عہد عثمانی میں عام اخراجات کے انواع و اقسام - دفاعِ اہلِ…

عہد عثمانی میں عام اخراجات کے انواع و اقسام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

عہدِ عثمانی میں بیت المال سے جو کام انجام دیے گئے انہی میں سے مدینہ میں پینے کے پانی کے لیے کنویں کی تعمیر تھی جس کا نام بئرِ اریس تھا یہ مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ کنواں سن 30ھ میں تعمیر کیا گیا۔ ایک روز حضرت عثمانِ غنیؓ اس کنویں کی منڈیر پر بیٹھے اور آپؓ کے ہاتھ میں رسول اللہﷺ‏ کی انگوٹھی تھی وہ انگلی سے سرک کر کنویں میں گر گئی، لوگوں نے اس کو کنویں میں تلاش کیا اور اس کا سارا پانی نکال باہر کیا لیکن انگوٹھی کا سراغ نہ لگا۔ آپؓ نے اس کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا اور اس کے نہ ملنے پر آپؓ کو شدید غم لا حق ہوا جب آپؓ اس انگوٹھی سے مایوس ہو گئے تو پھر آپؓ نے اسی کے مثل دوسری انگوٹھی چاندی کی تیار کرائی اور اس میں محمد رسول اللہﷺ‏ کندہ کرایا اور اس کو پہنا وہ برابر آپؓ کی انگلی میں رہی یہاں تک کہ آپؓ نے جامِ شہادت نوش کیا، شہادت کے بعد وہ انگوٹھی ضائع ہو گئی اور نامعلوم کس نے اس کو لے لیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 161 تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 284)

بیت المال سے مؤذنوں پر خرچ

سیدنا عثمان بن عفانؓ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے بیت المال سے مؤذنوں کا وظیفہ مقرر فرمایا:

امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

ہدایت کے امام حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مؤذنوں کا وظیفہ جاری فرمایا۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 14)

حضرت عثمان بن عفانؓ نے اذان پر وظیفہ مقرر کیا، اجرت نہیں۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 14)

اسلام کے بلند مقاصد و اہداف پر خرچ

بیت المال سے سابقہ عام اخراجات کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ملک کے انتظام و انصرام اور رعایا کے مصالح پر خرچ کے علاوہ اسلامی سلطنت کے مقاصد و اہداف کی تمویل میں بیت المال کا اہم کردار رہا ہے۔ پھر اسلام کی نشر و اشاعت پر خرچ کیا گیا تاکہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے۔ اسلامی سلطنت کے لیے اس سے پہلا بحری بیڑا تیار کیا گیا۔ بیت اللہ اور مساجد کی تعمیر و تجدید پر خرچ کیا گیا۔ مؤذنوں، گورنروں، قاضیوں، فوج اور حکومت کے عاملین کے وظائف مقرر کیے گئے، سفرِ حج اور غلافِ کعبہ پر خرچ کیا گیا، جو اسلام و مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ اسی طرح بیت المال کی رقم سے کنویں تعمیر کرا کے پینے کے پانی کا انتظام کیا گیا تاکہ اسلامی سلطنت کے باشندے آتے جاتے وقت اس سے پانی نوش کریں۔ زکوٰۃ و خمس اور مالِ غنیمت جیسے حکومت کے ذرائع آمدنی سے مسلم معاشرہ کے کمزور طبقے فقراء و مساکین اور یتامیٰ سے تعاون کیا گیا اور غریب الدیار اور مسافروں کی مدد کی گئی، غلاموں کی گردنیں آزاد کرائی گئیں۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 150)


صفحہ 2 از 2