Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا پر اعتراض

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا پر اعتراض

سوال:

قرآن پاک میں آیا ہے و قرنَ فی بیوتکن ولا تبرجن اے نبی پاکﷺ کی اہلِ بیتؓ اپنے گھروں میں بیٹھے رہنا حالانکہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے گھر سے نکل کر سیدنا علیؓ سے جنگ کی اور قرآن پاک کے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔

جواب نمبر 1

اہلِ بیتِ نبویﷺ کے لیے مطلقاً خروج عن البیت( گھر سے نکلنا) منع نہیں، بلکہ نیک کاموں کے لیے : مثلاً حج بیت اللّٰہ ، زیارتِ والدین ،عیادتِ مریض، وغیرہ کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔ جیسے تمام ازواجِ مطہراتؓ حج بیت اللّٰہ کے لیے تشریف لے جاتی تھیں۔ اس پر آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ حالانکہ سیدہ اُم سلمہؓ سیدہ اُم حبیبہؓ کو خود شیعہ بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تو جس طرح باقی نیک کاموں کے لیے ازواج نبیﷺ کو گھر سے باپردہ نکلنا جائز تھا۔ اسی طرح مسلمانوں کی آپس میں صلح کرانے کے لیے سیدنا عثمان غنیؓ کے قصاص کے مطالبے کے لیے گھر سے نکلنا جائز تھا۔ کیونکہ دونوں نیک کام تھے ،چنانچہ اسی نیک ارادہ سے اُم المؤمنینؓ نے گھر سے سفر کیا مگر بلوائیوں نے حالات بدل دیئے۔

جواب نمبر 2:

شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 47طبع ایران پر موجود ہے، کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلافت کے امور سپرد کیئے گئے، تو سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ بھی دینی کام کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ اور سیدہ زینب بنتِ علی المرتضیٰؓ بھی مدینہ منورہ چھوڑ کر قافلہ کے ساتھ میدانِ کربلا میں دینی کام کے لیے ہی تشریف لے گئی تھی۔ اس سے معلوم ہوا اہلِ بیتِ نبویﷺ کو مطلقاً گھر سے نکلنا منع نہیں ہے۔ بلکہ دینی امور کے لیے جائز ہے۔