دھوکہ نمبر 91 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 91

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 4

اور تیسرا وہ شخص جو متفق علیہ بات کو قبول کر لیتا ہے اور جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے اللّٰه کے حوالہ کرتا ہے ہم سے دوستی تو رکھتا ہے مگر ہماری پیروی نہیں کرتا اور نہ ہم سے عداوت رکھتا ہے نہ ہمارے حق کو پہچانتا ہے تو اس کے بارے میں ہم امید رکھتے ہیں کہ اس کو اللّٰه تعالیٰ بخش دے اور جنت میں داخل کرے یہ ضعیف الایمان مسلمان ہے۔

فاضل کاشی کا یہ کلام بظاہر تو بڑا معقول اور پر مغز اور نقص سے خالی نظر آتا ہے مگر اس کی تہہ اور گہرائی میں جھانکا جائے تو وہ نقص عیاں ہو جاتا ہے اور یہ کلام اصلاح و درستگی مختاج نظر آتا ہے۔

اس کلام کا نقص تو یہ ہے کہ یہ ائمہ کرام کے کلام کے خلاف اور متضاد معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ ائمہ کرام نے تو نواصب کو دوزخی کافر اور فاسق فرمایا ہے جبکہ خود کاشی نے کافی سے نقل کیا ہے حالانکہ نواصب اس بات کے مدعی ہیں کہ ائمہ اہل بیت سے ان کا بغض صرف اللّٰه واسطے کا ہے اور بموجب قول امام مذکور جب ان کا بغض اللّٰه واسطے کا ہوا تو چاہے وہ خلاف واقع ہو وہ نجات بلکہ ثواب کا موجب ہوگا ایسی صورت میں ان کو کافر و فاسق سے کہنا کیسے درست ہوگا۔

پھر حضرت امام حسن رضی اللّٰه عنہ کہ کلام میں تفصیل ہے کہ جو شخص خاندان نبوت سے کم اور کم زور سی محبت رکھتا ہو ان کی واقعی قدر و عزت کو نہ پہچانتا ہو اس کو ناجی قرار دیا ہے اور جو ان کے ساتھ عداوت رکھتا ہو اور اس میں خاندان نبوت سے محبت کی بو تک نہ ہو اس کو ہانک ٹھہرایا ہے اس سے یہ پتہ چلا کہ محبوبان خدا سے عداوت کسی صورت میں عذر پذیر نہیں البتہ محبت و تعظیم کے جتنے درجے ہیں سب مقبول ہیں اور درجہ اولی سے اعلی تک ناجی معذور محبت کے اعلی درجے میں قصور و کمی اور چیز ہے اور عداوت اور چیز قصور کن نظر انداز اور صاحب قصور کو معذور رکھیں تو بجا درست ہے لیکن عداوت میں اس کی گنجائش کہاں۔

اس کلام کی اصلاح و درستگی پورے اور مکمل طور پر تو کتاب کے بارویں باب قولا و تبرّا میں ان شاء اللّٰه پیش کی جائے گی یہاں صرف ناظرین کے انتظار کی تسکین کے لیے مختصر سا بیان کیا جاتا ہے لہذا اس کا مطالعہ نہایت توجہ اور غور سے کرنا چاہیے۔

اول تو یہ ہے کہ محبوب و مبغوض میں فرق بہت تمیز کرنی چاہیے اور یوں سمجھنا چاہیے کہ استحقاق محبوبیت اور مبغوضیت دراصل دو قسموں میں منقسم ہے۔

1_ ایک یہ کہ شارع کی طرف سے اس کا ثبوت قطعی اور تواتر کے ساتھ ہو اس قسم میں خلاف واقعہ اعتقاد کو قابلِ عفو و درگزر نہیں سمجھنا چاہیے کہ شرعاً جو محبوب ہو اسے مبغوض خیال کرے اور جو مبغوض ہو اسے محبوب اور اس اعتقاد میں نہ کسی باطل تاویل اور فاسد شبہ کو دخل انداز ہونے دیا چاہیئے اور نہ ایسی باتوں پر کان دھرنا چاہیے۔

ورنہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معاذ اللّٰه اس شخص کو بھی معذور اور مستحق اجر ماننا پڑے گا جو انبیاء کرام علیہ السلام کو ان کی لغزشوں کی وجہ سے للّٰه مبغوض رکھتا ہو اور ابلیس اور فراعنہ کو نیز ائمہ کفر کو صرف اس لیے کہ وہ بھی آخر اللّٰه کے بندے ہیں اس کی صفات کے مظہر ہیں اللّٰه واسطے محبوب رکھتا ہو۔

2_ دوسرے یہ کہ یہ استحقاق بطریق تواتر ہم تک نہ پہنچا ہو حضرت ابو جعفر رحمة اللّٰه علیہ کے کلام کو اسی پر محمول کرنا چاہیے اور آپ کا وہ کلام جو مطلق ہے وہ اس بنا پر کے محبت و بغض جو اللّٰه واسطے کا ہوگا وہ لامحالہ ضروریات دین کے مخالف نہ ہوگا اگر غور کیا جائے تو اپ کا کلام صاف صاف اس قید کی خبر دیتا ہے جہاں آپ نے فرمایا ہے

وَإِنۡ کَانَ فِی عِلمِ اللّٰهِ خِلَافَ إِعتِقَادِہٖ

کیونکہ اللّٰه تعالیٰ کے پوشیدہ علم کی طرف حوالہ اسی جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے جہاں شریعت سے اس کا قطعی ثبوت صراحت کے ساتھ نہ ہو۔

قسم اول کے محبوبین کی مثال اہل بیت نبوی ﷺ جن کی شان میں قرآن مجید میں ارشاد ہے

قُلْ لَّاۤ اَسۡئَـــلُـكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِى الۡقُرۡبٰى‌ؕ آپ فرماتے ہیں تم سے کسی مزدوری کا بجز اپنے عزیز و اقارب سے محبت کے خواہاں نہیں ہوں۔

دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ اے اہل بیت اللّٰه تعالیٰ اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ تم سے رجس دور کر دے، یا اس کی مثال وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے بیعت رضوان کی ہجرت و نصرت پیغمبر کے فخر سے سرفراز ہوئے اور حضور ﷺ کے وصال کے بعد مرتدین کے فتنہ کا قلع قمع کرنے اٹھے جن کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے

يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ ان کو اللّٰه دوست رکھتا ہے اور وہ اللّٰه کو دوست رکھتے ہیں، یا جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کی، رَضِیَ اللّٰهُ عَنهُم وَرَضُوا عَنهُ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے راضی ہیں، یا وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا جو ایمان لائے ان کی طرف سے ہمارے دل میں کھوٹ پیدا نہ کر۔

اسی طرح قسم اول کے مبغوضین کی مثال ابلیس اور دیگر تمام معاندین کفار ہیں جس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡهُ عَدُوًّا ؕ البتہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو اپنے دشمن جانو، یا فرمایا لَا يَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِىۡ شَىۡءٍ مومنوں کو چاہیے کہ وہ مومنین کے علاوہ کافروں کو دوست نہ بنائے اور جو کوئی ایسا کرے گا اللّٰه کی طرف سے اسے کچھ نہ ملے گا نہ حمایت نہ امداد نہ نصرت، یا فرمایا لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ

تم کسی قوم کو ایسا نہ پاؤ کہ وہ اللّٰه اور یوم آخرت پر ایمان لاکر بھی ایسے شخص کو دوست بنائیں جس نے اللّٰه و رسول کی نافرمانی کی ہو۔

صفحہ 3 از 4