دھوکہ نمبر 92 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 92

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 2

چھٹے پھر جب خود جناب امیر رضی اللّٰه عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ کی دلیری اور شجاعت پر گواہی دی ہو تو اس کے بعد ان کو بزدل کہنا خود جناب امیر رضی اللّٰه عنہ کی گواہی کا انکار اور رد کرنا ہے چنانچہ محمد بن عقیل ابن ابی طالب رضی اللّٰه عنہ راوی ہیں کہ خطبنَا عَلي قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَشجَع النَّاسِ فَقُلْتُ أَنتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ ذاكِ ابو بكرِ الصديق أنه كمَا كَانَ يَوْمُ بَدر وَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَرِيسُ فَقُلْنَا مَنْ تَقُومُ عِندَهُ لَا يَدنوا إليه احد من المشركينَ فَمَا قَامَ إِلَيْهِ إِلَّا ابُو بكَرِ وَ أَنَّهُ كَانَ شاهدا سَيْفِ بِرَامِهِ فَكَلَّمَا ولَى الْيْهِ أَحَد اهُوَى إِلَيْهِ أبو بكر بالسيف.

ہمارے سامنے حضرت علی رضی اللّٰه عنہ نے تقریر فرمائی اور حاضرین سے پوچھا بتاؤ سب سے زیادہ بہادر کون ہے میں نے کہا اے امیر المومنین آپ، آپ نے فرمایا وہ (بہادر) ابوبکر صدیق ہیں جنگ بدر کے دن ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے گھاس پھونس کا ایک سائبان بنایا پھر لوگوں سے پوچھا کہ آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ کے پاس کون کھڑا ہوگا کسی مشرک کو آپ کے پاس پھٹکنے نہ دے تو اس کے لیے ابوبکر کے سوا کوئی آمادہ نہ ہوا آپ شمشیر برہنہ حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہو گئے جب بھی کوئی مشرک ادھر کا رخ کرتا آپ تلوار لے کر اس پر ٹوٹ پڑتے۔

ساتویں ایک ایسا شخص جس سے بہادروں اور دلیروں جیسے کام سرزد ہوئے ہوں جس کے ہاتھوں امور خلافت و امامت روز روشن کی طرح انجام پائے ہوں اس کے متعلق بزدلی کا دل میں خیال لانا یا یہ کہنا کہ یہ شخص خلافت و ریاست کے قابل نہ تھا نہایت لغو و لچر اور بے معنی بات ہے یہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص عین دوپہر کے دھوپ میں بیٹھے آفتاب کی شعاعوں کی روشنی میں سب کچھ دیکھے پھر یہ کہے یا دل میں خیال لائے کہ آفتاب تو تاریک ہے تو یہ اس شعر کا مصداق ہو۔

اگر نہ بیند بروز شپرۂ چشم

چشمہ آفتاب راچہ گناہ

اور جو شخص واقف سیرت ہو اور جنگ وفتوحات عراق و شام کے حالات سے بخوبی آگاہ ہو وہ یقین ہے یہ مانے گا اور اس کی گواہی دے گا کہ سخت ہیجان کے وقت دلی مضبوطی، ارادہ کی انتہائی پختگی اور اس پر ڈٹے رہنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ کا کوئی ہمسر اور مثیل نہ تھا۔

چنانچہ قاضی فاضل اپنے رسائل میں اس بادشاہ کی مدح سرائی کرتے ہوئے رقمطراز ہے جس نے مختصر سی مدت میں ملک شام کو فرنگیوں کے پنجے سے آزاد کرا لیا ان سے جنگ آزما ہوا اور ان کے قلعوں کو مسمار کیا لَهُ الْفَرَسَاتُ الصّدیقية وَالْفُتُوحَاتُ الْعُمُرِيَّةُ وَالْجُيُوشُ العثمانِيَّةُ () الحَيدرية جو صدیق رضی اللّٰه عنہ جیسے پختہ ارادے رکھنے والا اور عمر رضی اللّٰه عنہ جیسی فتوحات کرنے والا اور عثمان رضی اللّٰه عنہ جیسی فوجی طاقت کا مالک اور حیدر رضی اللّٰه عنہ جیسا حملہ آور تھا۔

البتہ حضرت علی رضی اللّٰه عنہ کے بارے میں بہادری و قوت بازو، شمشیر زنی، نیزہ بازی، پہلوانوں کی پچھاڑنے، خود بنفس نفیس معرکہ کار زار و جنگ و جدل میں حصہ لینے اور دشمنوں میں گھس بننے کی جتنی روایت منقول ہے اتنی دوسرے کے بارے میں نہیں مگر یہ صفات چونکہ ہتھیار سواری نیزہ بازی کے فنون اور جنگوں اور میدان جنگ کی تجربہ کاریوں سے تعلق نہیں رکھتی ہیں، اصل شجاعت سے جو ایک قلبی صفت زیادہ تعلق نہیں رکھتی اور ریاست کبریٰ و خلافت میں اس کی چنداں ضرورت نہیں۔

کیونکہ مثلا حضرت امام سجاد رحمۃ اللّٰه علیہ اور ان کے بہت سے دوسرے ائمہ ان فنون اور باتوں سے بالکل نا آشنا تھے حالانکہ ان سب کو امامت کبری کا مستحق مانا گیا ہے۔

اسی طرح بہت سے بادشاہ مثلا سکندر، اورنگزیب وغیرہ گزرے ہیں کہ جو شجاع قلب اور شیر افگن تھے مگر میدان جنگ میں کسی ہمسر سے دو بدو نبرد آزمائی یا پہلوانوں سے کشتی لڑنے کا موقع پیش نہیں آیا اس کے باوجود ان کی شجاعت میں کسی نے شک نہیں کیا نہ ان کو بزدل کہا، اور اصل ہر دو صفات شجاعت، جنگی مہارت میں فرق ہے شجاعت ایک قلبی صفت ہے اور یہ خلقی اور فطری ہوتی ہے جبکہ جنگی مہارت بدنی صفت ہے جو شکی اور کسبی کام ہے عام اصطلاح میں ان کو فن سپاہ گری بھی کہتے ہیں اور شجاعت کو اس سے بالکل الگ صفت شمار کرتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2