دھوکہ نمبر 99 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 99

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 3

اور حضرت عمرؓ یا ان جیسی ہستیاں دنیاوی نعائم کے ساتھ رغبت دلا کر یا ڈنڈے کی زور سے اطاعت کی طرف راغب کرتی اور برائیوں سے باز رکھتی ہیں۔ پھر دنیا کے اکثر لوگ تو ترت فائدے اور نفع ہی کو قابل توجہ سمجھتے اور یہیں کے مکافات عمل سے ڈرتے اور خوفزدہ ہوتے ہیں، اس لیے لامحالہ شیطانی فوج اور اس کے گرگے ،عمری دبدبہ و قہر سے زیادہ خائف اور ان کے نام سے لرزہ براندام تھے، نہ کہ انبیاء سے چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے:

السلطان يزع اكثر مما يزع القرآن

(قرانی بندوبست سے زیادہ سلطانی بندوبست سخت ہوتا ہے)

اردو میں بھی ایک مثل مشہور ہے کہ (مار کے آگے بھوت بھی بھاگتا ہے) جو جن بھوت تعویز گنڈوں سے نا بھاگے اس کی اگر پٹائی کر دی جائے تو فوراً دفع ہو جاتا ہے پانچویں یہ روایت بھی اس طعن کہ بخئے ادھیڑتی ہے جو شیعوں اور سنیوں دونوں کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت علیؓ سے آپ کے احباب اور دوستوں کے مراتب دریافت کیے گئے تو اپ نے فرداً فرداً بیان فرمائے اور حضرت عمارؓ کے فضائل میں یہ الفاظ فرمائے:

ذالك الذي إجارة الله عن الشيطان على لسان نبيكم

(یہ وہ ہستی ہے جس کے شیطان سے پناہ میں رہنے کی اطلاع الله تعالی نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے دلوائی) اس روایت سے حضرت عمارؓ کا شیطان سے محفوظ ہونا ثابت ہوتا ہے، تو چاہیئے انہیں بھی انبیاء کرام علیہ السلام پر فضیلت ہو ،(اور کسی کے نزدیک بھی ایسا نہیں ہے) بہرحال عمر ہوں یا عمار مادہ دونوں کا مشترک ہے فرق صرف اتنا ہے کہ عمار خود شیطان سے محفوظ ہیں اور حضرت عمرؓ خود محفوظ ہونے کے ساتھ شیطان کے لئے ہوّا بھی ہیں ،کہ ان کے سایہ تک سے لرزتا ہے اور میدان چھوڑ بھاگتا ہے، اب اگر طعن کرنے والوں کی منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو بد یہی نتیجہ نکلے گا کہ انبیاء کرام علیہ السلام تو( نعوذ بالله )شیطان سے محفوظ نہ رہ سکے اور حضرت عمار کی محفوظیت کی لسان نبی ﷺ کے ذریعہ الله تعالی نے خبر دیدی تو گویا یہ بھی انبیاء علیہم السلام سے افضل ہوئے۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ۔


صفحہ 3 از 3