Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے، اس وقت مدینہ اسلامی ریاست کا دارالخلافہ اور خلافت اسلامیہ کا مرکز تھا۔ وہیں پر صحابہ کرامؓ اسلامی احکام کے استخراج و استنباط میں سر توڑ کوشش کرتے تھے۔ جو فتوحات کی کثرت اور اسلامی دائرہ حکومت کی وسعت کے بعد اسلامی معاشرہ میں پیدا ہونے والے جدید حالات کی ایک ضرورت تھی۔ دیگر شہروں کے مقابلے میں مدینہ کا ایک مخصوص و ممتاز مقام تھا، مدنی معاشرہ میں نبی اکرمﷺ نے زندگی گزاری اور اسی سماج میں آپؓ کے ہاتھوں سے ان غنچوں کی تربیت ہوئی تھی، جو خیر الامت تھے اور لوگوں کی اصلاح کے لیے تھے۔ اس خصوصیت کی بنا پر کوئی دوسرا معاشرہ مدنی معاشرہ کا ہم سر نہیں ہو سکتا، نیز مدتِ خلافت کے ابتدائی دس سالوں تک منفرد ذاتی خصوصیات اور کامیاب حکومتی سیاست کے ساتھ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عمرؓ کی موجودگی کا ایک بڑا اثر یہ ہوا کہ پہلی اور دوسری صدی میں مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث و فقہ اور قانونِ شریعت کا پہلا مدرسہ بن کر سامنے آیا۔

سیدناعمرؓ کے دورِ خلافت میں مدینہ صحابہ کرامؓ رضی اللہ عنہم کا خصوصاً ان صحابہ کرامؓ کا جنہوں نے ابتدائی مرحلہ میں اسلام کی طرف سبقت کی تھی، انسٹیٹیوٹ ایوان علم و فن تھا۔ حضرت عمرؓ نے ان کی بھلائی اور اس ضرورت کے پیشِ نظر ان کو اپنے پاس روک لیا تھا کہ امت کے مسائل کی سیاست و تدبیر میں وہ لوگ سیدنا عمرؓ کے معاون ہوں گے۔ آپؓ نے ان لوگوں کو ان کے علم سے فائدہ اٹھانے اور ان کے مشورہ و خیالات سے رہنمائی حاصل کرنے کی نیت سے ان کے اخلاص پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے پاس روکا تھا اس طرح ان صحابہ کرامؓ کا علم مدینہ میں باقی رہا اور فتویٰ دینے والے فقہاء صحابہ کی تعداد 130 تک پہنچ گئی۔ کثرت سے فتویٰ دینے والے سات لوگ تھے۔ ان کے نام ہیں: عمر، علی، عبداللہ بن مسعود، عائشہ، زید بن ثابت، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

ابو محمد بن حزم کا کہنا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے فتویٰ کی الگ الگ ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 45)

اور جن صحابہؓ کے فتاویٰ متوسط تعداد و مقدار میں ہیں ان میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لیے کہ وفات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مختصر مدت تک زندہ رہے، پھر وفات پا گئے۔ اسی طرح اس زمرہ میں ام سلمہ، انس بن مالک، ابوسعید خدری، ابو ہریرہ، عثمان بن عفان، عبداللہ بن زبیر، ابو موسیٰ اشعری، سعد بن ابی وقاص، جابر بن عبداللہ، معاذ بن جبل، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، عمران بن حصین، اور عبادہ بن صامت رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ الگ الگ چھوٹی چھوٹی جلدیں ان کے فتاویٰ کی تیار ہو سکتی ہیں۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 45)

مذکورہ افراد میں سے اکثر لوگ حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں مدینہ ہی میں رہے، صرف وہی لوگ باہر گئے جنہیں اسلامی حکومت کی وسعت کے نتیجہ میں مفتوحہ ممالک کے باشندگان کو قرآن و احادیث نبویﷺ کی تعلیم دینے کی غرض سے حضرت عمرؓ نے تعلیمی یا جہادی مہم پر بھیج دیا تھا۔ درحقیقت فاروقی سیاست ہی کے نتیجہ میں مدینہ مرکز علم و فقہ، اور دانشوران و مشیرگان کا شہر بنا، اس فاروقی سیاست کی کامیابی پر ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا یہ واقعہ واضح ثبوت ہے: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے میں چند مہاجرین کا استاد تھا، میرے شاگردوں میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک مرتبہ جب میں ’’منیٰ‘‘ میں ان کی قیام گاہ پر تھا تو اس وقت وہ سیدنا عمرؓ کے پاس تھے اور یہ حضرت عمرؓ کا آخری حج تھا۔ عبدالرحمٰن میرے پاس آئے اور کہا: اگر آپؓ اس آدمی کو دیکھتے جو آج امیر المؤمنین کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیر المؤمنین! کیا آپ فلاں آدمی کی خبر لیں گے؟ وہ کہتا ہے: اگر عمر فوت ہو جاتے تو میں فلاں سے بیعت کر لیتا، اللہ کی قسم سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت ہنگامی حالت میں ہوئی تھی اور پوری ہوئی۔ سیدنا عمرؓ یہ سن کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا: میں ان شاء اللہ آج شام کو لوگوں کے درمیان ایک تقریر کروں گا اور سب کو ان لوگوں سے خبردار کروں گا جو مسلمانوں کی حکومت کو ان سے غصب کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، امیر المؤمنین ایسا نہ کیجیے، کیونکہ یہ حج کا موسم ہے اس میں جاہل، گنوار اور نالائق طبیعت کے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں۔ جب آپؓ تقریر کرنے کھڑے ہوں گے تو یہی لوگ آپؓ کے نزدیک ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپؓ کوئی بات کسی مقصد سے کہیں اور لوگ اسے اوپر ہی سے لے اڑیں۔ نہ تو اس کی حقیقت سمجھیں اور نہ ہی صحیح معنیٰ و مراد پر محمول کریں۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ابھی آپؓ کچھ نہ کہیں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جائیں، اس لیے کہ وہ دارالہجرت اور دارالسنہ ہے۔ پھر وہاں آپؓ شرفاء اور سمجھ بوجھ والے لوگوں کو بلائیں اور جو کہنا ہو وہاں پورے اعتماد اور قوت سے کہیں تاکہ اہلِ علم آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس کو صحیح معنیٰ و مراد پر محمول کریں۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: سنیے، اللہ کی قسم! ان شاء اللہ مدینہ پہنچنے کے بعد میں سب سے پہلے یہی کروں گا۔ 

(صحیح البخاری: کتاب الحدود: حدیث 6830)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ’’مدینہ والے ہی علم و فہم اور دانائی کے مالک ہیں، اس لیے کہ عمر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما مدینہ والوں کی اس خصوصیت پر متفق تھے۔‘‘ آگے فرماتے ہیں کہ ’’یہ استدلال صرف ان لوگوں کے حق میں صحیح ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تھے، نیز جو صحابہؓ مدینہ والوں کے ہم پلہ تھے ان کا بھی یہی حکم ہے اور معلوم ہوا کہ مذکورہ اختصاص سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر دور میں مدینہ کے ہر فرد کی یہی خصوصیت باقی رہے۔‘‘ 

(فتح الباری: جلد 12 صفحہ 155، المدینۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 46 )

بہرحال معاشرتی ترقی اور فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ جن علمی مراکز و مدارس کا وجود ہوا ان کی نشوونما اور تعمیر و ترقی میں اس فاروقی دور کا زبردست اثر رہا، حضرت عمرؓ کے مدارس کے شاگرد مدینہ میں رہے اور مدینہ میں اپنے علم کی نشر و اشاعت کی، پھر ان شاگردوں کے شاگرد تیار ہوئے جو سرچشمۂ علمِ نبوت سے قریب ہونے اور مدنی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے عظیم ترین شخصیتوں کے مالک ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ کے بعض شاگردوں کو نو مسلموں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے دور دراز کے مفتوحہ علاقوں میں بھیج دیا گیا اس طرح مدینۃ الرسولﷺ نے علم و فقہ میں ایک اونچا مقام پایا اور اس کے مدارس نے مفتوحہ علاقوں اور نو تشکیل شدہ مدارس مثلاً بصرہ اور کوفہ کے مدارس کی تعمیر و ترقی میں کافی اثر دکھایا۔ مدینہ کی فقہی و علمی مرکزیت کو ان مراحل میں سمجھا جاسکتا ہے:

مدینہ مہبط وحی و تشریع تھا، خلفائے راشدینؓ کے دورِ خلافت تک کوئی شہر اس کا مقابل نہ تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں مدینہ فقہاء صحابہؓ کا مرکز تھا، ان میں سب سے آگے حضرت عمرؓ تھے۔

35ھ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ منتقل ہو گئے، لیکن مدینہ علماء و مفتیان صحابہ کا علمی مرکز بنا رہا، اس لیے کہ وہاں جو فقہاء صحابہؓ مقیم تھے وہ لمبی عمر تک زندہ رہے، پچاس سالوں سے زیادہ اور سو سال سے کچھ ہی کم اکثر کی زندگی رہی۔ وہ صحابہ یہ تھے: عائشہ، ابو ہریرہ، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر، اور سعد بن ابی وقاص وغیرہم رضی اللہ عنہم ۔

مدینہ ہی میں کبار تابعین کا مدرسہ بھی وجود میں آیا، ان میں سات ایسے فقہاء تھے کہ تمام اسلامی شہروں میں کہیں ان کی کوئی نظیر و مثیل نہ تھی۔ شاعر نے ان ساتوں کو ایک ساتھ ذکر کر دیا ہے:

ألا کل من لا یقتدی بأئمۃ

فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجۃ

ترجمہ: ’’سن لو! جو شخص اپنے پیشواؤں کی پیروی نہیں کرتا، اس کی تقسیم بڑی ناانصافی پر مبنی ہے اور حق سے خارج ہے۔‘‘

فخذہم عبید اللّٰه عروۃ قاسم سعید أبوبکر سلیمان خارجۃ

ترجمہ:’’جان لو وہ پیشوا حضرات عبید اللہ، عروہ، قاسم، سعید، ابوبکر، سلیمان اور خارجہ ہیں۔‘‘

ان کے بعد تابعینؒ کا دوسرا طبقہ یعنی صغار تابعینؒ کا دور آیا، یہ لوگ دوسری صدی کے نصف اول کے آواخر تک زندہ رہے، ان لوگوں میں ابنِ شہاب زہری، نافع بن اسلم، اور یحییٰ بن سعید انصاری ہیں۔

پھر امام مالک رحمہ اللہ کا دور آیا، آپ تبع تابعین میں سے ہیں آپ چھوٹے اور بڑے تمام گزرے ہوئے تابعینؒ کے علم کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔

مدینہ والوں کے علم کی فوقیت کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ حجاز والوں کے علم کے محتاج تھے۔ حصول علم کے لیے انہوں نے مدینہ کا سفر کیا، جب کہ یہ تمام چیزیں کسی دوسرے شہر کے لیے نہیں کی گئیں، اسلامی شہروں کے علماء نے حصول علم کے لیے مدینہ کا سفر کیا اور اپنے علم و صلاحیت کو اپنے اساتذہ و علماء کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح وہی اساتذہ ہی اس سلسلہ میں مرجع ہوا کرتے تھے۔ مدینہ کے علماء دیگر شہروں میں قاضی اور معلم بن کر گئے۔ 

( المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 47)

 اور آغاز ان لوگوں سے ہوا جنہیں شام اور عراق کی فتح کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہاں اس لیے بھیج دیا تھا تاکہ لوگوں کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنتیں سکھائیں، چنانچہ عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، عمران بن حصین، اور سلمان فارسی وغیرہم رضی اللہ عنہم عراق گئے، اور معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، ابو درداء، اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہم جیسے لوگ شام گئے۔ اور آپ کے پاس عثمان، علی، عبدالرحمٰن بن عوف، ابی بن کعب، محمد بن مسلمہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم جیسے لوگ ہی رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو اس وقت عراق میں رہنے والے صحابہؓ میں سب سے زیادہ علم والے تھے وہاں فتویٰ دیتے تھے، پھر مدینہ آتے اور مدینہ کے علماء سے اپنے فتویٰ کے بارے میں استفسار کرتے، وہ انہیں ان کے فتویٰ سے رجوع کرنے کو کہتے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ واپس عراق جاتے اور انہیں صحیح بات بتاتے۔ 

(الفتاویٰ: جلد 20 صفحہ 172)

مدنی مدارس نے دیگر مدارس پر بھی اپنا اثر چھوڑا، جس کے نتیجہ میں کوفہ کے علاوہ بقیہ تمام مسلم علاقے علمائے مدینہ کے تابع تھے، علم کے میدان میں خود کو ان کے برابر نہیں سمجھتے تھے، مثلاً شام و مصر کے علماء جیسے امام اوزاعی اور ان سے پہلے بعد کے دیگر علماء، جیسے لیث بن سعد اور ان سے پہلے و بعد کے دیگر مصری علماء، ان لوگوں کے نزدیک اہلِ مدینہ کے عمل کی تعظیم اور ان کے قدیم مسلک کی اتباع ظاہر اور واضح ہے۔ اسی طرح بصرہ کے علماء جیسے ایوب، حماد بن زید، عبدالرحمٰن بن مہدی اور ان جیسے دوسرے علماء۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ شہروں میں اہلِ مدینہ کے مسلک کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 

(الفتاویٰ: جلد 20 صفحہ 174 )

مدنی مدارس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ دیگر شہروں کے لوگ مدینہ والوں کے علم پر بھروسا کرتے تھے اور ہر علم و فتویٰ پر اسے مقدم رکھتے تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے روایت کیا ہے کہ محمد بن حسن شیبانی جب لوگوں کو امام مالکؒ کی روایت سے حدیث سناتے تو آپ کا گھر کھچا کھچ بھر جاتا اور جب امام مالکؒ کے علاوہ دوسرے کی روایت سے حدیث سناتے تو بہت کم لوگ حاضر ہوتے۔ آپؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا: اپنے ساتھیوں کو برے ناموں سے یاد کرنے والا تم سے بڑھ کر میں کسی کو نہیں جانتا۔ جب میں تم کو مالک کی سند سے حدیث سناتا ہوں تو جگہ مجھ پر تنگ کر دیتے ہو اور جب تمہارے ساتھیوں کی سند سے تم کو کچھ سناتا ہوں تو کراہت محسوس کرتے ہوئے تم حاضر ہوتے ہو۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 48)

مدینہ والوں کے علاوہ جس نے جتنا مدینہ والوں سے علم حاصل کیا اسی تناسب سے وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں، وہ لوگ مدینہ والوں ہی کے علم کو برتری کا معیار شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ مکہ والوں میں سے مجاہد اور عمرو بن دینار وغیرہ علماء کا کہنا ہے کہ ہمارا علمی و فقہی مقام تقریباً ایک دوسرے کے برابر تھا، یہاں تک کہ عطاء بن رباحؒ مدینہ گئے اور جب وہاں سے لوٹے، تب ان کی فضیلت ہم پر واضح ہوئی۔

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 48)

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں مدینہ جن فقہی ذخائر سے مالا مال ہوا، بہرحال اس کا سبب حضرت عمرؓ کی الہام یافتہ شخصیت ہی تھی، ان کے حق میں اس کامیابی کی گواہی نبی کریمﷺ نے اس وقت دے دی تھی جب دیکھا کہ وہ بیشتر باتوں میں رب کی مرضی کے مطابق رائے و مشورہ دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ سیدنا عمرؓ نے اسلامی ملک کے دارالخلافہ میں ایسا مدرسہ تعمیر کیا تھا جس سے علماء، مبلغین، دعوتی کارکن، حکمران اور قاضی و جج فارغ ہوئے اور عالمِ اسلام میں پائے جانے والے اولین علمی مدارس میں ہمیں اس فاروقی مدرسہ کا کافی اثر نظر آ رہا ہے، اس لیے کہ تمام موسسین مدارس و مراکز علمیہ تقریباً فاروقی فقہ و بصیرت سے متاثر ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب ان علمی مدارس کے بارے میں مختصراً معلومات قارئین کی پیش خدمت ہیں:

1۔ مکی درس گاہ:

مسلمانوں کے دلوں میں مکی مدرسہ کا بڑا احترام تھا، خواہ وہ مکہ کے باشندے ہوں یا بلد حرام کی زیارت کرنے والے اور حج و عمرہ کرنے والے، ہر مومن جس نے مکہ کو دیکھا یا اسے دیکھنے کی کوشش کی، اس کے دل کو اپنی طرف موڑ لیا۔ صحابہ کرامؓ کے زمانے میں مکہ میں علم کا زور کم تھا، لیکن ان کے آخری اور تابعین کے ابتدائی دور میں نیز تبع تابعین جیسے ابن ابی نجیحؒ، اور ابن جریجؒ (الإعلان والتوبیخ لمن ذم التاریخ: صفحہ 292 )کے زمانے میں مکہ میں علم کا زور ہوا۔ البتہ مکہ کو یہ خصوصیت ملی کہ اسے ترجمان القرآن اور حبر الامت ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی تمام تر توجہات اور کوششیں علم تفسیر پر مرکوز تھیں اور اپنے شاگردوں کو اسی کی تربیت دیتے تھے۔ پھر تابعین میں ایسے آئمہ و علماء پیدا ہوئے جو دیگر تفسیری مدارس کے طلبہ پر سبقت لے گئے۔ علمائے محققین نے اس مکی مدرسہ کی برتری اور نمایاں کارکردگی کے اسباب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی امامت و استاذی کو کلیدی مقام دیا ہے۔ (تفسیر التابعین: دیکھئے محمد الخضری: جلد 1 صفحہ 371 ) اور جن اسباب نے قرآنِ مجید کی تفہیم و تفسیر کے باب میں ان کو دوسرے صحابہؓ سے ممتاز کیا ان اسباب کو بھی ذکر کیا۔ مختصراً وہ اسباب یہ ہیں: 

ان کے حق میں دین کی سمجھ اور علم تفسیر قرآن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعا فرمانا۔

کبار صحابہؓ سے علم سیکھنا۔

 اجتہاد کی صلاحیت اور استنباط پر قدرت نیز تفسیر سے خصوصی شغف۔

منفرد و مخصوص انداز میں اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت۔

 علم کی نشر و اشاعت کی دُھن اور اس کے لیے دور دراز کا سفر کرنا۔

 تاخیر سے وفات ہونا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر کی قربت۔ 

(تفسیر التابعین: دیکھئے محمد الخضری: جلد 1 صفحہ 374، 395)

اور جب حضرت عمرؓ نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اندر شرافت اور ذہانت و فطانت کی علامات دیکھیں تو ان پر خصوصی توجہ دی، انہیں اپنی مجلس میں بلاتے اور اپنے قریب بٹھاتے، ان سے مشورہ کرتے، جہاں قرآنی آیات میں اشکال ہوتا ان کے بارے میں استفسار کرتے اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہما چونکہ ابھی نوجوان لڑکے تھے اس لیے اس اعزاز و تکریم سے ان کو آگے بڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حوصلہ ملتا، بلکہ دیگر علوم کے ساتھ تفسیر قرآن کے علم میں خوب محنت کرتے۔ عامر شعبی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے! میں دیکھ رہا ہوں کہ امیر المؤمنین تم کو قریب رکھتے ہیں، تمہارے ساتھ تنہا بھی ہوتے ہیں، اور دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ تم سے بھی مشورہ لیتے ہیں، اس لیے تم میری چار باتیں یاد رکھنا: اللہ سے ڈرنا، ان کا کوئی راز فاش نہ کرنا، وہ کبھی تم کو جھوٹا نہ پائیں، ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا۔ 

(الحلیۃ: جلد 1 صفحہ جلد 1 صفحہ 318، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 376 )

سیدنا عمر فاروقؓ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو اکابر صحابہؓ کی مجلس میں بھی لے جاتے تھے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ سیدنا عمرؓ نے ان میں قوت فہم، سلامتی فکر اور استنباط کی باریکیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کو بخوبی جان لیا تھا۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ میری بھی رائے معلوم کرتے تھے اور مجھ سے کہتے تھے: تم اس وقت تک کچھ نہ کہو جب تک کہ وہ لوگ اپنی کوئی رائے نہ دے دیں اور جب میں کوئی رائے دیتا تو آپؓ کہتے: تم سب مل کر مجھے وہ مشورہ نہ دے سکے جو اس نوعمر و ناتجربہ کار بچے نے دیا ہے۔ 

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 539، حاکم نے اس کی سند کی تصحیح کی ہے اور ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔)

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے احترام مجلس و آدابِ بزرگان کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی ایسی مجلس میں ہوتے جس میں ان سے بزرگ لوگ موجود ہوتے تو ان کی اجازت کے بغیر ایک لفظ نہ بولتے۔ حضرت عمر فاروقؓ اس خاموشی کو محسوس کرتے تھے چنانچہ ان کے علم کی ہمت افزائی کرتے، اور انہیں بولنے پر ابھارتے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 377 )

 جیسے کہ اس کی مثالیں آیت کریمہ: 

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ۞ (سورۃ البقرة: آیت 266) اور  اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞(سورۃ النصر: آیت 1)کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ 

حضرت عمرؓ کی ایک علمی مجلس ہوتی تھی جس میں نوجوانوں کی علمی باتیں سنتے اور انہیں علم سکھاتے تھے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان نوجوانوں میں آگے آگے رہتے تھے۔ عبدالرحمٰن بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ جب اشراق کی نماز سے فارغ ہوتے تو کھجوریں خشک کرنے والے اپنے کھلیان میں جاتے اور قرآن پڑھنے والے نوجوانوں کو بلواتے، ان میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بھی ہوتے۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ سب آتے اور دوپہر تک قرآن پڑھتے پڑھاتے اور دوپہر کے وقت آپ گھر واپس لوٹ جاتے۔ ایک مرتبہ وہ سب قرآن پڑھتے ہوئے جب اس آیت سے گزرے:

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتۡهُ الۡعِزَّةُ بِالۡاِثۡمِ‌ فَحَسۡبُهٗ جَهَنَّمُ‌ وَلَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ۞(سورۃ البقرة آیت 206)

ترجمہ:’’جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اسے تعصب اور گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ انتہائی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ 

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡرِىۡ نَفۡسَهُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ‌ وَ اللّٰهُ رَءُوۡفٌ بِالۡعِبَادِ ۞(سورۃ البقرة: آیت 207)

ترجمہ:’’حالانکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا مندی کی طلب میں اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں اللہ بندوں کے ساتھ بڑا شفیق ہے۔‘‘

تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے بعض ساتھیوں سے کہا: دونوں آپس میں لڑ پڑے، حضرت عمرؓ نے ان کی بات سن لی، پوچھا: ابنِ عباس! تم نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: کچھ نہیں امیر المؤمنین! آپؓ نے کہا: نہیں بتاؤ تم نے کیا کہا؟ کہ دونوں آپس میں لڑ پڑے؟ جب ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمرؓ کا یہ اصرار دیکھا تو کہا: میں اس آیت میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص کو جب اللہ سے تقویٰ کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ تکبر کی وجہ سے تعصب اور گناہ کرنے لگتا ہے، اور ایسے آدمی کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کی رضا مندی چاہنے کے لیے اپنی جان تک گنوانے کے لیے تیار ہے، اور یہ شخص جو رضا کا طالب ہے وہ متکبر کو اللہ سے تقویٰ کا پابند بنانا چاہتا ہے، لیکن وہ متکبر اس کی نصیحت کو نہیں مانتا، بلکہ غرور و تکبر کی وجہ سے مزید گناہ کے کام کرنے لگتا ہے اور جب وہ ناصح کی بات نہیں مانتا تو ناصح سوچتا ہے کہ چلو، میں ہی اللہ کے راستہ میں اپنی جان کی تجارت کرتا ہوں، اور پھر وہ لڑ جاتا ہے۔ اس طرح دو لوگ آپس میں جدال و قتال کرنے لگتے ہیں حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: آفرین آپؓ کے علم پر، اے ابنِ عباس! 

(تفسیر الطبری: جلد 4 صفحہ 245، الدر المنثور: جلد 1 صفحہ 578)

سیدنا عمرؓ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے جب قرآن کے بارے میں کچھ پوچھتے تو کہتے: غوطہ لگانے والے نے غوطہ لگا دیا، (فضائل الصحابۃ: أحمد بن حنبل: جلد 2 صفحہ 981 (1940) 

بلکہ اگر حضرت عمرؓ کے پاس پیچیدہ مسائل آ جاتے تو ابنِ عباسؓ سے کہتے: اے ابن عباس! ہمارے پاس کچھ پیچیدہ مسائل آ گئے ہیں، تم ہی ان جیسے مسائل کو حل کر سکتے ہو، پھر ان کی رائے پر عمل کرتے جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ آتا تو آپ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کسی کو نہیں بلاتے تھے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 379 )

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: میں نے ابنِ عباس سے زیادہ حاضر جواب، دانا و بینا، ذی علم، اور بردبار کسی کو نہیں دیکھا اور میں نے سیدنا عمر بن خطابؓ کو دیکھا کہ مشکل اوقات میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہی کو بلاتے اور کہتے: ایک پیچیدہ مسئلہ آ گیا ہے، پھر ان کے قول سے تجاوز نہ کرتے حالانکہ آپ کے اردگرد بدری انصار و مہاجرین صحابہؓ ہوتے تھے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 369)

حضرت عمرؓ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہتے تھے: یہ تم بوڑھوں کا نوجوان ہے اس کے پاس خوب سوال کرنے والی زبان اور خوب سمجھنے والی عقل ہے۔

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 379، فضائل الصحابۃ: أحمد بن حنبل: اثر 1555)

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ وہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی رائے پر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 370)

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بھی زیادہ تر وقت حضرت عمرؓ کے ساتھ ہی گزارتے تھے اور ان سے مسائل پوچھنے اور علم حاصل کرنے کے حریص تھے، اسی لیے حضرت عمرؓ کی تفسیر کو صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ آپ نے نقل اور روایت کیا ہے، بعض علماء نے یہ اشارہ کیا ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا بیشتر علم حضرت عمرؓ سے سیکھا تھا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 381)

حضرت عمرؓ کی توجہ اور ان کی قربت کی وجہ سے مکی مدرسہ کے امام یعنی ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو مذکورہ خصوصیات اور فضائل نصیب ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ حضرت عمرؓ کی مذکورہ خصوصی توجہ ہی نے آپؓ کو علم کے میدان میں بالخصوص فن تفسیر میں پیش قدمی کرنے میں بڑھ چڑھ کر تعاون کیا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 506)

2۔ مدنی درس گاہ:

مدینہ کو خصوصی حیثیت دینے اسے فقہ و فتاویٰ اور علوم شرعیہ کا مرکز بنانے میں فاروقی اقدام اور خالص علمی زندگی کے لیے جن لوگوں نے خود کو وقف کیا تھا، ان تمام چیزوں کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ہمیں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں

حضرت زید بن ثابتؓ کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں روک لیا تھا، اس لیے ان کے شاگردوں کی تعداد بھی زیادہ رہی ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کو مختلف شہروں میں بھیج دیا، البتہ زید بن ثابتؓ کو مدینہ میں روک لیا، وہ مدینہ والوں کو فتویٰ دیتے تھے۔

حمید بن اسود کہتے ہیں: اہلِ مدینہ نے زید بن ثابتؓ کے بعد جس طرح امام مالک کے قول پر عمل کیا اس طرح کسی اور بات پر عمل نہ کیا۔ 

(العلل: إمام أحمد: جلد 3 صفحہ 259، 5145 تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 506)

حضرت زید بن ثابتؓ ان صحابہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے شاگرد عطا کیے اور انہوں نے اپنے اساتذہ کی باتوں کو یاد کیا، اور ان کے نقوش و علوم کی نشر و اشاعت کی۔

( تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 507)

 حضرت عامر شعبیؒ کا قول ہے کہ زید بن ثابتؓ کو دیگر لوگوں پر دو چیزوں میں فوقیت تھی؛ علم فرائض اور علم قرآن میں۔

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 5 صفحہ 449)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی علم فرائض میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مہارت کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

 أَفْرَضُہُمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ۔

(سنن الترمذی: حدیث 3791، امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے )

’’ان یعنی صحابہ میں سے فرائض کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں۔‘‘

مدینہ کے دیگر متعدد فقہاء نے حضرت زید بن ثابتؓ کی صحبت پائی، آپؓ کے شاگردوں میں سے چھ تابعین نے زیادہ شہرت پائی۔ علی بن مدینیؒ کہتے ہیں: جن لوگوں نے حضرت زیدؓ سے ملاقات کی اور ہمارے نزدیک ان کی ملاقات ثابت ہے وہ لوگ یہ ہیں: سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قبیصہ بن ذؤیب، خارجہ بن زید، ابان بن عثمان اور سلمان بن یسار۔ 

( تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 510)

اس مدنی درس گاہ کا دیگر علمی مدارس میں بڑا اثر تھا، جیسا کہ اس سے پہلے ہم واضح کر چکے ہیں۔

3۔ بصری درس گاہ:

فاروقی حکم کی تعمیل میں بصرہ شہر کو سب سے پہلے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے بسایا، 14ھ میں انہوں نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا، اس کے علاوہ بھی باتیں کہی گئی ہیں اس موضوع پر ان شاء اللہ ہم تفصیلی گفتگو اس وقت کریں گے جب فاروقی دورِ خلافت میں نو آبادیاتی اور عمرانی ترقیوں کا ذکر کیا جائے گا بہرحال بصرہ، کوفہ سے تین سال پرانا شہر ہے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 422) 

اور تمام تر فنون میں کوفہ کی درس گاہ سے آگے بڑھا ہوا ہے، یہاں بہت سارے صحابہؓ تشریف لائے اور مقیم ہوئے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 422، ابنِ حبان نے پچاس سے زیادہ مشہور صحابہؓ کا ذکر کیا ہے جو بصرہ آئے تھے)

 انہی میں سے ابو موسیٰ اشعری، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرامؓ ہیں، سب سے آخر میں یہاں حضرت انس بن مالکؓ تشریف لائے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 26، صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 65)

جو صحابہ کرامؓ بصرہ آئے ان میں زیادہ مشہور ابوموسیٰ اشعری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابو موسیٰ اشعریؓ مکہ آ کر اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے، انہوں نے مہاجرین کے ساتھ حبشہ ہجرت کی، صحابہؓ میں سب سے زیادہ ذی علم کہے جاتے تھے، وہ بصرہ آئے اور وہاں لوگوں کو دین کی تعلیم دی۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، سیدنا عمر بن خطابؓ سے بہت متاثر تھے، دونوں کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی، بہرحال ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں عمال و قضاۃ کے ادارہ کی جب بحث ہو گی تو وہاں ان خطوط پر تفصیلی بحث ہو گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے علم، عبادت، ورع و تقویٰ، حیا، عزت نفس و خود داری، دنیا سے بے زاری اور اسلام پر ثابت قدمی میں شہرت پائی۔ ابو موسیٰؓ کا شمار صحابہ کرامؓ کے بڑے بزرگ علماء، فقہاء اور مفتیان میں ہوتا ہے۔ علامہ ذہبیؒ نے صحابہ کے طبقہ اولیٰ کے حفاظ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ عالم باعمل، نیک و پارسا، اور قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے تھے۔ بہترین آواز میں قرآن کی تلاوت آپؓ پر بس تھی، آپؓ نے بابرکت اور بہترین علم کے جوہر بکھیرے، بصرہ والوں میں سب سے زیادہ قرآن کے پڑھنے اور سمجھنے والے تھے۔ 

(تذکرۃ الحفاظ: الذہبی: جلد 1 صفحہ 23)

اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، آپؓ نے بزرگ صحابہ مثلاً عمر، علی، ابی بن کعب، اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی علم حاصل کیا۔ آپ حضرت عمرؓ سے خاص طور سے بہت متاثر تھے۔ بصرہ میں آپ کی طویل مدتی امارت کے درمیان حضرت عمرؓ آپ کو نصیحتیں کرتے اور خطوط ارسال کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بھی اپنے تمام پیش آمدہ مسائل میں حضرت عمرؓ کی طرف رجوع کرتے تھے یہاں تک کہ شعبی نے آپ کو امت کے چار مشہور قاضیوں میں سے ایک قاضی شمار کیا ہے۔ امت کے چار مشہور قاضیوں میں یہ ہیں: عمر، علی، زید بن ثابت، اور ابو موسیٰ اشعری رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 389 )

حضرت ابو موسیٰؓ جب مدینہ تشریف لاتے تو پوری کوشش کرتے کہ سیدنا عمرؓ کی مجلسوں میں ضرور شریک ہوں، کبھی کبھار اپنا کافی وقت انہی کے ساتھ گزار دیتے چنانچہ ابوبکر بن ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ عشاء کی نماز کے بعد حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آئے، حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا: آپؓ سے بات کرنے آیا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: اس وقت؟ انہوں نے جواب دیا: دین سمجھنے سمجھانے کی بات ہے۔ حضرت عمرؓ بیٹھ گئے اور دونوں دیر رات تک باتیں کرتے رہے۔ پھر ابو موسیٰؓ نے کہا: امیر المؤمنین! نماز پڑھ لیں، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ہم اب تک نماز ہی میں تھے۔

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم المجاہد: محمد طہماز: صفحہ 121 )

جس طرح ابو موسیٰ اشعریؓ حصولِ علم اور تعلیم کے شوقین تھے اسی طرح علم کی نشر و اشاعت اور لوگوں کی تعلیم و تبلیغ کے بھی حریص تھے۔ اپنے خطبہ میں لوگوں کو تعلیم و تعلّم پر ابھارتے تھے۔ چنانچہ ابو مہلب کہتے ہیں کہ میں نے ابو موسیٰؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جسے اللہ نے علم سے نوازا ہو اسے چاہیے کہ دوسروں کو تعلیم دے، اور جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولے، کیونکہ اس سے وہ تکلف کرنے والوں اور دین سے نکل جانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 107 )

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ کی مسجد کو اپنے علمی نشاط کا مرکز بنایا تھا اور اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ علمی مجالس کے لیے خاص کر دیا تھا۔ صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کوئی لمحہ ایسا نہ گزرتا تھا جسے آپ تعلیم، تدریس اور لوگوں کی تبلیغ میں استعمال نہ کرتے رہے ہوں۔ جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھ جاتے، انہیں تعلیم سکھاتے اور قرآن پڑھنے کا طریقہ بتاتے۔ ابنِ شوذب کا قول ہے کہ ابو موسیٰ اشعریؓ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو صفوں میں گھوم گھوم کر ایک ایک آدمی کو قرآن پڑھاتے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 289)

آپؓ صحابہؓ کے درمیان شیریں آواز اور بہترین قرأت والے مشہور تھے۔ جب لوگ آپ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنتے تو آپ کے پاس جمع ہو جاتے اور جب حضرت عمرؓ کے پاس حضرت ابو موسیٰؓ ہوتے تو سیدنا عمرؓ ان سے کہتے کہ قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔ 

(أبوموسیٰ اشعری الصحابی العالم: صفحہ 125، 126)

اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی کہ مسلمانوں کو تعلیم دیں اور انہوں نے کسی بھی شہر میں، جہاں بھی تشریف لے گئے قرآن کی تعلیم دینے اور اس کی نشر و اشاعت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے مشن کی کامیابی کے لیے اپنی شیریں اور دل لبھانے والی آواز کا سہارا لیا، لوگ آپؓ کے گرد اکٹھے ہو گئے، اور بصرہ کی مسجد میں آپؓ کے پاس طلبہ کا ہجوم ہو گیا آپؓ نے ان کو ٹولیوں اور حلقوں میں تقسیم کر دیا یعنی درجہ بندی کر دی، گھوم گھوم کر ان سے قرآن سنتے اور سناتے، اور انہیں قرأت کا صحیح اسلوب و قاعدہ بتاتے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 127)

قرآن سیکھنا سکھانا ہی آپ کی ساری مشغولیت تھی، سفر و حضر میں اسی کے لیے آپ اپنا بیشتر وقت لگاتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک ضرورت سے بھیجا، تو حضرت عمرؓ نے پوچھا: جب تم آئے تو اشعری کیا کر رہے تھے؟ میں نے بتایا کہ اس حال میں آیا جب کہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے حضرت عمرؓ نے فرمایا: وہ بہت عقل مند اور زیرک ہیں، لیکن تم انہیں یہ مت بتانا۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 128)

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جہاد کے لیے نکلتے ہوئے بھی قرآن کی تعلیم اور تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ خطاب بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ میں دریائے دجلہ کے ساحل پر ایک لشکر کے ساتھ ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ تھا، نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان کہی لوگ وضو کے لیے اٹھے، آپؓ نے بھی وضو کیا اور ان کو نماز پڑھائی، پھر سب لوگ کئی حلقوں میں بیٹھ گئے۔ جب عصر کا وقت ہوا تو مؤذن نے عصر کی اذان کہی، اس مرتبہ بھی لوگ وضو کے لیے بڑھے، تو آپؓ نے مؤذن سے کہلوایا کہ وضو صرف اسی آدمی کے لیے ضروری ہے جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو۔ آپؓ کی علمی کاوشوں نے بہترین نتیجہ پیش کیا، اپنے اردگرد حفاظ قرآن اور علماء کی بڑی تعداد دیکھ کر آپؓ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی تھی، صرف بصرہ میں حفاظ قرآن کی تعداد 30 سے متجاوز تھی۔ ایک موقع پر جب حضرت عمرؓ نے اپنے عمال سے کہا کہ حفاظ قرآن کے نام لکھ کر ہمارے پاس بھیجو تاکہ آپؓ ان کی تکریم کریں، اور ان کے عطیات کو بڑھا دیں، تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے آپؓ کے پاس لکھا کہ میرے پاس قرآن کے حفاظ کی تعداد تین سو 300 اور کچھ ہو گئی ہے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 129)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حدیث کی روایت و تعلیم کا بھی خاص اہتمام کیا نبی کریمﷺ سے بہت ساری احادیث روایت کیں اور کبار صحابہؓ سے بھی روایات بیان کیں، نیز آپ سے دیگر صحابہؓ اور کبار تابعین نے روایت کیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے بریدہ بن حصیب، ابو امامہ باہلی، ابو سعید خدری، انس بن مالک، طارق بن شہاب، سعید بن مسیب، اسود بن یزید، ابو وائل شقیق بن سلمہ، اور ابو عثمان نہدی وغیرہ بہت سارے لوگوں نے روایت کیا ہے۔ 

(أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 381)

آپ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سختی سے عمل کرنے والے تھے، اس کی سب سے بڑی دلیل آپﷺ کی وہ وصیت ہے جو آپ نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد سے کی تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سنت نبویﷺ سے شدید لگاؤ کے باوجود آپؓ نے زیادہ احادیث بیان نہیں کیں، جیسا کہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ تھا۔ وہ لوگ لغزش اور غلطی کے خوف سے نبیﷺ سے روایت کرنے میں کافی احتیاط برتتے تھے۔ اسی احتیاط کے پیشِ نظر سیدنا عمرؓ اپنے عمال کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ قرآن سیکھنے سکھانے کا اہتمام کریں اور احادیث زیادہ روایت کرنے سے پرہیز کریں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سیدنا عمرؓ کی اطاعت پر سختی سے کاربند تھے۔ 

(ابوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم المجاہد: صفحہ 132)

اور جہاں تک انس بن مالک النجاری الخزرجیؓ کی بصرہ کی زندگی کے تعارف کی بات ہے تو معلوم ہو کہ وہ رسول اللہﷺ کے خادم تھے، خادمِ رسول کہے جاتے تھے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے اور انہیں اس کا حق بھی تھا۔ 

(تہذیب الاسماء واللغات: جلد 1 صفحہ 127)

وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی دس سال تک خدمت کی اس وقت میں ایک بچہ تھا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

نیز کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو میں دس سال کا لڑکا تھا اور جب آپﷺ کی وفات ہوئی اس وقت میں بیس سال کا نوجوان تھا۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2029) 

حضرت انس بن مالکؓ کے لیے رسول اللہﷺ نے کثرتِ مال و اولاد اور درازیِ عمر کی دعا کی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا تھا:

اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَبَارِکْ لَہٗ فِیْہِ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2481)

ترجمہ: ’’اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ کر دے اور اس میں برکت عطا فرما۔‘‘

حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ التہذیب کے مؤلف نے حضرت انسؓ سے روایت کرنے والوں کی تعداد تقریباً دو سو 200 بتائی ہے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 129)

حضرت انس بن مالکؓ نے دو ہزار دو سو چھیاسی 2286 احادیث روایت کی ہیں۔ ایک سو اسی 180 احادیث متفق علیہ ہیں اور اَسّی 80 احادیث روایت کرنے میں امام بخاریؒ اور 90 نوے احادیث میں امام مسلمؒ منفرد ہیں۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 406، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

حضرت انس بن مالکؓ تابعین علماء مثلاً حسن بصریؒ، سلیمان تیمیؒ، ثابت البنانیؒ، زہریؒ، ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰنؒ، ابراہیم بن میسرہؒ، یحییٰ بن سعید الانصاریؒ، محمد بن سیرینؓ، سعید بن جبیرؓ اور قتادہؓ وغیرہ کے استاذ مانے جاتے ہیں۔

(أنس بن مالک الخادم الأمین: عبد الحمید طہماز: صفحہ 135)

حضرت انس بن مالکؓ نے روایت و تعلیم دونوں اعتبار سے سنتِ مطہرہ کی خدمت کا اہتمام کیا اور علمی اوصاف کے مالک رہے، خلافتِ راشدہ کی خدمت میں چند ایک بہت ہی اہم کارنامے انجام دئیے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اسلامی دور حکومت میں آپ کو بعض اہم مناصب پر فائز کیا۔ خاص طور پر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جب عہد فاروقی میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ کی حکومت سنبھالی تو حضرت انسؓ کو اپنا قریبی بنایا اور انہیں اپنا خاص فرد سمجھا۔ چنانچہ ثابت، انس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ تھے، لوگ باتیں کر رہے تھے اور دنیا کا ذکر چھیڑے ہوئے تھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا: اے انس! آؤ، ہم لوگ کچھ دیر اپنے ربّ کا ذکر کر لیں۔ پھر کہا: لوگوں کو کس چیز نے پیچھے دھکیل دیا ہے؟ یعنی ان کی پسماندگی کا سبب کیا ہے؟ میں نے کہا: دنیا، شیطان اور بری خواہشات۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے کہا: نہیں، بلکہ دنیا مقدم کر دی گئی اور آخرت کو نگاہوں سے غائب کر دیا گیا۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں سے آخرت کا مشاہدہ کر لیں تو ذرہ برابر اِدھر اُدھر نہ بھٹکیں۔ 

(أنس بن مالک الخادم الأمین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

سیدنا انس بن مالکؓ پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا اعتماد ہی تھا جس کی وجہ سے آپ انہیں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتے تھے۔

حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ مجھے ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ سے سیدنا عمرؓ کے پاس بھیجا، تو سیدنا عمرؓ نے مجھ سے لوگوں کے حالات دریافت کیے۔ 

(انس بن مالک الخادم الأمین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

اور ’’ تُسْتَر‘‘ فتح ہونے کے بعد ابو موسیٰؓ نے آپ کو حضرت عمرؓ کے پاس اموالِ غنیمت اور قیدیوں کو دے کر بھیجا، وہ ’’تُسْتَر‘‘ کے حاکم ’’ہرمزان‘‘ کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔ 

(انس بن مالک الخادم الامین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

سیدنا انسؓ سے بہت سارے صحابہ و تابعین نے خاص طور سے بصرہ میں رہنے والے علماء نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔

 زہد و عبادت کے میدان میں اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں پر آپؓ نے بہت اچھا اثر چھوڑا، حضرت انسؓ اپنے شاگردوں کو تعلیم دینے کے حریص تھے، ان سے بہت محبت کرتے ، انہیں اپنے قریب رکھتے اور عزت سے نوازتے ہوئے عرض کرتے: آپ لوگ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے مشابہ ہو؟ اللہ کی قسم! تم میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہو، مگر یہ کہ فضل و تقویٰ میں وہ تمہاری طرح ہو جائیں۔ میں تمہارے لیے سحر گاہی میں دعائیں کرتا ہوں۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 395)

حضرت انسؓ کی علم سے یہ محبت اور علماء سے دلچسپی تھی کہ جس کی وجہ سے آپؓ نے علماء کی ایسی نسل تیار کر دی جس نے آپؓ سے حدیث کا علم سیکھا، دوسروں تک پہنچایا، اور بعد کی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ حضرت انسؓ کے ثقہ شاگرد 150ھ کے بعد تک زندہ رہے۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 271)

4۔ کوفی درس گاہ:

کوفہ میں بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تین سو 300 اور بدری صحابہؓ میں سے ستر 70 لوگوں نے سکونت اختیار کی۔ کوفہ والوں کو مخاطب کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اے باشندگانِ کوفہ! تم لوگ عرب کی جان اور اس کا دماغ ہو، میرا تیر ہو جس کے ذریعہ سے اپنے اوپر آنے والے حملوں کا دفاع کرتا ہوں، میں تمہارے پاس حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بھیج رہا ہوں۔ میں نے تمہارے لیے یہی پسند کیا ہے، اور تم لوگوں کو خود پر ترجیح دی ہے۔ 

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 291، اس کی سند میں حارثہ کے علاوہ بقیہ تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، اور حارثہ بھی ثقہ ہیں)

اور ان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپؓ نے کہا: اما بعد! میں نے تمہارے پاس عمارؓ کو امیر اور عبد اللہ بن مسعودؓ کو معلم و وزیر بنا کر بھیجا ہے، وہ دونوں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے شریف ترین لوگوں میں سے ہیں، ان دونوں کی بات سنو اور ان کی بات مانو، میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کو اپنی ذات پر تمہارے لیے ترجیح دی ہے۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 252)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر بہت توجہ دی، وہاں ابنِ مسعودؓ کو بھیجا، اور ان کو خط لکھا کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے لوگوں کو قریش کی لغت میں قرآن پڑھانا، ہذیل کی لغت میں نہیں۔ 

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 625۔ الخلافۃ الراشدۃ: دیکھئے یحییٰ: صفحہ 309)

اور صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت جو کوفہ کو روانہ ہو رہی تھی سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کو رخصت کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ ایسی بستی یعنی کوفہ والوں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ قرآن کی تلاوت کو اس طرح گنگناتے ہیں جس طرح شہد کی مکھی بھنبھناتی رہتی ہے۔ انہیں حدیثوں کے ذریعہ سے اس سے نہ روکو کہ وہ اسی میں مشغول ہو جائیں، اور قرآن کو وہ نظر انداز کر دیں، انہیں قرآن پڑھنے دو، اور نبی کریمﷺ سے روایات کم بیان کرو، اور جاؤ میں بھی تم لوگوں کے ساتھ ہوں۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 156، الحلیۃ جلد 1 صفحہ 129)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں قرآن کے ساتھ اشتغال کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے، چنانچہ جب آپؓ نے سنت کو یک جا کرنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا، جب انہوں نے اس کام کو مکمل کرنے کا آپؓ کو مشورہ دے دیا تب بھی آپؓ ایک مہینہ تک اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے رہے، ایک دن صبح کے وقت اللہ کی توفیق سے آپؓ نے اپنا فیصلہ پختہ کر لیا، اور کہا: میں چاہتا تھا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفحہ تحریر پر لے آؤں یک جا کر دوں، لیکن مجھے وہ لوگ یاد آ گئے جو تم سے پہلے تھے، انہوں نے خود نوشتہ کتابیں تیار کیں، پھر اس پر آنکھیں موند کر ٹوٹ پڑے، اور اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا، اللہ کی قسم! میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کسی دوسری چیز کو مخلوط نہ ہونے دوں گا۔ 

(تاریخ المدینۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 770 موسوعۃ فقہ عمر: قلعجی: صفحہ 659)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فکر کی بنیاد یہ تھی کہ قرآن کریم لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو جائے، وہ اس سے اعراض نہ کریں، قرآنی تعلیمات مسلم معاشرہ کی جڑوں میں پیوست رہیں، اور قرآنی علوم کو دوام و استقرار نصیب ہو، لوگ قرآنِ مجید اور دیگر اسلامی علوم بشمول حدیث نبوی، دونوں کے درمیان فرق کر سکیں۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 268)

قرآنِ کریم پر خصوصی توجہ اور اسے چھوڑ کر دیگر علوم میں انہماک سے ممانعت کی تاکید نبیﷺ کے زمانے ہی سے تھی اور سیدنا عمرؓ کی فکر اور مذکورہ اقدام، تعلیماتِ نبویﷺ کی اتباع و پاس داری ہی کا نتیجہ تھا۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 260)

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جو علم و فہم کی روشنی میں دعوت الی اللہ کا کام کرے، آپؓ کے شاگرد یا جو لوگ ان کے شاگرد ہوئے سب کے دلوں میں آپؓ کا ایک اعلیٰ مقام تھا۔ حضرت عمرؓ نے بھی آپؓ کے علم و فضل کی برتری کی شہادت دی ہے۔ زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ ، حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ایک دبلا پتلا آدمی نظر آیا، حضرت عمرؓ اس کی طرف دیکھنے لگے، اور آپؓ کے چہرے پر خوشیاں نمودار ہو گئیں، پھر آپؓ نے کہا: یہ شخصیت علم کا سمندر ہے،یہ شخصیت علم کا سمندر ہے، یہ شخصیت علم کا سمندر ہے۔ ہم نے دیکھا تو وہ ابنِ مسعودؓ تھے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 156، الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 129)

کوفہ کی درس گاہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے کافی متاثر تھی اور اپنے استاذ کی اقتدا و پیروی کرنے میں دیگر تمام درس گاہوں سے منفرد تھی، یہاں تک کہ آپؓ کی وفات کے بعد بھی آپؓ کے شاگرد آپؓ کی اقتدا پر جمے رہے، اور ایک لمبے زمانہ تک کوفہ آپؓ کے علم و عمل پر قائم رہا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 462)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فقہ فاروقی سے بہت متاثر تھے، ان کی بات کے سامنے اپنی بات کو چھوڑ دیتے، اور کہتے تھے: اگر حضرت عمر بن خطابؓ کا علم ایک پلڑے میں اور پوری دنیا والوں کا علم دوسرے پلڑے میں ہو تو حضرت عمر بن خطابؓ کا علم بھاری پڑ جائے گا۔ 

(العلم لابی حنیفۃ: صفحہ 123، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 463)

سیدنا ابن مسعودؓ نے صحابہؓ کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور علم قرأت میں سب پر سبقت لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ستر 70 سے زیادہ سورتیں یاد کیں۔ شقیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے 80 سے زیادہ سورتیں سیکھیں، واللہ! اصحابِ محمدﷺ بخوبی جانتے تھے کہ میں ان میں سب سے زیادہ قرآن کا عالم تھا، حالانکہ میں ان میں سب سے اچھا نہیں۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 5000)

مسروق رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے سامنے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا، تو انہوں نے کہا: وہ ایسے آدمی ہیں کہ جب سے ان کے بارے میں میں نے رسول اللہﷺ کا فرمان سنا، برابر ان سے محبت کرتا ہوں۔ آپﷺ کا ارشاد تھا: چار آدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو، عبداللہ بن مسعودؓ، سب سے پہلے ان کا نام ذکر کیا ابو حذیفہ کے غلام سالم، ابی بن کعبؓ اور معاذ بن جبلؓ سے۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 3758 مسلم: 2464) 

سیدنا عمرؓ فن تجوید اور تدریس پر ابنِ مسعودؓ کے علمی عبور کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک جانا پہچانا آدمی آیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین! میں کوفہ سے آ رہا ہوں، میں نے وہاں ایک ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو اپنے حفظ سے قرآن لکھوا رہا تھا۔ راوی کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ یہ سن کر بہت ناراض ہو گئے، ایسا لگتا تھا کہ ابھی آپ بے قابو ہو جائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: تیرا برا ہو، وہ کون ہے؟ اس نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعودؓ ہیں۔ آپ ناراض ہوتے اور پھر ٹھنڈے ہو جاتے۔ یہاں تک کہ آپ کی پہلے جیسی حالت ہو گئی۔ پھر آپؓ نے فرمایا: میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں اب کوئی ایسا نہیں بچا ہے جو ان سے زیادہ اس کا حق دار ہو۔ 

(المستدرک علی الصحیحین: حاکم نیسابوری: جلد 2 صفحہ 227۔ امام حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور امام ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔)

ابنِ مسعودؓ کے بہت سارے شاگرد تیار ہوئے جنہوں نے فقہ، علم اور زہد و تقویٰ میں شہرت پائی۔ انہی شاگردوں میں سے علقمہ بن قیسؓ، مسروق بن الاجدع، عبیدہ سلمانی، ابو میسرہ بن شرحبیل، اسود بن یزید، حارث جعفی اور مرہ ہمدانی رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ ہیں۔

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 472، 484)