Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ منی کے قطرات تسبیح کرتے تھے. (ازالۃ الخفا)

  زینب بخاری

حضرت عمرؓ منی کے قطرات تسبیح کرتے تھے. (ازالۃ الخفا) 

الجواب اہلسنّت 

1: جس قوم کو دھوکہ دینے اور فریب کاری کا بازار گرم رکھنے کی عادت ہو اس سے کیا بعید کہ وہ دن کو رات اور رات کے ستاروں کو دو پہر کا سورج قرار دے

 محترم قارئین کرام! اس مقام پر بھی غور فرمائیں اس پورے صفحہ میں منی کے قطرات تسبیح پڑھتے ہیں یہ الفاظ کہی بھی مذکور نہیں! یہ شیعہ لوگوں کی فریب کاری اور عامۃ الناس کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی بدترین کوشش ہے دوسروں کو بھی اپنی طرح کا مذہب بنانے کی بھر پور کوشش میں مصروف یہ ٹولہ آخرت کے عذاب الیم سے پوری طرح بے خوف ھو چکا ھے.

ملاحظہ فرمائیے روایت ہے.

 حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں جماع کرنا پسند نہیں کرتا اس لئے کہ جماع کرنے سے میرے جسم سے وہ قطرات نہ نکل جائیں جو تسبیح بیان کرتے ہیں۔( شیعہ تحقیقی دستاویز عکسی صفحہ ) محترم حضرات انسانی جسم میں جو کچھ ہے جسم سے الگ ہونے کے بعد ان کا حکم اور ہے اور جسم میں موجود رہنے کی صورت میں حکم اور ہے انسان کے جسم میں وہ سب کچھ ہے جو جسم سے خارج ہونے کے بعد پاک نہیں ہوتا۔ مگر وہی کچھ خارج ہونے سے قبل جسم میں موجود ہے اور جسم میں اس کی موجودگی کے باوجود نماز وغیرہ عبادات بالکل درست ہیں مگر جسم سے الگ ہوتے ہی ان کا حکم اور ہو جاتا ہے اب اگر کپڑے کے مختصر حصے پر وہی کچھ لگ گیا جو قبل ازیں جسم کے اندر تھا تو وہ کپڑا ناپاک ہو گیا پاک کئے بغیر اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہ ہو گا بالکل اسی طرح وہ خاص حالت ہے جن کا ذکر سیدنا فاروق اعظمؓ نے فرمایا وہ جسم سے الگ ہونے سے پہلے انسان کی طاقت اور قوت ہے جو ذریعہ ہے طویل قیام لمبے سجدے اور ذکر و عبادت میں محنت کرنے کا اگر وہی انسانی طاقت کسی دوسرے محل پر صرف ہوگئی تو کمزور اعضاء و لاغر جسم عبادت کی کثرت ختم کر دے گا جیسا کہ مشاہدہ ہے اب اس درست مفہوم کو چھوڑ کر عبارت کی وہ تعبیر اختیار کرتا جو جسم سے الگ ہونے کے بعد کسی چیز کی ہوتی ہے محض دھوکہ اور پرلے درجہ کی ظالمانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟

2: یہ تعبیر اختیار کرنے میں چونکہ لوگوں کو دھوکہ دینا آسان اور گمراہی کا در کھولنے میں سہولت حاصل ہوتی ہے اس لئے یہ دجل کیا گیا ورنہ ہر ذی عقل جانتا ہے کہ بالیوں میں اگنے والے دانے ، گندم اور چکی میں پسنے کے بعد آٹا گوندھ کر پکانے کے بعد روٹی کھانے کے بعد غذا اور تحلیل ہو کر ہضم ہونے کے بعد بول و براز ہے ایک حالت سے دوسری حالت میں داخل ہوتے ہی ایک ہی چیز کا نام بدلتا رہتا ہے ہر شخص جانتا ہے کہ روٹی کھانے کے بعد پیٹ میں چلی جائے تو وہ کیا بنتا ہے اب آخری مرحلہ کا نام تھوڑا سا مقدم کر دیا جائے تو ارباب عقل جانتے ہیں کہ اس کا کتنا نقصان ہو گا مثلاً کوئی روٹی کھانے والے کو کہے کہ تو وہ کھا رہا ہے جو پیٹ میں جانے کے کچھ دیر بعد بن جائے گا تو آپ ہی فرمایئے کہنے والے کے ساتھ سننے والا کیا کرے گا؟ اگر چہ بعد میں روٹی نے وہی کچھ بن جانا ہے مگر اس حالات تب جانے سے قبل اس کا وہ نام لینا بالکل درست نہیں اسی طرح جسم سے پانی کے خروج سے قبل وہ نام نہیں ہے جو شیعہ کی تبرائی مشین سے فائر ہوا ہے۔

3: یہ تو حضرت عمرؓ کے اس ارشاد کی وضاحت تھی جو ہم عرض کر چکے کہ حضرت عمرؓ کا مطلوب اس قوت کا بحال رکھنا ہے جو عبادت و مجاہدہ کا ذریعہ ثابت ہو نیز یہ بھی کہ ارشاد ربانی ہے کہ "ہر چیز اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرتی ہے مگر تم اس کی تسبیح کو سن نہیں سکتے"۔ (النساء) اور ظاہر ہے کہ انسانی جسم بھی شے میں داخل ہے لہذا اس وضاحت کو جان لینے کے بعد اعتراض نہیں رہتا مگر ذرا تقیہ کی کالی چادر ہٹا کر عجالہ حسنہ رسالہ متعہ کا بھی مطالعہ کر لینا چاہیے یہ رسالہ ملا باقر مجلسی کی کتاب کا حصہ ہے جو اردو ترجمہ کی صورت میں الگ چھپا ہوا بازاروں میں دستیاب ہے جس میں گوہر فشانی کی گئی ہے کہ مومن مرد، عورت متعہ کے بعد جب غسل کرتے ہیں تو غسل کے ہر قطرہ پانی سے ایک فرشتہ پیدا کیا جاتا ہے جو ان کے لیے قیامت تک تسبیح بیان کرتا رہے گا۔معاذاللہ (عجالہ حسنہ)