اندھے کا جرم
علی محمد الصلابیاندھے کے رہنما کی حیثیت ایک آلہ کی ہے وہ اس کے حکم سے حرکت کرتا ہے، وہ اپنے مصاحبین سے غافل ہوتا ہے، وہ حرکت کرتے ہوئے گر سکتا ہے یا نقصان زدہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ دوسرے کو اپنی حرکت سے نقصان پہنچانے سے بچ سکے کیوں کہ وہ اسے دیکھتا نہیں، اس لیے اگر وہ اپنے رہنما یا کسی ہم نشین کو بلا قصد نقصان پہنچا دے یا زیادتی کا مرتکب ہو جائے تو اس کا جرم رائیگاں ہے، اس پر کوئی پکڑ نہیں چنانچہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جو اندھے کی صحبت میں ہو اور اندھے سے اس کو کچھ نقصان پہنچ جائے تو اندھے پر کوئی گرفت نہیں۔
(موسوعۃ عثمان بن عفان، د۔ محمد رواس قلعہ جی: صفحہ، 99)