Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوروں کا قتل

  علی محمد الصلابی

سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کی ولایت میں کوفہ کے کچھ نوجوانوں نے سیدنا ابن الحیسمان خزاعیؒ کے گھر میں نقب زنی کی، اس نے ان کی آہٹ محسوس کر لی اور تلوار لے کر نکلا لیکن جب اس نے انہیں بڑی تعداد میں دیکھا تو چیخ پڑا، انہوں نے اس سے کہا: خاموش ہو جا، ایک ہی ضرب میں تمہارا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ یہ سن کر وہ چیخ اٹھا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ ابو شریح خزاعیؒ یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے گھیراؤ کر کے انہیں گرفتار کر لیا ان گرفتار شدگان میں زہیر بن جندب ازدی، مورع بن ابی مورع اسدی، شبیل بن ابی الازدی وغیرہ تھے۔ ابو شریح اور اس کے بیٹے نے ان کے خلاف گواہی دی۔ سیدنا ولیدؓ نے ان کے سلسلہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو رپورٹ بھیجی تو آپؓ نے ان سب کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا پھر حضرت ولیدؓ نے ان سب کو قصر کے دروازے پر قتل کیا۔ سیدنا عمر بن عاصم تمیمی رحمۃ اللہ نے ان سے متعلق یہ شعر کہا:

لا تأکلوا أبدا جیرانکم سرفا

اہل الزعارۃ فی ملک ابن عفان

ترجمہ: اے بد مزاج لوگو! حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں حد سے تجاوز کر کے اپنے پڑوسیوں کی کبھی غیبت نہ کرو۔

اور کہا:

ان ابن عفان الذی جربتم

فطم الصوص بمحکم الفرقان

ترجمہ: بلاشبہ تمہارے آزمودہ سیدنا ابنِ عفانؓ نے قرآن کے احکام کو نافذ کر کے چوروں کی عادات چھڑائیں۔

ما زال یعمل بالکتاب مہیمنا

فی کل عنق منہم و بنان

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 272)

ترجمہ: ان کی گردن اور ہاتھوں سے متعلق کتاب اللہ کے حکم کو غالب طور پر نافذ کرتے رہے۔