سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 5

’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2424 رجس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد شک ہے۔ ایک قول ’’عذاب‘‘ کا ہے۔ جبکہ ایک قول ’’اثم‘‘ یعنی گناہ کا ہے۔ ازہری کہتے ہیں : ’’رجس ہر ناپسندیدہ اور برے عمل کو کہتے ہیں۔‘‘)

بلاشبہ یہ ایک عظیم فضیلت و منقبت ہے، جو اسی ’’مبارک کنبہ‘‘ کے ساتھ خاص ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس خاندان کے لیے جو دعائیں مانگیں جناب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما ان سب دعاؤ ں میں شریک ہیں۔ ان دعاؤ ں میں ظاہر و باطن کی طہارت، عقیدہ و عمل کی پاکیزگی، قرآن و سنت سے تمسک و اعتصام اور دین متین پر عمل سب شامل ہیں۔ یہ بات بھی معلوم ہے کہ یہ آیت ازواجِ مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی تھی، کیونکہ اس آیت میں از اوّل تا آخر خطاب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًاo وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا (الاحزاب: 32-34)  

’’اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو، تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے، اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

ان آیات میں ان دشمنانِ صحابہ کا قطعی ردّ ہے جن کے دل حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے فضائل و مناقب سے جل بھن جاتے ہیں۔ پھر اس حدیث میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے کنبہ اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان گہرے تعلق کا بھی شافی بیان ہے۔ بالخصوص سیّدہ صدیقہ طاہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گہرے تعلق کا علم ہوتا ہے، جو خود سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے کنبہ کی اس فضیلت و منقبت کی ایک راویہ اور اس کو بیان کرنے اور امت مسلمہ میں منتشر کرنے والی ہیں۔ یقینا یہ بات حضرت رسالت مآبﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے والوں کے لیے تو باعث صد مسرت ہے، جبکہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آل بیت سے بغض و نفرت رکھنے والوں کے لیے اس روایت میں خسران و حرمان اور غیظ و غضب کا بے پناہ سامان ہے۔

بخاری شریف کی یہ روایت ان اعدائے صحابہ کے گھناؤ نے اور تیرہ و تاریک باطن اور ان کی اباطیل کو رسوا کرنے کے لیے شاہد ناطق اور بس ہے جن کا کام حب آل بیت کی آڑ میں امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپنا اور ان کی حزم و احتیاط اور تقویٰ و ورع کی روح کو بے موت مارنا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ خاص ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان بیان کرتے ہوئے سورۂ آل عمران کی اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo (سورت آل عمران: آیت 121)

’’اور جب تو صبح سویرے اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلا، مومنوں کو لڑائی کے لیے مختلف ٹھکانوں پر مقرر کرتا تھا اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

امام بخاری رحمۃ اللہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

غَدَوْتَ: یعنی آپﷺ دن کے شروع میں نکلے۔

مِنْ اَہْلِکَ: یعنی اپنی زوجہ مطہرہ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے۔

تُبَوِّیُٔ: یعنی آپﷺ مومنوں کو قتال کے لیے ان کے مورچوں پر متعین فرما رہے تھے۔ چنانچہ آپﷺ نے انہیں دائیں بائیں مقرر فرمایا اور ان کے لیے مورچوں اور لڑنے کی جگہوں کی تحدید و تعیین فرمائی۔ (صحیح البخاری، باب غزوۃ احد: جلد، 4 صفحہ 1484)

رب تعالیٰ کی کتاب پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریمﷺ کی اہل ہیں۔ جس سے سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی تشریف و فضیلت اور ایک خاص فضیلت عیاں ہوتی ہے، جس کو نبی کریمﷺ لوگوں کے سامنے ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے کہ آپﷺ کی اہلیہ سیّدہ طاہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو سب انسانوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ جبکہ منافقین آج تک جناب رسول اللہﷺ کو آپ کی اس بات میں جھٹلاتے آ رہے ہیں اور ہماری طاہرہ، صادقہ اور عفیفہ ماں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہ تہمت لگاتے ہیں، جو کتاب اللہ اور سنت مطہرہ کے صریح مناقض و متضاد ہے۔ لیکن افسوس اس ناسمجھ اُمت پر جو ان کے شور و غوغا پر کان بھی دھرتے ہیں اور ان منافقین سے محبت و تولی کا اظہار کرتے ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول کے کھلے دشمن ہیں۔ یوں یہ عوام صحیح کو غلط اور باطل کو حق کہہ بیٹھتے ہیں۔ اے مسلمانو! بتلاؤ! یہ عالم برگشتگی کب تک جاری رہے گا؟ کب تک تم لوگ یوں اندھیروں میں بھٹکتے اور ٹامک ٹوئیاں مارتے رہو گے؟!!

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سب سے اعلیٰ حسب و نسب اور سب سے بہتر سیرت و اخلاق کے مالک تھے، متعدد نصوص اس کو واضح کرتی ہیں، چنانچہ:

٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں:

صفحہ 3 از 5