عہد عثمانی میں عطیات کے نظام کا باقی و برقرار رہنا
علی محمد الصلابیعہدِ عثمانی میں عطیات کا نظام جاری رہا، جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں جاری تھا، عطیات سے متعلق دین میں سبقت کو اساس قرار دیا اور کوفہ پر مقرر اپنے گورنر کو لکھا:
اما بعد! اس ملک کے فاتحین میں سابقین کو فوقیت دو اور ان کے بعد جنھوں نے یہاں نزول کیا ہے انہیں ان کے تابع رکھو الا یہ کہ وہ حق سے سست پڑ گئے ہوں اور حق چھوڑ بیٹھے ہوں اور بعد والے اس کو سنبھال لیے ہوں۔ ہر ایک کے مقام و مرتبہ کی حفاظت کرو اور سب کے حقوق ادا کرو، لوگوں کی معرفت سے ہی عدل قائم ہو گا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 280)
آپؓ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات میں وسعت ہوئی اور حکومت کے ذرائع آمدن میں اضافہ ہوا تو اس کے پیشِ نظر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مالِ گودام اور خزانے قائم کیے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد، 2 صفحہ، 6836 النجوم الزاہرۃ: جلد، 1 صفحہ، 87)
مذکورہ اضافے کے نتیجہ میں عطیات اور تنخواہوں میں اضافہ ہوا، چنانچہ فوج کی تنخواہ میں ہر فرد کے لیے سو درہم کی مقدار میں اضافہ ہوا۔ آپؓ پہلے خلیفہ ہیں جس نے عطیات و تنخواہوں میں اضافے کیے اور بعد کے آنے والے خلفاء نے اضافے میں آپؓ کی اقتدا کی۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 245)
حسن بصری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: میں نے منادی کو اعلان کرتے ہوئے سنا لوگو! اپنے کپڑے لینے کے لیے نکلو، گھی اور شہد لینے کے لیے نکلو۔
نیز فرماتے ہیں: فراوانی سے روزی مل رہی تھی، خیر کثیر تھا، آپؓ کے تعلقات استوار تھے، روئے زمین پر کوئی مسلمان کسی مسلمان سے خوف نہیں کھاتا تھا بلکہ ایک دوسرے سے محبت کرتے، ایک دوسرے کی مدد کرتے اور مانوس رہتے۔
(مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 93، 94 فضل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ، 52)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کا بے حد اہتمام فرماتے، وہاں افواج کو مقرر فرماتے اور فوجی قائدین کو سرحدوں پر پہرہ دینے والے افواج کے لیے تنخواہ اور عطیات جاری کرنے اور اس میں مزید اضافہ کرنے کا حکم فرماتے۔
(فتوح مصر: صفحہ، 192 فتوح البلدان، البلاذری: جلد، 1 صفحہ، 152، 157)