Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دھوکہ نمبر 97

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

دھوکہ نمبر 97

ایک الزام اہل سنت پر یہ لوگ یہ بھی لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی صحاح میں ایسی روایات بھی درج کی ہیں جن سے حضرت نبی کریم ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف شک کی نسبت پائی جاتی ہے مثلاً یہ حدیث جس میں حضورﷺ نے فرمایا :

نحن أحق بالشك من ابراهيم اذ قال رب ارني كيف تحي الموت

ہم ابراہیم سے زیادہ شک کے حقدار ہیں، جس کا انہوں نے اللّه تعالی سے مردوں کی دوبارہ زندگی کی کیفیت معلوم کر کے کیا۔ رب ارني كيف تحي الموت

اس طعن کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ خود شیعوں نے حضرت حلیمہ سعدیہ کے مکالمہ میں جو حجاج کے ساتھ ہوا جس کا بیان اوپر آ چکا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے اور صرف ایک ہی پیغمبر کے متعلق شک کا اظہار طعن و تشنیع کے لیے کافی ہے تو جس بات کا اہل سنت کو الزام دیتے ہیں خود اسی الزام کے مورد ہیں۔ جب دونوں ہی اس میں شریک ہیں تو اہل سنت ہی کو اس کے لیے مخصوص کیوں کیا جاتا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ حدیث قیاس استثنائی کے معنے میں ہے، کہ اس میں نقیض ثانی کی استثنا کی ہے تاکہ اس سے نقیض مقدم نتیجہ حاصل ہو۔ دراصل اس کلام سے رسول اللّٰهﷺ کا منشا مبارک یہ ہے کہ قران مجید کی آیت (ولكن ليطمئن قلبي) سے یہ نہ سمجھنا چاہئیے کہ یہ شک کے ہونے اور یقین کے حاصل نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے بلکہ آپ کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو شک ہوتا تو ہم کو بھی شک ہونا چاہیے تھا کیونکہ ہم ان سے زیادہ شک کے حقدار ہیں۔اور جب ہم کو شک نہیں تھا تو لامحالہ ان کو بھی شک نہیں تھا تو گویا اپ کا سوال صرف علم الیقین سے ترقی کر کے عین الیقین تک پہنچنے کے لیے ہے،اور اگر کلام کو ظاہر پر محمول کریں تو بھی درست ہے اس لیے کہ شک یقین کے مقابل ہے اور جس طرح یقین کے درجے تین ہیں : علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین ہیں ۔اسی طرح شک کے بھی تین ہی درجے ہیں لہذا یہاں شک سے مراد یہ ہے کہ علم الیقین رکھتے ہوئے عین الیقین کا حاصل نہ ہونا اور پھر عین الیقین کا حاصل نہ ہونا کوئی نقص یا عیب تو نہیں یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ انبیاء کرام علیہ السلام تمام امور غیبیہ کو ان ظاہری انکھوں ہی سے ملاحظہ فرمائیں اور نہ شیعوں اور سنیوں میں سے کوئی بھی اس کے واجب ہونے کا قائل ہے۔ پس اس صحیح مطلب کو تو جو راہ حق سے ذرا بھی ادھر ادھر ہٹا ہوا نہیں ہے۔ یہ مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور اپنے ہاں جو انہوں نے انبیاء کرام کے حق میں قابل الزام روایات کو اپنی کتابوں میں بھر رکھا ہے۔ اس کو بھول گئے چنانچہ اس کا کچھ حصہ خشتے نمونہ از خرو راۓ کے طور پر ان شاءاللّٰه باب نبوت میں ذکر کیا جائے گا اور اس سے ان کے اس عقیدہ کی قلعے کھل جائے گی جو یہ انبیاء کرام علیہ السلام کے متعلق رکھتے ہیں۔