا کہ مسجدِ نبوی کی توسیع کی جائے کیوں کہ فتوحات کی کثرت اور مدینہ کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے جمعہ کے لیے مسجد تنگ پڑنے لگی تھی۔ چنانچہ سیدنا عثمان بن عفانؓ نے اس سلسلہ میں اصحابِ حل و عقد سے مشورہ کیا تمام لوگوں نے اس پر اتفاق کیا کہ مسجد کی پرانی عمارت کو منہدم کر کے اس کی جدید تعمیر، توسیع کے ساتھ کی جائے۔
(المسند: صفحہ، 434 اسنادہ صحیح)
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز لوگوں کو پڑھائی پھر منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:
لوگو! میرا ارادہ ہے کہ مسجدِ نبوی کو منہدم کر کے توسیع کے ساتھ اس کی تعمیرِ نو کروں، میں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:
من بنی للّٰه مسجدا بنی اللّٰه لہ بیتاً فی الجنۃ
ترجمہ: جس نے اللہ کے لیے مسجد کی تعمیر کی اس کے لیے اللہ نے جنت میں گھر تعمیر کیا۔
اس سلسلہ میں میرے لیے پیش رو موجود ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سبقت کی ہے، آپؓ نے مسجدِ نبوی کی توسیع و تعمیر کی ہے۔ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اصحابِ حل و عقد سے مشورہ کیا ہے انہوں نے اس کو منہدم کر کے اس کی توسیع اور تعمیرِ نو سے اتفاق کیا ہے۔
لوگوں نے اس کی تحسین فرمائی اور آپؓ کے لیے دعا کی۔ دوسری صبح عمال کو بلایا اور بذاتِ خود اس کام میں شریک ہوئے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 60 تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 267)
بیت المال سے مسجدِ حرام کی توسیع
رسول اللہﷺ کے دور میں کعبہ موجود تھا، اور اس کے چاروں طرف تنگ سا صحن تھا لوگ اس میں نماز پڑھتے تھے، خلافتِ صدیقی میں مسجدِ حرام کی یہی صورت رہی، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجدِ حرام میں توسیع فرمائی، کعبہ سے قریب مکانات کو خرید کر منہدم کر دیا اور چاروں طرف ایک نیچی دیوار قائم کر دی اور رات میں روشنی کا انتظام فرمایا کیوں کہ اسلامی فتوحات اور فوج در فوج لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے آنے والے حجاج کے لیے مسجدِ حرام تنگ پڑ گئی تھی، چنانچہ جب دوسری مرتبہ عہدِ عثمانی میں مسجدِ حرام تنگی کا شکار ہو گئی تو آپؓ نے مسجد سے قریب مکانات کو خرید کر مسجدِ حرام میں شامل کر دیا اور چاروں طرف سے ایک نیچی دیوار قائم کر دی جو قدِ آدم سے متجاوز نہ تھی جیسا کہ اس سے قبل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 250 ذوالنورین، محمد رشید: صفحہ، 25)
اسی طرح گورنر اور صوبوں کے والی اپنے اپنے صوبوں میں مساجد کی تعمیر میں بیت المال سے خرچ کرتے تھے جیسا کہ اسکندریہ میں مسجدِ رحمت اور اصطخر میں مسجد کی تعمیر پر خرچ کیا گیا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 147، 148)
پہلا بحری بیڑا بیت المال سے تیار کیا گیا
اسلام میں پہلے اسلامی بحری بیڑے کو عہدِ عثمانی میں بیت المال سے تیار کیا گیا۔ اسلامی فتوحات میں اس بیڑے کی کارکردگی کا تذکرہ فتوحات کے بیان میں ان شاء اللہ آئے گا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 148)
بندرگاہ جدہ کی تعمیر پر خرچ
26 ہجری میں اہلِ مکہ نے حضرت عثمان بن عفانؓ سے گفتگو کی کہ شعیبہ جو دورِ جاہلیت ہی سے مکہ کی قدیم بندرگاہ تھی اس کے بجائے جدہ کو بندرگاہ بنا دیا جائے کیوں کہ یہ مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ بذاتِ خود جدہ تشریف لے گئے اس کے موقع و محل کا مشاہدہ کیا اور وہاں بندرگاہ کی تعمیر کا حکم فرمایا۔ سمندر میں داخل ہو کر غسل فرمایا اور فرمایا: یہ بابرکت ہے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا: سمندر میں اتر کر غسل کریں لیکن بغیر ازار کے کوئی غسل نہ کرے۔
پھر آپؓ عسفان کے راستے مدینہ واپس ہوئے اور اسی وقت سے لوگوں نے شعیبہ کو ترک کر کے جدہ کو بندرگاہ بنا لیا اور آج تک یہ مکہ مکرمہ کی بندرگاہ ہے۔
(ذوالنورین عثمان بن عفان، محمد رشید: صفحہ، 26)
بیت المال سے کنوؤں کی تعمیر
عہدِ عثمانی میں بیت المال سے جو کام انجام دیے گئے انہی میں سے مدینہ میں پینے کے پانی کے لیے کنویں کی تعمیر تھی جس کا نام بئرِ اریس تھا یہ مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ کنواں سن 30ھ میں تعمیر کیا گیا۔ ایک روز حضرت عثمانِ غنیؓ اس کنویں کی منڈیر پر بیٹھے اور آپؓ کے ہاتھ میں رسول اللہﷺ کی انگوٹھی تھی وہ انگلی سے سرک کر کنویں میں گر گئی، لوگوں نے اس کو کنویں میں تلاش کیا اور اس کا سارا پانی نکال باہر کیا لیکن انگوٹھی کا سراغ نہ لگا۔ آپؓ نے اس کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا اور اس کے نہ ملنے پر آپؓ کو شدید غم لا حق ہوا جب آپؓ اس انگوٹھی سے مایوس ہو گئے تو پھر آپؓ نے اسی کے مثل دوسری انگوٹھی چاندی کی تیار کرائی اور اس میں محمد رسول اللہﷺ کندہ کرایا اور اس کو پہنا وہ برابر آپؓ کی انگلی میں رہی یہاں تک کہ آپؓ نے جامِ شہادت نوش کیا، شہادت کے بعد وہ انگوٹھی ضائع ہو گئی اور نامعلوم کس نے اس کو لے لیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 161 تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 284)
بیت المال سے مؤذنوں پر خرچ
سیدنا عثمان بن عفانؓ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے بیت المال سے مؤذنوں کا وظیفہ مقرر فرمایا:
امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
ہدایت کے امام حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مؤذنوں کا وظیفہ جاری فرمایا۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 14)
حضرت عثمان بن عفانؓ نے اذان پر وظیفہ مقرر کیا، اجرت نہیں۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 14)
اسلام کے بلند مقاصد و اہداف پر خرچ
بیت المال سے سابقہ عام اخراجات کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ملک کے انتظام و انصرام اور رعایا کے مصالح پر خرچ کے علاوہ اسلامی سلطنت کے مقاصد و اہداف کی تمویل میں بیت المال کا اہم کردار رہا ہے۔ پھر اسلام کی نشر و اشاعت پر خرچ کیا گیا تاکہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے۔ اسلامی سلطنت کے لیے اس سے پہلا بحری بیڑا تیار کیا گیا۔ بیت اللہ اور مساجد کی تعمیر و تجدید پر خرچ کیا گیا۔ مؤذنوں، گورنروں، قاضیوں، فوج اور حکومت کے عاملین کے وظائف مقرر کیے گئے، سفرِ حج اور غلافِ کعبہ پر خرچ کیا گیا، جو اسلام و مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ اسی طرح بیت المال کی رقم سے کنویں تعمیر کرا کے پینے کے پانی کا انتظام کیا گیا تاکہ اسلامی سلطنت کے باشندے آتے جاتے وقت اس سے پانی نوش کریں۔ زکوٰۃ و خمس اور مالِ غنیمت جیسے حکومت کے ذرائع آمدنی سے مسلم معاشرہ کے کمزور طبقے فقراء و مساکین اور یتامیٰ سے تعاون کیا گیا اور غریب الدیار اور مسافروں کی مدد کی گئی، غلاموں کی گردنیں آزاد کرائی گئیں۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 150)