سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 5

’’میں نے جب بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا، تو میری آنکھیں آنسوؤ ں سے بھر گئیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن نبی کریمﷺ باہر تشریف لائے، آپ ﷺ نے مجھے مسجد میں پایا۔ آپﷺ نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھ پر سہارا لیا۔ پس میں آپﷺ کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ بنو قینقاع کا بازار آ گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپﷺ نے میرے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ آپﷺ نے بازار کا ایک چکر لگایا، (بازار کو) دیکھا پھر لوٹ آئے اور میں بھی آپﷺ کے ساتھ لوٹ آیا۔ آپﷺ مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور حبوہ باندھ کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ’’ذرا منے کو میرے پاس بلانا۔‘‘ پس حضرت حسین رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے آئے اور آپﷺ کی گود میں گر گئے۔ پھر انہوں نے آپﷺ کی داڑھی میں ہاتھ ڈال کر کھیلنا شروع کر دیا۔ نبی کریمﷺ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے منہ کو کھولتے اور اس میں اپنا منہ داخل کر کے فرماتے: ’’اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے محبت کر۔‘‘ (المستدرک: 4823 یہ حدیث صحیح ہے۔ ذہبیؒ نے ’’التلخیص‘‘ میں اس کو صحیح کہا ہے)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قدموں سے گرد جھاڑ دیا کرتے تھے۔ ( تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 2 صفحہ 83) ایسا وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور نبی کریمﷺ کی قرابت کی تعظیم کی بنا پر کرتے تھے۔

کسی عراقی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مُحرِم کے بارے میں سوال کیا، جس نے حالت احرام میں مکھی مار دی تھی، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’یہ عراقی مکھی کے بارے میں پوچھتے ہیں، حالانکہ انہوں نے نبی کریمﷺ کے نواسہ کو مار ڈالا (اور پروا تک نہ کی) جبکہ نبی کریمﷺ م نے (ان کے بارے میں یہ) فرمایا تھا: ’’یہ دونوں (یعنی حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ) میرے دنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘ ( صحیح البخاری: ۳۵۴۳۔ اس حدیث کی شرح میں علماء نے یہ لکھا ہے کہ ریحانہ ایک خوشبو دار پودا ہوتا ہے جسے گل نازبو کہتے ہیں، حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کو ریحانہ کہنے کی وجہ تشبیہ یہ ہے کہ جس طرح پھول کو بھی سونگھا اور اس سے مسرور ہوا جاتا ہے، اسی طرح اولاد کو بھی سونگھا اور اس سے مسرور ہوا جاتا ہے)

نبی کریمﷺ کو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے جس قدر محبت تھی، اتنی کسی ماں باپ کو اپنی اولاد سے نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’نبی کریمﷺ حضرات کریمین رضی اللہ عنہما کے لیے تعوذ پڑھا کرتے تھے۔ آپﷺ فرماتے: ’’میں تم دونوں کو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان اور مہلک چیز سے اور ہر نظر بد سے۔‘‘ (المستدرک: 4781 یہ روایت بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔ ذہبیؒ ’’التلخیص‘‘ میں لکھتے ہیں: یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’نبی کریمﷺ باہر تشریف لائے، آپﷺ نے ایک کندھے پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے کندھے پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ کبھی آپﷺ اِن کو بوسہ دیتے اور کبھی اُن کو، یہاں تک کہ ہمارے پاس آ پہنچے۔ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ان سے محبت ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’ہاں ! (اور سنو) جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا تو اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘ (المستدرک: 4777 یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے بھی ’’التلخیص‘‘ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے اس لیے بے پناہ محبت کرتے تھے، کیونکہ نبی کریمﷺ کو ان دونوں سے محبت تھی۔ چنانچہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبت سنت اور ان دونوں کا بغض بدعت و ردّت قرار دیا گیا۔ لہٰذا جو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے نانا حضرت رسالت مآبﷺ کی سنت کا مخالف ہے اور اسے انصار و مہاجرین سے بغض ہے اور اسے امت کے اسلاف و ائمہ سے کینہ ہے وہ کبھی حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کرنے والا نہیں کہلا سکتا۔

جب نبی کریمﷺ کا قرب ایک انسان میں علم و حلم اور جود و کرم جیسے اخلاق فاضلہ اور مکارم عالیہ پیدا کرتا ہے تو ضروری تھا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی ’’خلق عظیم‘‘ کے اس منبع و سرچشمہ سے زبردست سیراب ہوتے اور جناب رسولﷺ کی تربیت و عنایت آپ میں صبر و احتساب اور جرأت و شجاعت جیسی بلند صفات پیدا کرتی۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ نبی کریمﷺ کی خصوصی پرورش نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی روح میں کتاب و سنت سے تمسک و اعتصام کو جاگزیں کر دیا، آپ کتاب و سنت پر عمل کرنے کے بے حد حریص تھے۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی کتابِ زندگی کا ایک ایک ورق اس بات کی شہادت دیتا ہے اور یہ ایمان افروز داستان سناتا ہے کہ آپ نے کتاب و سنت کی سربلندی اور دوسرے اجتہادات و احکامات پر کتاب و سنت کی برتری کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں دیں جن کو گردشِ لیل و نہار، مرورِ زمان اور صدیوں کی مسافت کبھی مٹا نہیں سکتی۔

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی ایک عظیم منقبت حدیث کساء کا قصہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب اپنے اہل بیت کو ایک چادر میں لے کر ان کے لیے دعا کی تھی، تو ان میں سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یہ واقعہ سناتے ہوئے بیان کرتی ہیں :

’’ایک صبح نبی کریمﷺ باہر تشریف لائے آپﷺ جسم مبارک پر سیاہ دھاگوں سے بنی کجاووں جیسے نقش کی چادر تھی۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے، تو آپﷺ نے انہیں اس چادر میں لے لیا۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو آپﷺ نے انہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ (چادر میں) داخل کر لیا۔ پھر سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، تو انہیں (بھی چادر میں) داخل کر لیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، تو انہیں (بھی اس چادر میں) داخل کر لیا، پھر قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًاo (سورت الاحزاب: آیت 33)

صفحہ 2 از 5