سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات -…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 5

’’ایک دفعہ نبی کریمﷺ نماز عصر ادا فرما رہے تھے۔ جب آپﷺ چوتھی رکعت میں پہنچے، تو سیّدنا حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ادھر آ نکلے اور نبی کریمﷺ کی پیٹھ پر سوار ہو گئے۔ پس (نماز کے بعد) آپﷺ نے ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھایا پھر ایک کندھے پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے کندھے پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سوار کیا، پھر ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! کیا میں تم لوگوں کو نہ بتاؤں کہ سب سے بہتر نانا اور نانی والا کون ہے؟ کیا میں تم لوگوں کو نہ بتاؤں کہ سب سے بہتر چچا اور پھوپھی والا کون ہے؟ کیا میں تم لوگوں کو نہ بتاؤں کہ سب سے بہتر ماموں اور خالہ والا کون ہے؟ کیا میں تم لوگوں کو نہ بتاؤں کہ سب سے بہتر ماں اور باپ والا کون ہے؟ تو سنو! وہ دونوں حسن اور حسین ہیں، جن کے نانا اللہ کے رسولﷺ اور نانی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہے۔ جن کی ماں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ ہے اور جن کا باپ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہے۔ جن کا چچا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا ہے۔ جن کا ماموں قاسم بن رسول اللہﷺ ہے اور جن کی خالہ زینب، رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں، جو رسول اللہﷺ کی بیٹیاں ہیں اور (سن لو کہ) ان دونوں کا نانا جنت میں ہے، ان دونوں کا باپ جنت میں ہے، ان دونوں کی نانی جنت میں ہے، ان دونوں کی ماں، چچا اور پھوپھی جنت میں ہے اور ان دونوں کی خالائیں جنت میں ہیں اور ان دونوں کا ماموں جنت میں ہے، اور یہ دونوں (خود بھی) جنت میں ہیں اور ان کی بہن جنت میں ہے۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی: 6464 اس حدیث کو عبدالرزاق سے صرف احمد بن محمد بن عمرو بن یونس یمامی نے روایت کیا ہے)

اگرچہ اس اثر کی سند میں قدرے ضعف ہے لیکن اس کے معانی معلوم و مشہور ہیں، اس پاکیزہ خاندان کے ایسے فضائل و مناقب دوسری صحیح روایات سے ثابت ہیں کہ یہ خاندان عزت و شرافت اور بزرگی و نجابت کی کان اور جود و کرم کا منبع و سرچشمہ ہے جس کا حسب و نسب ستھرا، نتھرا، پاکیزہ، عمدہ، اعلیٰ، بزرگ و برتر اور شریف و نجیب ہے۔ جس نے سیادت و قیادت کی چوٹیوں کو جا چھوا اور اس سے کم رتبہ پر کبھی راضی نہ ہوا۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صنادید عرب آل بیت اطہار کی اس بزرگی و برتری سے واقف بھی تھے اور اس کے معترف بھی تھے چنانچہ’’ایک دن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے اپنے ہم مجلسوں سے دریافت فرمایا: ماں، باپ، نانا نانی، چچا پھوپھی اور خالہ ماموں کے اعتبار سے سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المومنین! (اس بات کو) آپ (ہم سے) زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا (جو اس وقت مجلس میں موجود تھے) ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’یہ ہیں۔‘‘ (الکامل لابن اثیر فی التاریخ: جلد، 3 صفحہ 262 العقد الفرید: جلد، 4 صفحہ 337 الانصاف للخلیفۃ: صفحہ 535)

یہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حد درجہ انصاف ہے کہ وہ کس فراخ دلی، صدق و اخلاص اور یقین و اذعان کے ساتھ آل بیت رسولﷺ کے اس چشم و چراغ کی ایسی بے نظیر فضیلت و منقبت کا اظہار اور اقرار فرما رہے ہیں۔ جناب رسول اللہﷺ کے اہل بیت، ذریت و ازواج اور موالی کے ساتھ اہل ایمان و اسلام ہمیشہ تعظیم و اجلال کا سلوک کرتے رہے، چنانچہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جناب رسول اللہ حضرت محمدﷺ کے اہل بیت میں آپﷺ کا خیال رکھو۔‘‘(صحیح البخاری: 3541)

یعنی جسے نبی کریمﷺ سے محبت ہے وہ آپﷺ کے آل بیت سے محبت کرے اور جو دنیا و آخرت میں جناب رسول اللہﷺ کا تقرب چاہتا ہے وہ آپﷺ کے اہل، ذریت اور ازواج رضی اللہ عنہن کا اکرام و اجلال کرے، ان کی خیر خیریت معلوم کرے، انہیں راضی اور خوش کرنے میں جتن کرے، ان سے تعاون کرے، ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے اُن اعلیٰ اخلاق کو اپنائے جو ان کی سیرت و کردار کا جزو لاینفک تھے، جیسے علم و حلم، وفا و صفا، جود و کرم، جہد و تضحیہ، کتاب و سنت اور ان کی زبان سے تمسک، جو نبی کریمﷺ سیّدنا علی، سیّدہ فاطمہ، حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اور ان کے سچے جاں نثاروں کی زبان ہے جو نبی کریمﷺ کی سنت، سیرت، منہج اور تعلیمات کے سچے پیروکار تھے۔

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی نبی کریمﷺ کی صورت و سیرت کے ساتھ 

مشابہت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آپ سے محبت کرنے کا بیان

٭ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جو سر سے لے کر گردن تک نبی کریمﷺ کے چہرہ کو دیکھنا چاہے وہ حسن کو دیکھ لے اور جو گردن سے لے کر پیروں تک نبی کریمﷺ کو دیکھنا چاہے، وہ حسین کو دیکھ لے۔ یہ دونوں نبی کریمﷺ سے مشابہ ہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی: 2769)

٭ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ گردن سے چہرے تک نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ انسان کو دیکھے تو وہ حسن بن علی کو دیکھ لے اور جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ گردن سے ٹخنوں تک خلقت اور رنگت کے اعتبار سے نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ انسان کو دیکھے تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔‘‘ (المعجم الکبیر: 2768)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اولاد علی رضی اللہ عنہ میں سے حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ نبی کریمﷺ کے مشابہ کوئی نہ تھا۔‘‘ (المستدرک: 4787 ذہبیؒ نے ’’التلخیص‘‘ میں اس روایت کو صحیح کہا ہے)

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت کی جن روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے۔

٭ ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

’’میں نبی کریمﷺ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو آپﷺ کے خچر شہباء کی نکیل پکڑ کر (آگے آگے) چلا، حتیٰ کہ انہیں نبی کریمﷺ کے حجرہ میں داخل کر دیا کہ یہ نبی کریمﷺ کے آگے اور وہ نبی کریمﷺ کے پیچھے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2423)

صفحہ 4 از 5