اخیافی (ماں شریک) بھائی سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر حد قائم کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا حصین بن منذرؓ سے روایت ہے: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، حضرت ولید بن عقبہؓ کو حاضر کیا گیا، دو آدمیوں میں سے حمران نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ نے کہا: شراب پیے بغیر اس کی قے نہیں کر سکتا، اس نے ضرور شراب پی ہے۔ فرمایا: سیدنا علیؓ اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا حسنؓ! اس کو کوڑے لگا۔ اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مشکلات کو وہی اٹھائے جو سہولیات سے مستفید ہوا ہے۔ گویا کہ وہ ناراض تھے۔ پھر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے سیدنا عبداللہ بن جعفر تم اس کو کوڑے لگاؤ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر نے اس کو کوڑے لگائے اور حضرت علی المرتضیٰؓ شمار کرتے رہے جب چالیس کوڑے لگا چکے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کہا رک جاؤ پھر فرمایا: رسول اللہﷺ نے چالیس کوڑے لگائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس ہی لگائے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی (80) لگائے، سب ہی سنت ہے لیکن مجھے یہ یعنی چالیس ہی محبوب ہیں۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم، کتاب الحدود: جلد، 11 صفحہ، 216)
اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:
1: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے قبل نبی کریمﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے شرابی پر حد جاری کی ہے۔
2: حدود کی تنفیذ کرنے والے کی نیابت دوسرا کر سکتا ہے۔
3: اقامتِ حق میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ انتہائی قوی تھے اس سلسلہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرتے تھے۔ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ اکیلے ماں شریک بھائی تھے لیکن آپؓ نے اس کی پروا نہ کی۔
(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام، د۔ نمر الحمیدانی: صفحہ، 105)
4: احکامِ شرعیہ کی تنفیذ پولیس کے محبوب ترین اعمال میں سے ہے۔
(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام، د۔ نمر الحمیدانی: صفحہ، 104)