دھوکہ نمبر 91 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 91

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 1 از 4

دھوکہ نمبر 91

کہتے ہیں کہ اہل سنت اہل بیت کے دشمنوں کو دوست رکھتے ہیں اور دشمنوں کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے کیونکہ حکماء نے کہا ہے کہ دشمن تین قسم کے ہوتے ہیں: اپنا دشمن، اپنا دوست کا دشمن، اپنے دشمنوں کا دوست، اسی طرح دوست بھی تین قسم کے ہوتے ہیں اپنا دوست، اپنے دوست کا دوست، اپنے دشمن کا دوست۔

بس لا محالہ اہل سنت بھی اہل بیت کے دشمن ہوئے اور یہ کلام اس قاعدہ پر مبنی ہے جو اہل شرح و اہل عقل کا مقرر کردہ اور ثابت کردہ ہے کسی سے محبت رکھنے والا اس کے حبیب اور محبوب دونوں سے محبت رکھتا ہے اور اس کے دشمن کا دشمن یا جس کا وہ دشمن ہوتا ہے اس کا یہ بھی دشمن ہوتا ہے اسی طرح سے دشمنی رکھنے والا محبت رکھتا ہے اس کے دشمن سے اور اس سے جس کا وہ دشمن ہے،

اور دشمنی رکھتا ہے اس کے حبیب و محبوب سے لہذا اس سے یہ معلوم ہوا کہ دوست عام ہے دوست رکھنے والے اور دوست رکھے ہوئے سے اور دشمن عام ہے دشمن رکھنے والے اور دشمن رکھے ہوئے سے۔

اہل سنت کی طرف سے طعن کا جواب تو بدطریق جدل ہے کہ اہل سنت خوارج و نواصب کے دشمن ہیں اور وہ اہل بیت کے دشمن ہیں لہذا اہل سنت جب اہل بیت کے دشمن کے دشمن ہوئے تو اہل بیت کے دوست ہوئے۔

اور شیعہ خوارج نواصب کہ دشمن ہیں اور وہ پیغمبر علیہ السلام کے دوست ہیں تو گویا شیعہ پیغمبر علیہ السلام کے دوست کے دشمن ہوئے اور دوست کا دشمن دشمن ہوتا ہے تو ثابت ہوا کہ شیعہ پیغمبر علیہ السلام کے دشمن ہیں اس ضمن میں اسی قسم کی اور باتیں بھی کہی جا سکتی ہیں جن سے شیعوں کے پیغمبر دشمنی ثابت ہوتی ہو۔

دوسرے یہ ہے کہ دوستی اور دشمنی جب براہ راست ہو تو بالواسطہ دوستی اور دشمنی کا کوئی اعتبار نہیں اسی طرح تمام نسبتوں اور تعلقات میں بھی یہی اصول کار فرما ہے کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ کے مقابلے میں قابل لحاظ نہیں۔

مثلا ایک شخص کسی کا سگا بھائی ہے اور اس کے دشمن کا ہم زلف بھی تو یہ اپنے بھائی کا دشمن شمار نہیں ہوگا ایسے ہی اگر ایک شخص کا نوکر اس کے دشمن کے نوکر کا بھائی ہے اور اس نوکر کو اس شخص کے دشمن کا نوکر نہیں کہیں گے یہی حال باقی نسبتوں کا سمجھ لو ، پس اب جب اہل سنت بلا واسطہ اہل بیت کے دوست ہوئے تو اسی بلا واسطہ دوستی کا اعتبار ہوگا اور وہ دشمنی جو ان کے دشمنوں کے ساتھ دوستی رکھنے والوں سے بالواسطہ لازم آتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

حاصل گفتگو یہ نکلا کہ بالواسطہ اوصاف کا لحاظ اسی وقت ہے جب بلا واسطہ اوصاف نہ ہوں کیونکہ بلا واسطہ صاف قوی تر اور اول تر ہیں اور قوی تر کی موجودگی کے وقت کمزور علاقہ کا اعتبار خلاف عقل ہے۔

تیسرے یہ کہ تحقیق یہ ہے کہ نفس و دشمنی کا اعتبار صفات و حیثیات کے لحاظ کیے بغیر خلاف عقل ہے بلکہ دوستی اور دشمنی کی غرض وغایات صفات و حیثیات ہی ہیں۔

پس اگر کوئی شخص کسی کو خاص وصف و حیثیت کی وجہ سے دوست رکھتا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام حیثیت سے اس کو دوست رکھتا ہے اور دوستی اور دشمنی بالواسطہ کی تبدیلی اس وقت ہوتی ہے کہ ایک ہی حیثیت سے اس کو دوست بھی رکھتا ہے اور دشمن بھی، پس اہل سنت اہل بیت کے دشمنوں کو اس حیثیت سے دوست نہیں رکھتے کہ وہ اہل بیت کے دشمن ہیں لہذا یہ الزام ان پر آتا ہی نہیں۔

چوتھے یہ بھی تحقیق شدہ امر ہے کہ اہل سنت ان کو دوست رکھتے ہیں جن کو وہ اپنے اعتقاد میں اہل بیت کا دشمن نہیں سمجھتے بلکہ ان کے دوست اور اعتقاد میں موافق خیال کرتے ہیں اور ان کی روایتوں میں بتواتر یہ ثابت ہے کہ وہ ہمیشہ اہل بیت کے مداح اور ثنا خواں رہے۔

اور ان کے دین و شریعت کے مددگار معاون، پنج وقتہ نمازوں اور خطبوں اور دوسری دعاؤں میں ان پر درود بھیجتے رہے البتہ شیعوں نے اپنے گمان میں ان حضرات کو مخالف اور دشمن اہل بیت قرار دیا ہے تو شیعوں کے اس گمان سے وہ واقعہ میں اہل بیت کے دشمن نہیں ہو جاتے پھر اہل سنت اہل بیت کے دشمن کو کس طرح دوست رکھ سکتے ہیں جبکہ خود ان کی کتابوں میں اس مضمون کو صحیح روایات موجود ہیں کہ

ترجمہ:- جو شخص آل محمد سے بغض رکھنے کی حالت میں مر جائے تو اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو اور روزہ رکھتا ہو وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

اور طبرانی میں یہ روایت ہے منۡ أَبۡغَضَ أَهۡلَ البَيۡتِ فَهُوَ مُنَافِقٌ (اہل بیت سے بغض رکھنے والا منافق ہے) یا لَا يُبغِضُنَا أَهۡلَ البَيۡتِ أَحَدٌ وَلَا يُحۡسِدُنَا أَحَدٌ اِلَّا زُيَّدَ يَومَ القِيَامَةِ مِنَ الحَوضِ بِسَيَاطِ النَّارِ (ہم میں سے جو کوئی بھی اہل بیت سے حسد و بغض رکھے گا وہ قیامت کے دن حوض کوثر سے آگ کے کوڑے مار کر بھگا دیا جائے گا)

اسی طرح ترمذئی نے نوادر اصول فی اخبار الرسول میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللّٰه عنہ سے روایت کی ہے کہ مَعۡرِفَةُ آلِ مُحَمَّدٍ بَرَآءَةٌ مِّنَ النَّارِ وَحُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ جَرَازٌ عَلَى الصِّرَاطِ وَالوِلَايَةِ لِآلِ مُحَمَّدٍ أَمَانٌ مِّنَ العَذَابِ (آل محمد کی معرفت آگ سے برأت ہے اور آل محمد ﷺ کی محبت پل صراط پار کرنے کا پروانہ ہے اور آل محمد ﷺ سے دوستی عذاب سے ضمانت ہے۔

بلکہ فاضل کاشی نے بھی جو شیعہ امامیہ کے فضلاء میں سے ہے اہل سنت کو کبار صحابہ رضوان اللہ علیہم کی محبت پر معذور سمجھا ہے اور اہل سنت کی نجات کا قائل ہوا تھا یہاں تک کہ ان کو اس پر جناب باری سے خواب و اجر کا امید دار قرار دیا ہے، یہی نہیں پھر ائمہ کرام کی روایات سے اپنے ان اقوال کو ثابت بھی کیا ہے یہاں ہم اس کے کلام کا خلاصہ پیش کرتے ہیں تاکہ اس دھوکہ کا ازالہ شیعہ فضلہ کی شہادت سے بالکلیہ ہو جائے

صفحہ 1 از 4