دھوکہ نمبر 91 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 91

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 4 از 4

ان ارشادات ربانی کی موجودگی میں اب کوئی ناصبی اہل بیت کی عداوت میں اور کوئی رافضی صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم کے خلاف بغض رکھنے میں خاص کر ان صحابہ کے بارے میں جن کا شمار مہاجرین اولین اور انصار سابقین میں ہوتا ہے اور جنہوں نے بیعت رضوان کا شرف حاصل کیا اور مرتدین اسلام کو تہ تیغ کیا ہرگز معذور نہیں سمجھا جائے گا ہاں کوئی فرقہ ان بزرگوں کی حقیقی اور واقعی قدر و منزلت سے کمتر جاننے اور اپنی جہالت یا نادانی کے سبب یا کسی فتنہ فساد کی بنا پر ان کے کسی مرتبہ یا درجہ کا انکار کر بیٹھے تو وہ البتہ معذور شمار ہو گا۔

جیسے تفضیلی شیعہ یا خود حضرت ائمہ رحمہ اللّٰه کے وہ دوست یا محب جنہوں نے ان کی امامت کا انکار کیا مثلا محمد بن الحنفیہ اور زید بن علی بن الحسین رضی اللّٰه عنہم چنانچہ حضرت امام حسن رضی اللّٰه عنہ کے کلام میں بھی اسی قسم کے لوگوں کو معذور قرار دیا گیا ہے۔

قسم ثانی کے محبوبین کی مثال عام نیک بخت مسلمان خصوصاً عام صحابہ عرب اور قریش ہیں اور اسی قسم کے مبغوضین کی مثال عام فاسق، نافرمان، ظالم اور کاذب لوگ ہیں کہ ان ہر دو فریق کی محبت و بغض کا ثبوت شریعت میں اوصاف عامہ کے تحت یا مفہومات کلیہ کے ضمن میں ہے مثلا فرمایا إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُ المُحسِنِينَ تحقیق اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، یا إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الصّٰبِرِينَ بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، یا فرمایا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمۡ بُنۡيَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ

بے شک اللہ ان غازیوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، صف بستہ ہو کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں، اور فرمایا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ بے شک اللہ تعالی توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، نیز فرمایا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡخَآئِنِيۡنَ بے شک اللہ تعالی خائنوں کو دوست نہیں رکھتا، یا حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان أحبوا العرب لثلاثة اني عربي والقرآن ولسان أهل الجنة عربي عربوں کو تین باتوں کے سبب دوست رکھو میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہے، یا فرمایا من اعانا قريشا اعانه الله ومن عادى قريشا اكبه الله جو قریش کی اہانت کرے اللہ اس کی اہانت کرتا ہے اور جو قریش سے دشمنی رکھے اس کو اللّٰه تعالیٰ نگو فساد و شرمسار کرے، یا اللّٰه تعالیٰ کا یہ فرمان وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ اللّٰه تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا، نیز فرمایا لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہوتی ہے، اور فرمایا يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ جس دن اللہ اپنے نبی اور اس کے اصحاب کو رسوا نہیں کرے گا۔

الله الله فى أصحابى لا تتخذوهم عرضا من بعدي من أحبهم فحبي أحبهم ومن ابغضهم فبغضي ابغضهم دیکھو دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کو دشمن نہ بناؤ جو ان سے محبت رکھے وہ مجھ سے محبت کے سبب سے ان سے محبت کرتا ہے جو ان سے بغض رکھے تو مجھ سے بغض رکھنے کے سبب ہے ان سے بغض رکھے گا۔

اس قسم ثانی کے تمام متعلقہ اشخاص میں سے ہر ایک کی محبت و بغض دو وجوہ سے قطعی الثبوت نہیں، اول یہ کہ ان عبارات کی منشا اور مضمون کا ان خاص خاص ذاتوں میں قطعی طور سے پایا جانا نادر و کمیاب ہے، دوم مضمون عبارت یا کلام کو کسی جگہ متحقق ہونا حکم کے تحقق اور وجود کے لیے اس وقت تک کافی نہیں جب تک تمام موائع دور نہ ہو جائیں مثلا محبت میں جب کہ موانعات نفاق خبث باطل اور فاسد ارادوں کا نہ ہونا ضروری ہے اسی طرح بغض میں اس کے موانعات یعنی صحت ایمان صفائے باطن اور صلاح نیت کار ہونا لازمی ہے اور ان ممانعت کے دور ہو جانے کا قطعی اور یقینی علم تکمیل و ختم نبوت اور سلسلہ وحی بند ہو جانے کے بعد محال ہو گیا ہے۔

جب تک نبی کریم ﷺ موجود تھے اور سلسلہ وہی جاری تھا کسی بھی معاملہ میں قطعی اور یقینی علم ہو جاتا تھا مثلا صحیح احادیث میں یغمان صحابی رضی اللہ عنہ پر باوجود ان کے شرابی ہونے کے برائی سے یاد کرنے اور ان پر لعنت کرنے پر زجر و توبیخ کی گئی آپ نے فرمایا کہ وہ اللّٰه اور رسول کو دوست رکھتا ہے (اس پر لعنت و پھٹکار نہ کرو۔)

مالک بن وحیش جن کا منافقین میں اٹھنا بیٹھنا تھا وہ ان کا یہی خواہ بھی تھا جب ظاہری حالات کی بنا پر ان کو منافق کہا گیا تو اس کو رد کیا گیا اور اس کے ایمان صحیح ہو نیکی کی توثیق کی گئی ایک اور ایک اور بغض جو بڑا مسخرہ اور بد زبان تھا اس کے حق میں ارشاد فرمایا گیا خبیث اللسان وطیب القلب (زبان کا تو گندا ہے مگر دل کا پاک ہے) اسی طرح کی اور بہتری مثالیں ہیں۔

علی ہذا محبت سے متعلق بھی بہت سی روایات اور آثار مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے محض گمان اور خیال آرائی پر بھروسہ کر کے کسی کی نجات اور بلندی درجات کی شہادت نہیں دینی چاہیے تاکہ آنکہ حقیقت حال پوری طرح منکشف نہ ہو جائے۔

بخلاف قسم اول کے جب محبت یا بغض معینہ اشخاص کی قطعی دلیل سے تواتر کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اب مضمون کلام کا مستحق ہونا اور حکم کا پایا جانا لازم ہو گیا جیسے کہ انبیاء کرام علیہ السلام کا حال معلوم ہوا۔


صفحہ 4 از 4