دھوکہ نمبر 95 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 95

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 2

اگر کسی شیعی کے دل میں یہ بات کھٹکے کہ گو اس وقت اجنبیوں کے دیکھنے کا حکم تحریم نہ آیا تھا لیکن سلیم الطبع اشخاص کی فطری خصلت اسے عار ہی سمجھتی ہے اس لیے پیغمبر علیہ السلام کو اس کی اجازت نہ دینی چاہیے تھی بلکہ منع کرنا چاہیے تھا تو اس کا یہ شک قابل تسلیم نہیں اس لیے کہ طبرسی کی مجمع البیان اور دوسری شیعی تفاسیر میں لکھا ہوا ہے کہ جس وقت خوش جمال اور خوش پوشاک فرشتے مہمانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اس وقت ان کا فرشتہ ہونا ظاہر نہیں ہوا تھا تو حضرت سارہ علیہ السلام بھی وہاں آئیں اور مہمانوں کی باتیں سن کر ہنسیں بھی مسکرائیں بھی تو حضرت سارہ علیہ السلام کا آنا غیر مردوں کی باتوں پر مسکرانا ہنسنا غیرت و شرم سے کس قدر بعید بات ہے لہذا اس سے پتہ چلا عار اور شرم اس وقت لاحق ہوتی ہے کہ ذہنوں میں اس کے متعلق برائی بیٹھی ہو اور برائی دل میں بیٹھنا حکم شرح کے نزول پر موقوف ہے حکم شرح سے پہلے اور کیسی اور کیوں ؟

پھر دنیا بھر کی ان مختلف قوموں کے متعلق کہا جائے گا جو مختلف ملکوں اور شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کے ہاں عورتوں کا مردوں سے چھپنا یا ان کی طرف نظر نہ کرنا نہ معمول تھا اور نہ مروج اور نہ معیوب کیا ان میں کوئی بھی سلیم الطبع فرد موجود نہ تھا اس کے بادشاہ و امراء تاجر اور صاحب ثروت لوگ تو مسلمانوں سے بھی زیادہ نخوت و تکبر اور اقتدار کے مالک ہیں غیرت و ناموس کے بڑے بلند آہنگ دعوی دار ہیں بالخصوص ہند کے راجپوت وغیرہ۔

لہذا حکم شریعت کے نزول سے پہلے ایسے امور کو غیرت کے منافی خیال کرنے اور اس کو بے غوری پن سے تعبیر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان میں عادی اور خلقی و پیدائشی باتوں میں فرق و تمیز کرنے کی صلاحیت ہی نہیں اور یہی دھوکے کی جڑ ہے۔

پھر مسلمانوں میں مختلف عادات رواج پا گئی ہیں ان کے امرأ و سلاطین باوجود مستحکم اقتدار رکھنے اور غیرت و شرم کے بڑے بڑے دعوؤں کے اپنی بیگمات کو بالا خانہ اور جھرکوں میں بٹھا کر فوجی مشقوں، جانوروں کی لڑائیوں یا مردوں کے دوسرے کھیل تماشے دکھاتے ہیں جنگلوں باغات اور دریاؤں سمندروں کی سیر کراتے ہیں البتہ اس کا ضرور خیال اور اہتمام کرتے ہیں کہ غیر مردوں کی نظر ان پر نہ پڑے۔

علاوہ ازیں عورتوں کا اجنبی مردوں کو ایسی حالت میں دیکھنا کہ ان کا ستر کھلا ہوا نہ ہو یا بالا جماع حرام نہیں ہے بلکہ یہ اختلافی مسئلہ ہے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اجنبی مرد کو دیکھنا عورت کے لیے اسی طرح حرام ہے جس طرح اجنبی عورت کو کسی مرد کا دیکھنا حرام ہے اور اکثر شرعی دلائل اور قرون سابقہ خلفائے عباسیہ کے عہد تک کے حالات اسی اغیر قول کے موئد ہیں۔

پس ایسے فعل کو بری نظر سے دیکھنا یا اس پر اظہار تعجب کرنا جس کے جائز و حرام ہونے میں اختلاف موجود ہو جائے خود عمل نظر ہے اور بالفرض اس کو حرام بھی مان لیں تو وہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آیت حجاب و تحریم نازل نہیں ہوئی تھی۔

اور پھر بات کیوں فراموش کر دی جاتی ہے اور حضور ﷺ کے شارع ہونے کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان امور میں طرز گفتگو اور اعتراض کا لہجہ ایسا کیوں اختیار کیا جاتا ہے جیسا عام آدمی کے متعلق ہوتا ہے نبوت کے بعد حضور اکرم ﷺ کا ہر قول ہر فعل ہر حکم اور سکوت بجائے خود شریعت ہے چاہے اس کے متعلق کوئی حکم نازل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اور یہ کس کو معلوم نہیں کہ آیت تحریم کے بعد بھی حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں ہی کم از کم مستورات نمازوں کے لیے تو مسجد نبوی میں آتی ہی رہی ہیں کیا وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کے تشریف لاتی تھیں کہ کسی مرد پر نظر نہ پڑ جائے۔

آیت تحریم کے بعد بھی حضور ﷺ کا صحابیات کو مسجد میں آنے سے نہ روکنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھ لینا حرام نہیں (نعمانی) اور پھر وہ کھیل لہو و لعب کے قماش کا نہیں تھا فنون سپہ گری کا مظاہرہ تھا دیکھنے والیاں بھی ان کرتبوں کو دیکھنا چاہتی تھیں مردوں کو تاک جھانک تو ان کے حاشیہ خیال میں تک نہ تھی۔

اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے نہ تعجب کی، تعجب اور ماتم تو ان لوگوں پر کرنا چاہیے جنہوں نے چھوکریوں کی شرم گاہوں کو اپنے لیے حلال جانا جس کو سبھی لوگ ننگ و عار سمجھتے اور نازیبا والا ناشائستہ حرکت خیال کرتے ہیں ان کے لیے کیسے قابل قبول اور لائق تسلیم ہو گیا۔


صفحہ 2 از 2