طلب علم پر رغبت دلانے والے فاروقی اقوال
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’بے شک جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے حالانکہ اس کے سر پر تہامہ پہاڑ جیسے بھاری گناہ ہوتے ہیں، لیکن جب وہ علم حاصل کرتا ہے، پھر اللہ سے خوف کھاتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اپنے گھر اس حال میں واپس ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا اے لوگو! علماء کی مجلسوں سے دور نہ رہو۔‘‘
(مفتاح دارالسعادۃ: جلد 1 صفحہ 122۔ فرائد الکلام: صفحہ 135)
آپ نے فرمایا: ’’آدمی اس وقت تک مکمل عالم نہیں ہو سکتا، جب تک کہ نہ اپنے سے بڑے علماء سے حسد کرے اور نہ چھوٹے علماء کو حقیر سمجھے، اور نہ اپنے علم پر اجرت لے۔‘‘
اور سیدنا عمرؓ کا قول ہے: ’’سردار بننے سے پہلے علم حاصل کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ سرداری کا غرور تمہیں طلب علم سے روک دے، اور تم جاہل بن کر زندگی گزارو۔‘‘
(التبیان فی آداب حملۃ القرآن: نووی: صفحہ 60 فرائد الکلام: صفحہ 163 )
نیز حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ ’’علم نے اگر تمہیں فائدہ نہ دیا تو نقصان کبھی نہ پہنچائے گا۔‘‘
(الزہد، إمام أحمد: صفحہ 174۔ فرائد الکلام: صفحہ 168)
اور فرمایا: ’’ایک بابصیرت عالم دین جو حلال و حرام کو جانتا ہو، اس کی موت کے مقابلے میں ہزاروں عابدوں کا مر جانا آسان ہے۔‘‘
(فرائد الکلام: صفحہ 157، مفتاح دارالسعادۃ: جلد 1 صفحہ 121 )
حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’لوگو! کتاب کا خزانہ ہو جاؤ، اور علم کے چشمے بن جاؤ، اور روزانہ اللہ سے روزی مانگو، اگر تمہارے پاس بہت زیادہ روزی نہیں تو کوئی نقصان نہیں۔‘‘
(فرائد الکلام: صفحہ 159، البیان والتبیین: جاحظ: جلد 2 صفحہ 303۔)
اور فرمایا: ’’علم سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، وقار اور سنجیدگی سیکھو، جس سے تم نے علم سیکھا ہے، اس سے خاکساری سے ملو اور جسے تم نے علم سکھایا ہے اس کے لیے بھی خاکسار رہو، جابر و متکبر علماء میں سے نہ بنو کہ تمہاری جہالت کی وجہ سے تمہارا علم چلا جائے۔‘‘
(أخبار عمر: صفحہ 263، محض الصواب: جلد 2 صفحہ 686)
آپ نے عالم کی لغزش و گمراہی سے ڈراتے ہوئے کہا: عالم کی بے راہ روی، منافق کی قرآن سے کٹ حجتی، اور گمراہ کرنے والے آئمہ کی گمراہی اسلام کو ڈھا دے گی۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 717 )