دھوکہ نمبر 99 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 99

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 3

اہل سنت کی طرف سے اس الزام کا جواب کئی انداز اور وجوہ سے دیا جاتا ہے اول ہم ہد ان شیعوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ان ایات کا مذکورہ یا ان جیسی دوسری ایات کی روش میں انبیاء پر شیطان کا عمل دخل مانتے ہو یا نہیں اگر مانتے ہو تو انبیاء و آئمہ کرام کی عظمت کا عقیدہ تمہارے ہاتھ سے نکلا جاتا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں ان ایات کی تاویل کر کے انبیاء کرام کی عصمت شیطان سے محفوظ برقرار رکھو گے تاکہ ان کی ذات پر کوئی الزام نہ آئے اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حضرت عمرؓ اس صفت میں انبیاء کرام کے شریک ہو جائیں گے اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ بعض اولیا انبیاء کے ساتھ بعض صفات میں شریک ہو جاتے ہیں البتہ ان میں فرق یہ ہے کہ انبیاء کرام پر شیطان کا تسلط اور غلبہ ناممکن ہے اور ان کے اسی مرتبہ کا نام عصمت ہے اور اولیاء پر شیطان کا غلبہ ممکن ہے اور ان کے اس مرتبہ کا نام محفوظیت ہے شیطان کا غلبہ ممکن ہے اور ان کے اس مرتبہ کا پتہ بعض قرآنی آیات سے بھی چلتا ہے کہ خدا کے بعض بندے بھی شیطان کے تسلط سے مامون ہیں یہ خاصہ صرف انبیاء کرام علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں چنانچہ ارشاد ہے :

ان عبادي ليس لك عليهم سلطان

(بے شک میرے خاص بندوں پر تجھ کو غلبہ حاصل نہیں ہوگا)

نیز فرمایا :

الا عبادك منهم المخلصين

(مگر ان میں سے تیرے بعض بندے)

تو اگر حضرت عمر رضی الله عنہ کا شمار بھی ایسے بندوں میں ہو جائے تو اس میں کون سی شرعی یا عقلی خرابی لازم آتی ہے،

اب رہے یہ الفاظ کے فلاں فلاں کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ تو یہ محض ایک مثال ہے یہ کیا ضروری ہے کہ ان الفاظ کو حقیقی معنی پر محمول کر کے دوراز عقل معنے پیدا کریں۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ شیطان ان کو بہکانے میں بے بس ہے۔ مثلاً الله تعالی کے اس فرمان :

قل ان الموت الذي تفرون منه

(کہیے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو) میں مراد بچتے ہو۔

یا فرمایا :

جدارا يريد ان ينفض

(وہ دیوار جو ٹوٹا ہے چاہتی تھی اس میں گرا ہی چاہتی تھی مراد ہے)

دوسرے شیطان کا حضرت عمرؓ سے ڈر کر بھاگنا اور انبیاء و رسل سے نہ ڈرنا، اس بات سے بھی حضرت عمرؓ کی فضیلت انبیاء کرام پر ثابت نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ چور کوتوال، اور پہرے دار سے اور راہزن فوجدار سے جتنا ڈرتے اور کانپتے ہیں اتنا بادشاہ وقت سے نہیں کیوں کہ کوتوال اور فوجدار کی تو ڈیوٹی اور فرض ہی یہ ہے کہ مفسدوں ،چوروں اور ڈاکوؤں سے ملک و شہر کو پاک کریں اسی لیے یہ مفسدوں اور چوروں کے مکر و فریب اور ہتھکنڈوں کو بادشاہ کی نسبت زیادہ جانتے اور پہچانتے ہیں بادشاہ کو ملکی مہمات اور معاملات میں الجھ کر یہ موقع کہاں کہ وہ چوروں کی نفسیات اور ان کی وارداتوں کی ٹوہ لگاۓ۔ حضرت عمرؓ چونکہ عہدہ احتساب سے سرفراز تھے اس لیے بد کردار اور بد افعال اشخاص جو در پردہ شیطانی گر گے تھے ان سے لرزاں و ترساں رہتے تھے۔ بلکہ ان کے احتساب کو تو دریائے نیل بھی مانتا تھا۔ کہ ان کے حکم پر جاری ہوا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ شیطان کا کسی شخص یا چیز سے ڈرنا اس شخص یا چیز کی اصلیت کو اس شخص یا چیز پر ثابت نہیں کرتا جس کی افضیلت قطعی الثبوت ہے۔

مثلاً اذان کے بارے میں فریقین کہ ہاں بروایت صحیحہ مروی ہے کہ اذان سن کے شیطان گوز کرتا ہوا بھاگتا ہے اور پھر نماز میں آ موجود ہوتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے ۔حالانکہ یہ بات بالاجماع ثابت ہے کہ نماز تمام اصلی عبادت میں افضل ہے چہ جائیکہ اذان کے وہ تو وسیلہ نماز ہے نہ اصل عبادت ہے، نہ فرض۔ اور نماز سے اس کی برابری کا سوال ہی نہیں اسی صورت پر حضرت عمرؓ انبیاء کرام علیہ السلام کے معاملہ کو قیاس کرنا چاہیے۔

تیسرے یہ کہ انبیاء علیہ السلام تو شیطانی مکر و فریب اجمالی طور پر بیان کر کے اس کے راستے بند فرماتے ہیں اور حضرت عمرؓ اس کے مکروہ فریب کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے سارے انجر پنجر اور جانچتے اور پرکھتے ہیں۔

اور بہکانے ، گمراہ کرنے کے ذرائع وسائل اور اوزاروں کی تفصیلی جانچ پڑتال کرتے اور ان کا توڑ تلاش کرتے ہیں۔

اور چونکہ عقل مدرک میں (سمجھنے والی) احکام کلیات کی ہے اور وہم جزوی احکام کا مدرک ہے اور وہم ہی قویٰ کیا پورے وجود انسانی پر حکمرانی کرتا ہے اور اکثر لوگوں میں اکثر اوقات عقل پر غالب رہتا ہے اور عقل کے خوف و ڈر کو خاطر میں نہیں لاتا اس کے خوف سے اپنی مملکت اعضائے انسانی میں من مانے احکام صادر کرنے سے باز رہتا ہے نہ عاجز ہوتا ہے جب تک وہ خود ہی کسی بات یا چیز سے خائف نہ ہو جائے شیطان بھی جب تک اس کی مدد اور موافقت نہ حاصل کر لے کوئی کام انجام نہیں دیتا۔ وہم شیطان کا اتنا بڑا ہتھیار ہے کہ وہ ساتھ نہ دے تو شیطان مفلوج ہو کر رہ جائے۔

لہذا ان وجوہ سے شیطان حضرت عمرؓ سے خائف ہوگا انبیاء کرامؑ سے نہیں اور یہ بات حضرت عمرؓ یا ان جیسی ہستیوں کی فضیلت کی نہیں بلکہ یہ چیز ان کی جزئی کاریگری اور باریک بینی سے حاصل ہوئی ہے جیسے فراست مومنانہ بھی کہا جا سکتا ہے، جو انبیاء کرام علیہ السلام ہی سے ماخوذ اور ان کے انوار و تجلیات کا پر تو ہے یہ زیر کی ودانائی اوژرف نگاہی نور نبوت ہی کا فیضان ہے۔

چوتھے یہ کہ انبیاء کرام کو جنت کی نعمتوں کی امید دلا کر، اور دوزخ کے شدائد اور ہولناکیوں سے ڈر کر، اطاعت کی طرف راغب اور معاصی سے نفور و خائف کرتے ہیں، اول تو یہ باتیں نظر سے غائب ہیں، اور بہت سے لوگوں کی عقل میں بھی نہیں آتیں۔ دوسرے یہ صرف وعدہ وعید ہے اور وہ بھی حشر کے دن کا: اور ایسے آدمی کو شاذ و نادر ہی ملیں گے۔ جو ان وعدوں پر ایسا ایمان رکھتے ہوں جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز پر اور جن کو انبیاء کرام علیہ السلام کے وعدوں پر اعتماد کلی ہو۔

صفحہ 2 از 3