Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

میں نے قتل کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ ہے؟

  علی محمد الصلابی

ایک شخص نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنینؓ میں نے قتل کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ ہے؟ اس کے جواب میں سیدنا عثمان بن عفانؓ نے سورۃ مومن کی ان کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی:

 حٰمٓ‌ ۞ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ذِى الطَّوۡلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ۞

(سورۃ غافر: آیت 1، 3)

ترجمہ:حم یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو بڑا صاحبِ اقدار، بڑے علم کا مالک ہے۔ جو گناہ کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔  

پھر فرمایا: عمل کرو اور مایوس نہ ہو۔

(سنن البیہقی: جلد، 7 صفحہ، 17)

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گناہوں کا تعلق اگر حقوق العباد سے ہو تو اس سے توبہ کے لیے ضروری ہے کہ حقوق کی ادائیگی کر دی جائے یا جن کا حق ہے وہ تنازل اختیار کر لیں۔

(موسوعۃ عثمان بن عفان: صفحہ، 93)