Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

علمی مذاکرہ اور نا معلوم مسائل میں استفسار

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت حاضر کی گئی جو گودنا گودتی تھی حضرت عمرؓ اٹھے اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں۔ گودنا گودنے کے بارے میں کسی نے نبی اکرمﷺ کا کوئی فرمان سنا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں کھڑا ہوا اور کہا: ہاں، اے امیر المؤمنین! میں نے سنا ہے آپؓ نے پوچھا: کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ۔

(صحیح بخاری: حدیث 5946)

’’کوئی عورت نہ گودنا گودے اور نہ کوئی عورت گودنا گدوائے۔‘‘

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے بچہ ساقط کرنے کے جرم کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا: نبی اکرمﷺ نے اس کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ تو محمد بن مسلمہؓ نے گواہی دی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تو میں وہاں موجود تھا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 6906)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کا حکم پوچھا گیا جو حالتِ سفر میں جنبی ہو جائے اور پانی نہ پائے؟ آپؓ نے فرمایا: جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا وہ واقعہ آپ کو یاد نہیں جب ہم دونوں ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے اور ہم جنبی ہوگئے تھے، میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا تھا، اور آپؓ نے نماز نہیں پڑھی تھی، پھر میں نے نبی کریمﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تھا اور آپﷺ نے فرمایا تھا:

إِنْ کَانَ الصَّعِیْدُ لَکَافِیَکَ۔

(سنن نسائی: الطہارۃ: حدیث 317)

’’بے شک پاک مٹی تجھے کافی تھی۔‘‘ (یعنی اس کے ساتھ تیمم کر لیتا)

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور پھر ہاتھوں سے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ یہ سن کر عمرؓ نے حضرت عمارؓ سے کہا: اے عمار اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث نہ بیان کروں حضرت عمرؓ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔ گویا ایک سنت جو خود حضرت عمرؓ کے ساتھ پیش آئی لیکن آپؓ بھول گئے اور اس کے خلاف فتویٰ دے دیا اور حضرت عمارؓ کی یاد دہانی کے باوجود آپؓ کو یاد نہ آیا تاہم حضرت عمرؓ نے عمارؓ کو جھوٹا نہیں کہا اور انہیں حدیث بیان کرنے کا حکم دے دیا۔ 

(الفتاوٰی: جلد 20 صفحہ 135)