Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بحث نمازِ تراویح

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

بحث نمازِ تراویح

سوال

نمازِ تراویح بھی حضرت عمرؓ کی ایجاد ہے۔ رسول پاکﷺ کے زمانہ میں نمازِ تراویح نہیں پڑھی جاتی تھی۔

جواب:

ترمذی شریف صفحہ99 جلد1 پر ہے: رسول پاکﷺ نے بھی اپنی زندگی کے آخری رمضان المبارک میں تین دن تک تراویح پڑھی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو ذرؓ سے روایت موجود ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت و الجماعت تراویح پڑھتے ہیں۔ اور حدیث کی تمام کتابوں میں باب قیام شہر رمضان کے عنوان سے باب موجود ہیں۔

سوال:

کیا نمازِ تراویح کا ثبوت کتب شیعہ سے بھی آپ پیش کر سکتے ہیں؟

جواب

کتب شیعہ سے بھی نمازِ تراویح کا ثبوت ملتا ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ رسول پاکﷺ رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنی نماز بڑھا دیتے تھے جو باقی مہینوں میں نہیں پڑھتے تھے۔ اور وہ نماز ہوتی بھی عشاء کے بعد کی تھی۔ اور تھوڑا تھوڑا وقفہ کر کے پڑھتے تھے۔ یہی نمازِ تراویح ہے۔چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی معتبر کتاب فروع کافی صفحہ 297 طبع نو مکشور۔

عن ابی عبداللہ علیہ السلام کان رسول اللہﷺ يزيد في صلٰوتهٖ في شهر رمضان اذا صلى العتمت صلى بعدها فيقوم الناس خلفهٗ فيدخل و يدعهم ثم يخرج ايضًا فيجيئون ويقومون خلفه فيد عهم ويدخل مرادا قال وقال لا تصل بعد العتمة في غير شهر رمضان۔

سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ رسول پاکﷺ رمضان کے مہینے میں اپنی نماز بڑھا دیتے تھے۔ جب عشاء کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو اس کے بعد نماز شروع کرتے اور سب لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ پھر حضرتﷺ گھر چلے جاتے اور لوگوں کو چھوڑ جاتے ۔ پھر گھر سے آ جاتے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ پھر گھر چلے جاتے ۔ یہ کاروائی بار بار ہوا کرتی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا یہ نماز رمضان کے علاوہ مت پڑھو۔

ناظرین کرام ! مذکورہ روایت اور اس کا ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ نمازِ عشاء اور نمازِ عتمہ ایک ہی چیز ہے ۔ یہ نماز جو رمضان المبارک میں باقی نمازوں سے زائد پڑھائی جاتی تھی اور آپﷺ کبھی پڑھاتے کبھی گھر جاتے۔ کبھی تشریف لا کر پڑھاتے پھر چلے جاتے۔ یہی نماز تراویح ہے۔ کیونکہ تراویح ترويحة کی جمع ہے جس کا معنی آرام کرنا۔ تو حضورﷺ چار رکعت پڑھا کر گھر جاتے قدرے آرام فرماتے، اور صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین مسجد میں ہی آرام فرما لیتے۔ پھر آپ آ جاتے۔ پھر چلے جاتے۔ پھر آ جاتے پھر چلے جاتے۔ اور یہ نماز رمضان کے علاوہ باقی سارا سال نہیں پڑھائی جاتی تھی۔ یہی نمازِ تراویح ہے ۔ جس پر اہلِ سنت عمل پیرا ہیں۔ اور انہیں خوش نصیب لوگوں کے مقدر میں آتی ہے ۔ خدا تعالیٰ استقامت بخشے آمین

دوسراحواله : نماز تراویح اگر بالفرض عمر فاروقؓ کی ایجاد ہے تو اس کے متعلق تو سیدنا علیؓ دعائیں دے رہے ہیں ۔ چنانچہ ایک دفعہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عثمان غنیؓ کی خلافت کے زمانے میں مسجد نبویﷺ میں تشریف لائے تو مساجد کی رونق اور نمازِ تراویح میں لوگوں کی شمولیت کو دیکھ کر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی زبان مبارک سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے :

"خدا تعالیٰ عمر فاروقؓ کی قبر مبارک کو منور فرمائے۔ جس طرح اُس نے ہماری مساجد کو رونق بخشی"

چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی کتاب ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغة صفحہ98 جلد 2

وقد روى الرواة ان عليا عليه السلام خرج ليلا فى شهر رمضان في خلافت عثمانؓ بن عفان فری المصابيح في المساجد والمسلمون يصلون التراويح فقال نوّر الله قبر عمر كما نوّر مساجدنا.

علمِ حدیث کے تمام راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ سیدنا عثمان غنیؓ کی خلافت کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں ایک رات تشریف لائے تو مسجدوں میں چراغ روشن تھے۔ اور تمام مسلمان تراویح پڑھ رہے تھے۔ تو علی المرتضیٰؓ نے فرمایا خدا عمرؓ کی قبر کو روشن کرے جیسے اس نے ہماری مسجدوں کو روشن کیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ تمام مسلمانوں کا ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھنا اور مساجد کا چراغوں سے منور ہونا اور پھر خدا تعالیٰ کی تجلیات اور انوار کا نزول اور ملائکہ کی شمولیت اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش ان سب چیزوں کو جب علی المرتضیٰؓ نے اپنی ظاہری اور باطنی آنکھوں سے دیکھا تو زبان مبارک سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے، جو یقیناً سیدنا فاروق اعظمؓ کے حق میں قبول بھی ہوئے ہوں گے۔

سچ ہے؛

قدر زر زرگر بداند قدر جوهری

قدر گل بلبل شناسد قدر یاراں شاہ علیؓ