سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 5

یوں تو سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے بے شمار اور متنوع فضائل و مناقب ہیں لیکن آپ کے فخر کے لیے ایک یہی بات کافی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے نانا حضرت رسالت مآبﷺ کے محبوب تھے اور آپ نے اپنے بچپن کا زمانہ جناب رسول اللہﷺ کے سایۂ تربیت و عاطفت میں گزارا اور آپ کو آنحضرتﷺ کی بے پناہ توجہ، رعایت اور عنایت نصیب ہوئی۔ ذیل میں سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے مناقب سے متعلقہ چند احادیث درج کی جاتی ہیں:

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، سوائے دو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے۔‘‘ (سنن النسائی: 8169)

اس حدیث میں متعدد اشارات و بشارات ہیں، جو سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے فضائل کو مؤکد کرتے ہیں ۔ نبی کریمﷺ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے کس قدر محبت تھی اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت یعلی عامری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’لوگوں نے جناب رسول اللہﷺ کو ایک دعوتِ طعام میں شرکت کی دعوت دی۔ میں آپ کے ساتھ اس دعوت میں شریک ہونے نکلا۔ نبی کریمﷺ لوگوں کے آگے آگے تھے جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ رہے تھے۔ نبی کریمﷺ نے (فرطِ محبت میں ) انہیں پکڑنا چاہا تو وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے، نبی کریمﷺ ان کے ساتھ ہنسی کھیل کرنے لگے یہاں تک کہ آپﷺ نے انہیں پکڑ لیا اور اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی کے اور دوسرا ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور ان کے منہ کو اپنے منہ پر رکھ کر انہیں بوسہ دیا اور فرمایا: ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین (میرے) نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔‘‘ (المستدرک للحاکم: 4820 یہ حدیث صحیح ہے۔ ذہبی نے ’’التلخیص‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے۔ رہی یہ حدیث کہ ’’جس نے ان دونوں سے بغض کیا، اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے مجھ سے بغض کیا، وہ اللہ کو مبغوض ہے اور جس سے اللہ نے بغض رکھا اللہ اسے دوزخ میں ڈالے گا۔‘‘ (المستدرک: 4776) حاکم کہتے ہیں: یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے۔ ذہبیؒ اس حدیث کے بارے میں ’’التلخیص‘‘ میں کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے)

ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر: 635 مسند الشامیین: 1126 سیر اعلام النبلاء: جلد، 4 صفحہ 335 ذہبیؒ کہتے ہیں: اس کی اسناد قوی ہے)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض اصحاب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں اور حسین کہ ہم تم لوگوں سے ہیں اور تم لوگ ہم میں سے ہو۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 2 صفحہ 83)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس جب آپﷺ سجدے میں گئے، تو سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر چڑھ گئے۔ جب گھر والوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرنا چاہا، تو آپﷺ نے انہیں اشارہ سے فرما دیا کہ ’’انہیں رہنے دو۔‘‘ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپﷺ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا پھر ارشاد فرمایا: ’’جسے مجھ سے محبت ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان دونوں سے محبت کرے۔‘‘

(سنن النسائی: 8170)

یہ نص اس بات کی تاکید بیان کرتی ہے کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت جناب رسول اللہﷺ کے ارشاد کی تعمیل ہے، جو کبھی اپنے منہ سے خواہش نفس سے بات نہیں نکالتے اور جناب رسول اللہﷺ کا ان سے محبت فرمانا، اس بات کو فرض کر دیتا ہے کہ ان دونوں حضرات سے بھی محبت کرے اور نبی کریمﷺ کے ان آلِ بیت ذریت اور ازواج سے بھی محبت کرے، جن سے نبی کریمﷺ کو محبت تھی۔ لہٰذا جو ان لوگوں میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے گا جن سے نبی کریمﷺ کو محبت تھی، وہ اپنے دعوائے محبت میں جھوٹا ہے۔

بھلا ایسا شخص اپنے دعوائے محبت میں سچا ہو بھی کیسے سکتا ہے، جو اس ذات گرامی سے بغض رکھے جس سے نبی کریمﷺ کو سب لوگوں سے زیادہ محبت تھی، اور وہ ام المومنین زوجہ رسول سیّدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما ہیں۔

جو نبی کریمﷺ کے پھول سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے پاک خون سے اپنے ناپاک ہاتھ رنگنے کی جرأتِ صد خسران کرے، وہ اہل بیت سے محبت کے دعوے میں صادق ہو سکتا ہے؟؟

یہی وہ دقیق پیمانہ ہے جو نبی کریمﷺ کے ساتھ شرعی محبت کو واضح کرتا ہے، جو آل بیت کی محبت اور ذریت و ازواج سے ولاء و عقیدت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جس کا پرتو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور کتاب و سنت سے محبت پر نظر آتا ہے، جس میں ان سب مسلمات میں کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا جناب رسول اللہﷺ کے نزدیک کیا رتبہ و مرتبہ تھا اور نبی کریمﷺ کو ان دونوں سے کس قدر تعلق اور قربت تھی۔ جس کی بنا پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی بے حد تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ اس تعلق کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی سنیے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا جبکہ آپﷺ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور آپﷺ یہ فرما رہے تھے: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر۔‘‘ (المستدرک للحاکم: 4821 یہ حدیث صحیح ہے۔ ایسی ہی روایت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے اور یہ دونوں روایات محفوظ ہیں۔ ذہبیؒ ’’التلخیص‘‘ میں کہتے ہیں: یہ روایت صحیح ہے)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو انہیں جنتی کہتے سنا ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبان: 6966)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 5