Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنازه سیدہ فاطمہ رضى اللہ عنہا

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

جنازه سیدہ فاطمہ رضى اللہ عنہا

سوال

سیدہ فاطمہؓ کی وفات کی خبر بھی سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ابوبکرؓ کو نہیں دی تھی اور نہ ہی ابوبکرؓ نے سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ پڑھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ اور ابوبکرؓ کی آپس میں ناراضگی تھی ۔

الجواب

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو سیدہ فاطمہؓ کی وفات کا علم بھی ہو گیا تھا اور سیدنا صدیق اکبرؓ نے جنازہ بھی پڑھا اس مسئلہ میں اختصار کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک حوالہ کتبِ شیعہ سے پیش کرتے ہیں اور ایک حوالہ کتبِ اہلِ سنت ہے۔ ملاحظہ جو اہلِ سنت کی کتاب مدارج النبوة صفحہ446 جلد 2

آورده است در صلٰوهلۃ بر فاطمہؓ که وفات یافت فاطمهؓ میان مغرب و عشاء پس حاضر شد ابوبكرؓ، وعثمانؓ وعبد الرحمٰن بن عوفؓ وزبیر بن عوامؓ پس چون نهاده شده جنازه تا نماز گزارده شود علیؓ گفت نمے نماز گزارد بر دے غیر تو پس آمد ابو بکرؓ و گزارد نماز بر فاطمهؓ و برآورد چار تکبیر ودفن کند

روایت ہے کہ سیدہ فاطمہؓ مغرب و عشاء کے درمیان فوت ہوئیں۔ سیدنا ابوبکرؓ ، سیدنا عثمانؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور زبیر بن عوامؓ حاضر ہوئے ۔ جب جنازہ رکھا گیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کے بغیر ان کا جنازہ اور کوئی نہ پڑھائے گا۔ پس ابوبکرؓ آئے اور سیدہ فاطمہؓ پر نمازِ جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور دفن کیا گیا۔

اسی طرح مذہبِ شیعہ سے تعلق رکھنے والوں کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے ملاحظہ ہو شیعہ کی کتاب ابنِ ابی الحدید شرح نہج البلاغہ صفحہ304 جلد 2

واما امر الصلٰوة فقد روى ان ابابكر هو الذي صلى على فاطمة وكبر عليها اربعا

بہر حال نماز کا معاملہ تو روایت کیا گیا ہے کہ ابوبکرؓ ہی نے سیدہ فاطمہؓ پر نمازِ جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔

ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے پڑھا تھا ۔

سوال

 بخاری میں ہے فلما تونيت دفنها زوجها على ليلا ولم يوذن بها ابا بكر وصلى عليها یعنی جب سیدہ فاطمہؓ فوت ہو گئیں تو ان کے خاوند سیدنا علیؓ نے رات کو دفن کیا اور ابوبکرؓ کو اطلاع نہ دی اور فاطمہؓ پر نماز پڑھی۔ 

 الجواب

اس روایت سے یہ تو معلوم ہو رہا ہے کہ وفاتِ فاطمہؓ کی حضرت علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی تو یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کے سیدنا ابوبکرؓ کو اطلاع ہی نہ ہوئی ہو، اور سیدنا ابوبکر نے نماز جناز بھی نہ پڑھی کیونکہ سیدہ فاطمہؓ کی وفات سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے پوشیدہ رہنے والی بات نہیں تھی، جبکہ صدیق اکبرؓ کی بیوی اسماء بنتِ عمیسؓ کے زمہ سیدہ فاطمہؓ کی خدمت کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی جو سیدہ فاطمہؓ کے آخری دم تک خدمت میں مشغول رہیں بلکہ سیدہ فاطمہؓ کے غسل کفن دفن تک ان کے پاس رہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زوجہ صدیقؓ تو دن رات خاتونِ جنت کی خدمت میں رہیں صدیقِ اکبرؓ کو وفاتِ فاطمہؓ کا علم بھی نہ ہو، اس لیے سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو علم ہو گیا ہے۔