Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اِحراق بیتِ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

اِحراق بیتِ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا

سوال:

حضرت عمر فاروقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم کیا اور لکڑیاں اکٹھی کیں اور اس گھر کو جلا دیا۔

جواب نمبر 1:

اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں اس واقعہ کا نام ونشان بھی نہیں ملتا اور غیر معتبر کتب کا اعتبار نہیں۔ بعض تاریخ دان بغیر تحقیق کے سب رطب دیا بس اکٹھا کر دیتے ہیں ۔ جنہیں چھاٹنا علماء محققین کا کام ہے محققین کے نزدیک یہ روایت جعلی ہے اور شیعوں کی تصنیف کردہ ہے۔

جواب نمبر 2:

شیعہ کی کتاب ابن ابی الحدید میں اس واقعہ کو لکھ کر اس کی حقیقت کو کھولا گیا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو ابن ابی الحدید صفحہ 466 جلد نمبر 2:

و اما ما ذكرهٗ من الهجوم علىؓ دار فاطمةؓ وجمع الحطب لتحريقها فهو خبر واحد غير موثوق به ولا معول عليه في حق الصحابةؓ ولا في حق احد من المسلمين ممن ظهرت عدالتة.

اور یہ جو معترض نے ذکر کیا کہ فاطمہؓ کے گھر پر صحابہؓ کا اکٹھے ہو جانا اور لکڑیاں جمع کرنا اور ان کے گھر کو جلانا۔ یہ خبرِ واحد ہے۔ اس پر کوئی اعتبار نہیں۔ اور صحابہؓ کے حق میں اس روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر کسی مسلمان کے حق میں بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جس کی عدالت پر ظاہر ہو چکی ہو ۔

یہ علامہ ابن ابی الحدید علماء شیعہ میں سے ہے ۔ صرف فرق یہ ہے کہ ہمارے ملک کے شیعہ بارہ امامی کہلاتے ہیں اور مصنف کتاب ابن ابی الحدید معتزلی شیعہ ہے جیسا کتاب مذکور کے عنوان پر لکھا ہوا تا حال موجود ہے۔

اب اس روایت کو غور سے دیکھیں اور اس کے ترجمے کو غور سے پڑھیں کہ خود شیعہ

مصنفین بھی اس واقعہ کی تردید کر رہے ہیں۔

جواب نمبر 3:

اہلِ سنت کا اصول یہ ہے کہ جو حدیث یا تاریخ کی روایت قرآن پاک سے ٹکرائے اسے چھوڑ دو اور قرآن پاک پر عمل کرو چونکہ قرآن پاک نے صحابہ کرامؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ ‌

(سورۃ الفتح آیت نمبر 29)

( اصحاب رسولﷺ ) کفار کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں، اور مسلمان

بھائیوں پر مہربان ہیں۔

چونکہ یہ روایت صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کی آپس میں مخالفت اور عداوت پر دلالت کر رہی ہے۔ لہٰذا اسے چھوڑا جائے گا اور قرآن پاک کے فرمان کے مطابق عقیدہ بنایا جائے گا۔