Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مشارکات حال حسین رضی اللہ عنہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا بچپن اپنے والدین اور جنابِ رسول اللہﷺ کی زیر پرورش و تربیت گزارا لڑکپن حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مبارک ادوار میں گزرا۔ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما پر خصوصی توجہ و عنایت تھی۔ یہاں تک کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کا وظیفہ اہل بدر کے مساوی مقرر کیا تھا اور انہیں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد اور خود اپنی اولاد پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ یہی حال سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایامِ خلافت میں بھی رہا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب تھے اور سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ سب سے زیادہ سلوک و احسان اور اجلال و اکرام والا معاملہ کیا کرتے تھے۔ اہل سنت و الجماعت صرف انہی باتوں کے مناد ہیں۔ ہاں جن کی زہریلی پھنکاریں امت مسلمہ کی وحدت کو جلا کر خاکستر کر دینا چاہتی ہیں اور ان کی آنکھیں امت مسلمہ کی صفوں میں امن و اطمینان و اتفاق و اتحاد دیکھ کر نفرت کے شعلے اگلتی ہیں، انہی کی زبانیں ان مقدس رشتوں، قرابتوں ، محبتوں اور الفتوں پر زہر افشانی کرتی ہیں۔ چنانچہ حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یمن کے چند جوڑے آئے۔ آپﷺ نے قبر مبارک اور منبر نبوی کے درمیان بیٹھ کر انہیں تقسیم فرما دیا، لوگ آتے گئے اور جوڑا لیتے گئے اور سلام و دعا کے بعد رخصت ہوتے رہے۔ اتنے میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدہ سے نکلے اور لوگوں کو پھلانگتے آگے بڑھنے لگے اور ان پر ان یمنی جوڑوں میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ یہ دیکھ کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تشویش کے آثار نظر آنے لگے۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک میں تم دونوں کو بھی یمنی جوڑے نہ پہنا دوں گا، میرے دل کو سکون نہ آئے گا۔ انہوں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ نے اپنی رعایا کو پہنایا، تو خوب کیا (اگر ہم رہ گئے تو کیا ہوا)۔ آپ نے فرمایا: ان دو نوجوانوں کے لیے جو لوگوں کو پھلانگتے آ رہے ہیں اور ان کے بدنوں پر یمنی جوڑے نہیں، وہ جوڑے ان سے بڑے تھے۔ پھر آپ نے یمن خط لکھا کہ دو جوڑے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ماپ کے بھیجو اور جلدی بھیجو۔ چنانچہ یمن کے عامل نے دو جوڑے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو بھیجے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پہنائے۔‘‘ ( کنز العمال: 37675 تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ 405)

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مشارکات میں سے ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ آپ نے دوسرے مسلمانوں کی طرح جہاد میں عملی شرکت کی۔ چنانچہ خلافت عثمانی کے دَور میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے غزوۂ طبرستان میں شرکت کی، جس کی امارت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے۔ چنانچہ حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حضرت حذیفہ بن یمان اور متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس غزوہ پر روانہ ہوئے، جس میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے۔

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بطولت و شجاعت اور جرأت و شہامت کا نہایت ایمان افروز واقعہ آپ کا خلیفہ مظلوم و شہید سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قصر خلافت کی حفاظت کرنا اور اس کا پہرا دینا ہے۔ چنانچہ جب سبائی بلوائیوں نے امام شہید رضی اللہ عنہ تک پہنچنے کے لیے حملہ کیا، تو دوسرے پہرے داروں اور جاں نثاروں کے ساتھ آپ بھی ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ چنانچہ ام المومنین سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کنانہ کہتے ہیں:

’’میں سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دارِ عثمان میں زخمی حالت میں اٹھا کر لانے والوں میں سے ایک تھا۔‘‘ (تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد، 2 صفحہ 246 الانصاف: صفحہ 258)

یہ تاریخی اشارات بتلاتے ہیں کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے عسکری اور سیاسی زندگی میں بھرپور حصہ لیا، جہاد فی سبیل اللہ کا اجر کمایا اور خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کا دفاع کر کے رب تعالیٰ کا قرب حاصل کیا۔ آپ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کے سامنے جرأت و شجاعت کی ایک نئی داستان رقم کی۔ آپ کے یہ قابل فخر اور ناقابل فراموش جہادی کارنامے والد ماجد سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حیات میں اور ان کی عنایت و رعایت کے زیر سایہ منصہ شہود پر وقوع پذیر ہوئے۔ بلکہ خود سیّدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کو معرکۂ کارزار میں اترنے اور دادِ شجاعت دینے پر ابھارا کرتے تھے۔

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اپنے والد ماجد کی زندگی میں یہ کارنامے اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کی وصی اور وصیت کے نام پر پھیلائی جانے والی باطل اور من گھڑت کہانیوں کا برملا انکار کرتے ہیں، جن کا کسی صحیح حدیث میں حضرات اہل بیت اطہار کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ بے شک حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم وصیت کے اس من گھڑت قصہ سے اور ان افسانہ تراشوں سے بری ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ تو اپنی شہادت کے وقت اپنی اولاد سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین رضی اللہ عنہما کو یہ وصیت فرما رہے ہیں:

’’اے میرے دونوں بیٹو! میں تم دونوں کو رب کے تقویٰ کی، نمازوں کو اپنے وقت پر ادا کرنے کی، زکوٰۃ کو اپنے مصارف میں ادا کرنے اور وضو کو اچھے طریقے سے کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ میں تمہیں غلطی معاف کرنے، غصہ پی جانے، صلہ رحمی کرنے، نادانی پر برداشت کا مظاہرہ کرنے، دین میں تفقہ حاصل کرنے، ثابت قدم رہنے، قرآن پڑھتے رہنے، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینے، بے حیائیوں سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں۔‘'

پھر آپ نے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:

’’میں نے تمہارے دونوں بھائیوں کو جن باتوں کی وصیت کی ہے، کیا تم نے بھی ان کو یاد کر لیا ہے؟ وہ بولے: جی ہاں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ نصیحتیں تمہارے لیے بھی ہیں اور مزید یہ کہ اپنے ان دونوں بھائیوں کے حقوق کو ادا کرتے رہنا، ان کی تعظیم کرتے رہنا، ان کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ پھر حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے یہ فرمایا: ’’یہ وصیت میں تم لوگوں کو بھی کرتا ہوں۔ محمد تم دونوں کا باپ شریک بھائی ہے اور تم دونوں جانتے ہو کہ تمہارے باپ کو محمد سے پیار ہے۔‘‘

اس کے بعد آپ نے یہ وصیت لکھوائی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

’’یہ علی بن ابی طالب کی وصیت ہے، وہ اس بات کی وصیت کرتا ہے کہ وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ایک اکیلے اللہ وحدہٗ لا شریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جن کو رب تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اس دین کو سب دینوں پر غالب کر دیں چاہے مشرکوں کو برا ہی لگے۔ پھر یہ کہ میری نماز اور میری عبادت، میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

اے حسن و حسین! اے میرے سب اہل خانہ اور میری اولاد اور جن تک میری یہ وصیت پہنچے کہ میں ان سب کو اس اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے، مرنا تو مسلمان ہی مرنا اور سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقوں میں نہ پڑنا۔ میں نے حضرت ابو القاسمﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’بے شک آپس میں صلح کرنا نماز و روزہ سے افضل ہے۔‘‘

اپنے قرابت داروں کو دیکھنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ اللہ تم پر حساب کو آسان کر دے گا۔ یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ وہ تمہارے سامنے ضائع نہ ہو جائیں۔ نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔ زکوٰۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ زکوٰۃ رب کے غصہ کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ فقراء اور مساکین کے بارے میں اللہ سے ڈرنا، انہیں اپنے اسباب زندگی میں شریک کرتے رہنا۔ قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ قرآن پر عمل کرنے میں کوئی تم سے آگے نہ بڑھنے پائے۔ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور خانہ کعبہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ جب تک تم زندہ ہو وہ خالی نہ رہے (بلکہ آباد رہے) کہ اگر خانہ کعبہ کو چھوڑ دیا گیا تو تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ اپنے پیغمبرﷺ کے اہل ذمہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ تمہارے ہوتے ہوئے، ان میں سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے۔ اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ یہ تمہارے نبی کی وصیت ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے: ’’مجھے جبرئیل( علیہ السلام ) پڑوسیوں کے بارے میں وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ میں یہ سمجھا کہ یہ انہیں وارث بنا کر چھوڑیں گے۔‘‘

اپنے نبیﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں وصیت کی ہے۔ دو کمزوروں-اپنی بیویوں اور غلاموں- کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے سب سے آخر میں انہی کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’میں تم لوگوں کو دو کمزوروں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں -عورتیں اور غلام- اور نماز نماز (کہ اس کا خیال کرنا)۔ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔ وہی اللہ ان لوگوں سے تمہیں کافی ہو جائے گا، جو تم پر ظلم کرنا چاہتے ہیں ۔

لوگوں سے اچھی بات کرنا جیسا کہ اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ چھوڑنا وگرنہ تمہارے امور ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے، جو بدترین ہوں گے پھر تم دعا مانگو گے مگر قبول نہ ہو گی۔ ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ایک دوسرے پر خرچ کرنا اور قطع تعلقی، بے رخی اور تفرقہ سے بچنا اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اے اہل بیت! اللہ تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے بارے میں تمہارے پیغمبر کی حفاظت کرے۔ میں الوداع کہتا ہوں اور تم لوگوں کو رب کے حوالے کرتا ہوں اور تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ صرف لا الٰہ الا اللہ کا ورد کرتے رہے اور ماہِ رمضان 40 ہجری میں اس دارِ فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے آپ کو غسل دیا۔ آپ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، جس میں کوئی قمیص نہ تھی۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے نو تکبیروں کے ساتھ آپ کا نماز جنازہ پڑھایا۔ آپ کے بعد سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک سریر آرائے مسند خلافت رہے۔ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: 168 ارواء الغلیل للالبانی رحمۃ اللہ علیہ: جلد، 6 صفحہ 75)

یہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی واضح وصیت ہے جس میں اس مزعومہ وصیت کا دُور دُور تک بھی پتا نہیں۔ جس کی بنیاد پر ان ناہنجاروں نے ائمہ اسلاف، ائمہ اہل بیت اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کیا جاتا ہے تاکہ امامت اور مظلومیت کے جذباتی نعروں کی آڑ میں امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیر دیں اور اس کی وحدت پارہ پارہ کر دیں۔ اس وصیت میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز کی حفاظت کی دعوت دی ہے، سنت و جماعت کو مضبوطی سے تھامنے کی نصیحت کی ہے، فتنوں سے دُور رہنے کی فہمائش کی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی زبردست ترغیب دی ہے۔

یہ وصیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ محبت اور ان کی تعظیم و توقیر کرنے کو بیان کرتی ہے کیونکہ اس بات کی خود نبی کریمﷺ نے امت کو وصیت فرمائی تھی۔ اس وصیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں اور حاسدوں سے بچنے کی تاکید ہے۔ تواضع، انفاق فی سبیل اللہ، نیکیوں پر تعاون اور قول حق کی حمایت کی ترغیب ہے اور آخری بات یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ایک اکیلے اللہ سے مدد لی جائے۔