Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قصاص، حدود اور تعزیر سے متعلق

  علی محمد الصلابی

پہلا مقدمہ جو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا قتل کا مقدمہ تھا

سب سے پہلا مقدمہ جس کا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا مقدمہ تھا۔ ہوا یوں کہ انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لولو کی بیٹی کو قتل کر دیا اور جفینہ نامی ایک نصرانی پر تلوار سے وار کیا اور اس کا قصہ تمام کر دیا اور اسی طرح ہرمزان کو بھی قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے ابو لولو کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قتل پر ابھارا تھا۔ واللہ اعلم۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 154)

سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو جیل میں بند کر دینے کا حکم جاری کیا تھا تاکہ آپؓ کے بعد آنے والا خلیفہ ان کے سلسلہ میں اپنا فیصلہ صادر کرے۔ جب سیدنا عثمان بن عفانؓ خلیفہ بنائے گئے تو سب سے پہلا مقدمہ آپؓ کے سامنے سیدنا عبیداللہؓ کا مقدمہ تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا ان کو چھوڑ دینا عدل نہیں انہیں قتل کر دینا چاہیے۔ بعض مہاجرین نے کہا: یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کل باپ کا قتل ہوا اور آج بیٹا قتل کیا جائے؟ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو اس قضیہ سے بری رکھا ہے یہ آپؓ کے عہدِ خلافت میں پیش نہیں آیا ہے اس کو چھوڑیے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ نے ان مقتولین کی دیت اپنے مال سے ادا کی کیوں کہ ان کا معاملہ آپؓ کے حوالے تھا جب کہ بیت المال کے علاوہ ان کا کوئی وارث نہ تھا۔ امامِ وقت اس سلسلہ میں اصلح کا خیال کرتا ہے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبیداللہؓ کو رہا کر دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 154)

اور طبری کی ایک روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہرمزان کے بیٹے قماذبان نے سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا تھا۔ ابو منصور کی روایت ہے کہ میں نے قماذبان کو اس کے والد سے متعلق بیان کرتے ہوئے سنا کہ عجمی مدینہ میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔فیروز کا گزر میرے والد کے پاس سے ہوا اس کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا جس کے دو سر تھے میرے والد نے اس کو لے لیا اور اس سے کہا کہ تم اس سرزمین میں اس کو کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں اس سے انسیت حاصل کروں گا، اسی حالت میں اس کو ایک شخص نے دیکھ لیا تو جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا تو اس شخص نے کہا کہ اس خنجر کو میں نے ہرمزان کے ہاتھ میں دیکھا تھا، اس نے فیروز کو دیا تھا۔ سیدنا عبیداللہؓ کو جب یہ خبر ملی کہ اس نے میرے والد کو قتل کر دیا۔ جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے حضرت عبیداللہؓ کو میرے حوالہ کر دیا اور فرمایا: اے بیٹے یہ تمہارے باپ کا قاتل ہے تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق ہو اس کو لے جا کر قتل کر دو، میں چلا، مدینہ کے تمام لوگ میرے ساتھ تھے، وہ سب مجھ سے اس کی معافی طلب کر رہے تھے، میں نے ان سے کہا کیا مجھے اس کو قتل کرنے کا حق ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور سیدنا عبیداللہؓ کو برا بھلا کہا۔ میں نے اللہ کے واسطے ان کا خیال کرتے ہوئے سیدنا عبیداللہؓ کو چھوڑ دیا۔ ان لوگوں نے مجھے اٹھا لیا اور میں ان کے سر اور ہاتھوں پر گھر پہنچا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 243 اس کی سند صحیح نہیں ہے۔)

اس روایت اور دوسری روایت میں کوئی تضاد نہیں ہے جس میں ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو معاف کر دیا اور ہرمزان کے ورثاء کو شرعی دیت ادا کی۔ کیوں کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم یہی تھا کہ ہرمزان کے بیٹے کو قصاص کا حق ہے اور اس نے ان کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے سیدنا عبیداللہؓ کو معاف کر دیا جیسا کہ ابھی مذکور ہوا ہے اور خلیفہ وقت حضرت عثمانِ غنیؓ کی معافی کا تعلق اس سنگین جرم میں تحقیقاتی بورڈ کے حق سے متعلق ہے کیوں کہ اس سلسلہ میں فیصلہ کا حق خلیفہ کو ہے نہ کہ مقتول کے بیٹے کو اور مذکورہ صورتِ حال میں سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے حق کو مارا تھا لہٰذا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عفو و درگزر کی روایت اس حق کے سبب سے ہے اور حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی اس مخالفت نے مجرم اشخاص اور تحریکات جن کا اس عظیم جرم سے تعلق تھا ان کی معرفت کے موقع کو ضائع کر دیا اور اسی طرح خلیفہ وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عفو و درگزر کا تعلق جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی سے متعلق ہے جن کا کوئی ولی نہ تھا۔

تاریخی مصادر اور روایات کے اندر کوئی اختلاف نہیں کہ وہ خنجر جس سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تھا ہرمزان اور جفینہ کے ہاتھ میں واقعہ قتل سے قبل تھا اور اس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے دیکھا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی روایت بتاتی ہے کہ ابو لولو قاتل اپنے ان دونوں شریکوں کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا اور جب اچانک وہ ان کے پاس پہنچ گئے تو خنجر ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا اور شہادتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ آپؓ کو جس خنجر سے قتل کیا گیا تھا وہ وہی خنجر تھا جسے دونوں شاہد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد، 3 صفحہ، 350، 355) 

لہٰذا ہرمزان اور جفینہ قتل کے مستحق تھے اور ابو لولو جس نے اپنے آپ کو قتل کر لیا تھا تاکہ اس سازش میں جو لوگ شریک ہیں ان کا راز فاش نہ ہو سکے اس کی بیٹی کا قتل غلطی سے ہوا سیدنا عبیداللہؓ نے سمجھا کہ وہ بھی قتل میں شریک تھی کیوں کہ اپنے والد کے لیے اسلحہ چھپائے رکھتی تھی۔

(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون: صفحہ، 218، 219)