سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب کب ملا
احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیومسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب کب ملا
سوال
ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب کس نے دیا اور کب ملا ؟
شیعی کتب سے ثابت کریں۔
الجواب
سیدنا ابوبکرؓ کو ہجرت کے سفر کے دوران غارِ ثور میں رسول خداﷺ نے صدیق کا لقب عطا فرمایا ملاحظہ ہو شیعہ کی مشہور کتاب تفسیر قمی طبع ایران صفحہ157
پہلا حواله
رفعه إلى ابى عبد الله عليه السلام لما كان رسول اللهﷺ في الغار قال لأبي بكر كاني انظر إلى سفينة جعفر واصحابه تقوم في البحرانظر إلى الانصار مختبین فی افينتهم فقال ابوبكر تراهم يا رسول الله قال نعم قال فارنيھم فمسح على عينيه فراءهم فقال له رسول الله انت الصديق.
مرفوع روایت ہے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہ جس وقت رسولِ خداﷺ غارِ ثور میں تھے تو آپﷺ نے فرمایا گویا میں جعفرؒ کی کشتی کو دیکھ رہا ہوں جو دریا میں قائم ہے اور انصار کو دیکھ رہا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ پس ابوبکرؓ نے کہا کہ یا رسول اللّٰہﷺ آپ دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا ہاں ابوبکرؓ نے کہا کہ مجھے بھی دیکھاؤ ۔ پس آپ نے سیدنا ابوبکرؓ کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا پس ابوبکرؓ نے بھی دیکھ لیا۔ تو رسول خداﷺ نے فرمایا اے ابوبکرؓ تو صدیق ہے۔
ترجمہ غور سے پڑھو، کیسے صاف لفظوں میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا لقب عطا کیا جا رہا ہے۔
دوسرا حوالہ
شیعہ کی کتاب ابنِ میثم بحرانی شرح نہج البلاغۃ صفحہ 486 طبع تہران (ایران)
وكان افضلهم في الإسلام كما زعمت وانصحم لله والرسولہ الخليفةالصديق وخليفة الخليفه الفاروق
اسلام کے اندر سب سے افضل اور خدا اور رسول خداﷺ کے سب سے زیادہ خیر خواہ حضورﷺ کے خلیفے ابوبکر صدیقؓ تھے اور خلیفے کا خلیفہ (عمرؓ) فاروق تھے۔
اس روایت کے راوی سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں جو سیدنا ابوبکرؓ کو صدیق کے لقب سے یاد فرما رہے ہیں۔
تیسرا حوالہ
سیدنا باقرؒ سے ان کے شاگرد حضرت عروہ نے پوچھا کہ تلوار کے دستے پر سونے چاندی کا پانی چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ جائز ہے، کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تلوار کے دستے پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ شاگرد نے سوال کیا ابوبکر کو صدیق کہ رہے ہو تو سیدنا باقرؒ کو غصہ آ گیا اور رو بقبلہ ہو کر قسم اٹھا کر تین مرتبہ کہا ابوبکر صدیق ہے۔ ابوبکر صدیق ہے ۔ ابوبکر صدیق ہے۔ اور ابوبکر کو صدیق نہ کہنے والوں کو آپؒ نے بد دعا دی ۔ ہمارا ایمان ہے ان کی یہ دعار ضرور قبول ہوئی ہو گی ۔
چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی کتاب کشف الغمہ صفحہ360 جلد 2 طبع ایران
عن عروةعن الى جعفر عليه السلام قال سئلت عن حلية السيون قال لا بأس به تدحلى ابو بكر الصديق سیفہ قال اتقول لہ الصدیق فوثب وثبة واستقبل القبلة وقال نعم الصديق نعم الصديق نعم الصديق - من لم يقل الصديق فلا صدق الله قولہ في الدنيا ولا في الآخرة
حضرت عروۃ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے پوچھا کہ تلوار پر سونا چاندی چڑھانا جائز ہے یا نہیں تو امام نے فرمایا کوئی حرج نہیں، تحقیق ابوبکر صدیقؓ نے تلوار کو مزین کیا ہوا تھا۔ راوی نے کہا کہ آپ ابوبکر کو صدیق کہہ رہے ہیں پس امام نے چھلانگ لی اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا ہاں ابوبکر صدیق ہے، ابوبکر صدیق ہے ، ابوبکر صدیق ہے۔ جو اس کو صدیق نہ کہے خدا اسے دنیا میں بھی سچا نہ کرے اور آخرت میں بھی سچا نہ کرے ۔ (یعنی وہ دنیا اور آخرت میں جھوٹا ہے )