Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے)

  نقیہ کاظمی

دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے)

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت، 20)
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت، 21)
خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت، 22)
 ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے اللہ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں ان کا پروردگار وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ثواب ہیں ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے۔
تشریح: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت اس امت کے وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو سیدھا اللہ تعالیٰ سے خوشخبری سننے والے تھے وہ کتاب اللہ کے سیدہے مخاطب تھے۔
 بیشک جو حضرات رسول اکرمﷺ اور قرآنِ کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے اور اطاعت خداوندی میں اپنے مال و دولت خرچ کیے اور جہاد وہ بمقابل اہلِ سقایہ اور اہلِ عمارت وغیرہ کے درجہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی بڑے ہیں اور ان ہی حضرات نے جنت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور دوزخ سے مکمل نجات حاصل کی ہے۔ 
 رسول اللہﷺ کی رفاقت میں اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ (وحیدی )
 اس آیت میں مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں سے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا ابو عبیدہؓ بن جراح، سیدنا طلحہٰؓ سیدنا زبیرؓ ارو بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں، قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے معلوم ہوا کہ جو لوگ انہیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی اور نامراد ہیں۔ (وحیدی)
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت، 21)
خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت، 22)
ترجمہ: ان کا رب انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضامندی کی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دوامی نعمت ہے۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔
اور یہ اعلیٰ ترین بشارت ہے اس لیے کہ اللہ رب العزت جلت مجو عزاسمہ کی رحمت و رضا حاصل کرنا عبد صادق کا بڑا مقصد ہے اور یہی مومن کی مراد ہے نعیم مقیم دوانی راحت و رحمت اور غیر معمولی نعمتیں ہوں گے خلود کے معنیٰ ہیں طویل مدت اس کے بعد رشتہ و قرابت سے مقدم اسلام و ایمان کی شان ظاہر فرمائی جاتی ہے۔
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ: بِرَحۡمَةٍ اور وَرِضۡوَانٍ پر تنوین تعظیم کی ہے اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کر سکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجرِ عظیم قرار دیا ہے جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انہیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے تو ڈوب مرنا چاہئیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیاء ہے ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا ہے۔
یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور ہجرت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا اور وہ سب مجاہدین اس فضیلت میں شامل ہیں جو یہ شرف حاصل کریں گے۔ ابو حیانؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے تین وصف ایمان، ہجرت اور مال و جان کے ساتھ جہاد ذکر فرمائے، ان کے مقابلے میں تین ہی انعام ذکر فرمائے، ایمان کے مقابلے میں رحمت، کیونکہ وہ صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور سب سے عام ہے جان و مال کے ساتھ جہاد کے مقابلے میں رضوان جو کسی سے حسن سلوک کی انتہا ہے اور ہجرت، یعنی وطن چھوڑنے کے بدلے میں جنت جو دائمی اقامت کا گھر ہے۔
ان آیات میں ان اہلِ ایمان کی فضیلت بیان کی گئی جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان مال کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔ فرمایا اللہ کے ہاں انہی کا درجہ سب سے بلند ہے اور یہی کامیاب ہیں، یہی اللہ کی رحمت و رضامندی اور دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں نہ کہ وہ جو خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے اور اپنے آبائی طور طریقوں کو ہی ایمان باللہ کے مقابلے میں عزیز رکھتے ہیں۔
ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اس میں ایسی نعمتیں ہیں جو کبھی منقطع نہ ہوں گی اور ایسا قیام جس کی کوئی انتہاء نہیں بےشک اللہ تعالیٰ اس کے یہاں ان کے لیے بڑا اجر ہے کہ دنیا کی ساری نعمتیں اس کے سامنے حقیر ہیں سوچنے کی بات ہے کہ جنت میں جو نعمت، رحمت، اور رضامندی ہوگی، اس سے بہتر کون سی نعمت ہوگی۔
اس مقام پر ذہن نشین رہے، کہ رحمت گنہگاروں کے واسطے ہے، اور رضوان یعنی رضامندی اطاعت شعاروں کے لیے ہے، اور جنت سب مسلمانوں کے واسطے ہے۔ رحمت کو خدا نے اس لیے پہلے ذکر فرمایا، کہ گناہ گار اپنے دل میں مایوس اور نا امید نہ ہوں، اس واسطے کہ گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو رحمت اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
سابقہ آیات میں ہجرت و جہاد کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اور مہاجرین و مجاہدین کی رفعت شان اور ان کی فیروز بختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، اور اب اگلی آیت میں بعض کمزور دلوں اور سادہ لوحوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اور ہجرت کے تعلق سے ان کے خیالات پیش کیے جا رہے ہیں اور پھر بطریقِ احسن انہیں ہدایت و نجات اور نبی کریمﷺ سے سچی اور کھری وفاداری کی راہ دکھائی جارہی ہے۔ اور ان پر وہ حقیقت واشگاف کی جارہی ہے ، جو دارین کی صلاح و فلاح اور دونوں جہاں کی خوش بختیوں کی ضامن ہے۔