Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے جنازے سے لوگوں کو دور کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عبدالرحمٰن بن یزیدؒ کا بیان ہے کہ جب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا جنازہ جنازہ گاہ میں لایا گیا تو لوگوں کی کثرت سے بھیڑ بہت بڑھ گئی جس کی وجہ سے آپؓ کے جنازہ کو بقیع لے جایا گیا، جب ہم نے بقیع میں آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھی تو اتنا مجمع کسی کے جنازہ میں نہیں دیکھا۔ بھیڑ کی وجہ سے کوئی شخص چارپائی سے قریب نہیں ہو سکتا تھا۔ بنو ہاشم ہی چارپائی سنبھالے ہوئے تھے جب قبر تک لے کر پہنچے تو لوگ ٹوٹ پڑے۔ میں نے دیکھا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھیڑ سے الگ ہو گئے اور پولیس کو بھیجا جو لوگوں کو بنو ہاشم سے دور کرنے لگے یہاں تک کہ صرف بنو ہاشم قبر کے قریب رہ گئے اور پھر بنو ہاشم ہی قبر میں اترے اور انہیں لحد میں اتارا۔

(الطبقات: جلد، 4 صفحہ، 32)

یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ کے دورِ خلافت میں پولیس کافی تعداد میں تھی۔ بعض مؤرخین نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ شمار کیا ہے جس نے پولیس کا نظام قائم کیا۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ، 179)

آپؓ نے پولیس کے محکمے کی ذمہ داری مدینہ میں صحابی جلیل سیدنا مہاجر بن قنفذ بن عمیر قرشی رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔ 

(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ، 105)

اور کوفہ میں عبدالرحمٰن اسدیؒ اور شام میں نصیر بن عبدالرحمٰنؒ کو محکمہ پولیس کا ذمہ دار مقرر فرمایا۔

(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ، 106)

در حقیقت اسلام میں سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بعد سیدنا عثمان بن عفانؓ کی طرح کوئی خلیفہ ایسا نہیں آیا جو قریب و بعید، امیر و غریب اور شریف و وضیع پر بغیر کسی پروا کے حدودِ الہٰی کو قائم کرتا رہا ہو اور اس سلسلہ میں مطلوبہ حقوق و اصلاح کا حق ادا کرتا رہا ہو۔ فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ آپؓ کا دور خلافتِ راشدہ میں شمار ہوتا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد، 1 صفحہ، 409)