Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسئلہ قرطاس

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

مسئلہ قرطاس

سوال:

بخاری شریف میں ہے کہ مرضِ وفات میں رسول پاکﷺ نے فرمایا:

"ایتونی بقرطاس اکتب لكم لن تضلوا بعدي........قال عمر حسبنا كتاب الله۔"

(یعنی کاغذ، قلم، دوات لے آؤ تاکہ میں تمہیں کچھ لکھ دوں، میرے بعد گمراہ نہ ہو گے.....تو عمرؓ نے کہا ہمیں اللّٰہ کی کتاب کافی ہے۔)

ساتھ ہی عمرؓ نے کہا هَجِرَ نبی پاکﷺ بے ہوشی میں ایسی باتیں کر رہے ہیں، تو نبی پاکﷺ نے فرمایا قومو عنی یعنی مجھ سے دور ہو جاؤ۔ اس فقرہ سے نبی پاکﷺ کی ناراضگی معلوم ہو رہی ہے۔ لہٰذا جو مبغوض نبی ہو وہ محبوب خدا نہیں ہو سکتا۔

جواب نمبر1:

سیدنا عمر فاروقؓ کی رائے کا صائب ہونا مسلمات میں سے ہے جس کی رائے کے مطابق قرآن پاک میں اٹھارہ مضامین اور احکام ایسے آئے ہیں، جو رائے فاروقِ اعظمؓ نبی پاکﷺ کے سامنے پیش کرتے تھے اسی کے مطابق قرآن میں احکام خداوندی نازل ہو جاتے تھے۔ جنہیں موافقاتِ عمرؓ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

من جملہ ان سے مقامِ ابراہیم علیہ السلام کے پاس طہارت کے بعد نوافل پڑھنے کا حکم۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں کا مسئلہ۔ ازواجِ مطہراتؓ کا پردہ۔ منافقین کے جنازہ میں شمولیت کی رکاوٹ۔ قتلِ منافق میں وحیِ خداوندی وغیرہ وغیرہ۔

ایسی بلند رائے کے مالک اور مزاج شناس شخصیت نے رسول پاکﷺ کی حالت مبارک کو دیکھ کر ایسے وقت میں مطالبہ قرطاس کو دیکھ کر پہچان لیا تھا کہ نبی اکرمﷺ قلم و قرطاس منگوا کر صدیق اکبرؓ کی خلافت کا مسئلہ لکھوانا چاہتے ہیں۔ تو جواب میں سیدنا عمرؓ نے کہہ دیا کہ "حسبنا کتاب اللّٰہ" یعنی یا رسول اللّٰہﷺ ہمیں اللّٰہ کی کتاب کافی ہے جس میں ابوبکر صدیقؓ کو "ثانی اثنین" کے لقب سے نوازا گیا۔

جس سے صدیق اکبرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔

جواب نمبر 2:

رسول پاکﷺ نے "ایتونی بقرطاس" جمع کا صیغہ استعمال فرمایا تھا۔ جس کا حکم تمام حاضرین مجلس کو تھا، اگر سیدنا عمرؓ نے اس پر عمل نہیں کیا "حسبنا کتاب اللّٰہ" کہہ دیا۔ باقی تمام مہاجرین و انصار اور اہلِ بیت کے افراد سے کسی ایک کا کتبِ تاریخ میں نام دکھاؤ؟ جس نے آپﷺ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے قلم و دوات پیش کر دی ہو۔ حالانکہ اس وقت علی المرتضیٰؓ اور کئی ہاشمی بزرگ بھی موجود تھے اور سیدنا علیؓ کے کاتبِ وحی ہونے کی وجہ سے ان کے پاس قلم و دوات بھی ضرور ہو گی۔ اگر باقی صحابہ کرامؓ مہاجر و انصار اور علی المرتضیٰؓ میں سے کسی نے قلم و دوات نہیں پیش کی تو اکیلے سیدنا فاروق اعظمؓ کو نشانہ بنانا انصاف کے خلاف ہے۔

جواب نمبر3:

اگر حکم ضروری ہوتا تو اسکے بعد رسول پاکﷺ چار دن دنیا میں حیات رہے پھر دوبارہ ارشاد کیوں نہ فرمایا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ نبی پاکﷺ فاروق اعظمؓ کے اشارہ کو سمجھ گئے تھے۔

جواب نمبر 4:

حدیث میں جو "ھُجِرَ" کا لفظ آیا ہے اس کا معنیٰ ہزیان نہیں بلکہ بعض شراح حدیث نے اس کا معنیٰ کیا ہے کہ رسول پاکﷺ اس دنیا کو چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے "ھَجَرَ" کو مشتق بنایا ہے جس کے معنیٰ وطن چھوڑنے کے آتے ہیں۔

جواب نمبر5:

قُوموُا عنِّى ناراضگی کا فقرہ نہیں بلکہ اس کا معنیٰ ہے مجھے چھوڑ دو ۔ کیونکہ لغت عربی میں قیام ترک کے معنیٰ میں بھی آتا ہے ۔ جیسے محاورہ ہے "قام عن الامر" ۔ اے تَرَکَہٗ ۔ تو اب قوموا عنی کا مطلب یہ ہُوا کہ آپ نے فرمایا اب اس بات کو چھوڑ دو۔

جواب نمبر 6:

مسئلہ قلم دوات میں حاضرین کی دو رائیں ہو چکی تھیں۔ بعض کہتے تھے کہ قلم و دوات لے آؤ اور سیدنا عمرؓ کی رائے تھی اللّٰہ کی کتاب کافی ہے۔ تو نبی پاکﷺ کا دوبارہ حکمِ قرطاس نہ کرنا سیدنا عمر فاروقؓ کی رائے کی تائید کر رہا ہے کیونکہ اگر لکھوانا خداوندی سے ہوتا اور برقرار رہتا تو رسول پاکﷺ اس میں سکوت ہر گز نہ فرماتے کیونکہ جس پیغمبرﷺ نے احکام خداوندی کی تبلیغ میں ہر قسم کی مصیبتیں اور تکالیف برداشت کی ہوں اہلِ مکہ کے بائیکاٹ کو برداشت کیا ہو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے ہوں ، اپنے غلاموں کو آگ کے انگاروں پر چلتے دیکھا ہو، بازار طائف میں بدن مبارک کو لہو لہان کرایا ہو ، وطن سے بے وطن ہوئے ہوں ، بیت اللّٰہ کی جدائی برداشت کی ہو ساری مکی زندگی مصائب و آلام میں گزار دی ہو۔ مگر تبلیغ وحیِ خداوندی میں فرق نہ آنے دیا ۔ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک عمرؓ کے کہنے پر وحی خداوندی کے پہنچانے اور لکھوانے میں سستی فرما جائیں اور وہ بھی زندگی کے آخری ایام میں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں آقائے نامدارﷺ کے اشارہ پر جانیں قربان کرنے والے بھی مدینہ میں موجود تھے ۔

معلوم ہوتا ہے کہ رسول پاکﷺ کو بذریعہ وحی یا بذریعہ اجتہاد معلوم ہو گیا تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کی رائے پر ہی عمل ہونا چاہیے۔ چنانچہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری صفحہ 171 جلد 2 پر موجود ہے۔

ثم ظهر للنبيﷺ أن المصلحة ترکه ادا وحى اليه

(پھر آنحضورﷺ کے لیے ظاہر ہو گیا کہ مصلحت نہ لکھوانے میں ہے یا نہ لکھوانے کے بارے میں وحی آ گئی تھی۔)

اسی طرح شیعہ کی معتبر کتاب فلک النجات صفحہ 326 جلد 1 پر ملاحظہ ہو:-

و اما سكوته عليه السلام بعد التنازع ما كان من عنده بل كان یوحى كمابين في مقامهٖ .

(آپﷺ کا حاضرین کے جھگڑے کے بعد خاموش رہنا اپنی طرف سے نہ تھا، بلکہ وحی خداوندی کے سبب سے تھا، جسے اپنے مقام پر واضح کیا گیا ہے۔)

مذکورہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مسئلہ قرطاس کی وجہ سے سیدنا فاروق اعظمؓ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ تو سیدنا عمرؓ کے مناقب سے ہے اور اسے بھی موافقاتِ عمرؓ درج کرنا چاہیے ۔ اسی لیے فتح الباری کے صفحہ 169جلد 1 پر فرمایا گیا :-

"وقد عۃ هٰذا من موافقاتِ عمرؓ"

(یہ مسئلہ قرطاس ، بھی موافقاتِ عمرؓ میں شمار کیا گیا۔)

مگر ہے

چشم بد اندیش که بر کنده باد

عیبش بنماید ہنرش در نظر