مشارکات حال حسین رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مشارکات حال حسین رضی اللہ عنہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

’’میں نے تمہارے دونوں بھائیوں کو جن باتوں کی وصیت کی ہے، کیا تم نے بھی ان کو یاد کر لیا ہے؟ وہ بولے: جی ہاں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ نصیحتیں تمہارے لیے بھی ہیں اور مزید یہ کہ اپنے ان دونوں بھائیوں کے حقوق کو ادا کرتے رہنا، ان کی تعظیم کرتے رہنا، ان کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ پھر حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے یہ فرمایا: ’’یہ وصیت میں تم لوگوں کو بھی کرتا ہوں۔ محمد تم دونوں کا باپ شریک بھائی ہے اور تم دونوں جانتے ہو کہ تمہارے باپ کو محمد سے پیار ہے۔‘‘

اس کے بعد آپ نے یہ وصیت لکھوائی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

’’یہ علی بن ابی طالب کی وصیت ہے، وہ اس بات کی وصیت کرتا ہے کہ وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ایک اکیلے اللہ وحدہٗ لا شریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جن کو رب تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اس دین کو سب دینوں پر غالب کر دیں چاہے مشرکوں کو برا ہی لگے۔ پھر یہ کہ میری نماز اور میری عبادت، میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

اے حسن و حسین! اے میرے سب اہل خانہ اور میری اولاد اور جن تک میری یہ وصیت پہنچے کہ میں ان سب کو اس اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے، مرنا تو مسلمان ہی مرنا اور سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقوں میں نہ پڑنا۔ میں نے حضرت ابو القاسمﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’بے شک آپس میں صلح کرنا نماز و روزہ سے افضل ہے۔‘‘

اپنے قرابت داروں کو دیکھنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ اللہ تم پر حساب کو آسان کر دے گا۔ یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ وہ تمہارے سامنے ضائع نہ ہو جائیں۔ نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔ زکوٰۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ زکوٰۃ رب کے غصہ کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ فقراء اور مساکین کے بارے میں اللہ سے ڈرنا، انہیں اپنے اسباب زندگی میں شریک کرتے رہنا۔ قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ قرآن پر عمل کرنے میں کوئی تم سے آگے نہ بڑھنے پائے۔ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور خانہ کعبہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ جب تک تم زندہ ہو وہ خالی نہ رہے (بلکہ آباد رہے) کہ اگر خانہ کعبہ کو چھوڑ دیا گیا تو تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ اپنے پیغمبرﷺ کے اہل ذمہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ تمہارے ہوتے ہوئے، ان میں سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے۔ اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ یہ تمہارے نبی کی وصیت ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے: ’’مجھے جبرئیل( علیہ السلام ) پڑوسیوں کے بارے میں وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ میں یہ سمجھا کہ یہ انہیں وارث بنا کر چھوڑیں گے۔‘‘

اپنے نبیﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کہ نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں وصیت کی ہے۔ دو کمزوروں-اپنی بیویوں اور غلاموں- کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے سب سے آخر میں انہی کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’میں تم لوگوں کو دو کمزوروں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں -عورتیں اور غلام- اور نماز نماز (کہ اس کا خیال کرنا)۔ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرنا۔ وہی اللہ ان لوگوں سے تمہیں کافی ہو جائے گا، جو تم پر ظلم کرنا چاہتے ہیں ۔

لوگوں سے اچھی بات کرنا جیسا کہ اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ چھوڑنا وگرنہ تمہارے امور ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے، جو بدترین ہوں گے پھر تم دعا مانگو گے مگر قبول نہ ہو گی۔ ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ایک دوسرے پر خرچ کرنا اور قطع تعلقی، بے رخی اور تفرقہ سے بچنا اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اے اہل بیت! اللہ تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے بارے میں تمہارے پیغمبر کی حفاظت کرے۔ میں الوداع کہتا ہوں اور تم لوگوں کو رب کے حوالے کرتا ہوں اور تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ صرف لا الٰہ الا اللہ کا ورد کرتے رہے اور ماہِ رمضان 40 ہجری میں اس دارِ فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے آپ کو غسل دیا۔ آپ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، جس میں کوئی قمیص نہ تھی۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے نو تکبیروں کے ساتھ آپ کا نماز جنازہ پڑھایا۔ آپ کے بعد سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک سریر آرائے مسند خلافت رہے۔ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: 168 ارواء الغلیل للالبانی رحمۃ اللہ علیہ: جلد، 6 صفحہ 75)

یہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی واضح وصیت ہے جس میں اس مزعومہ وصیت کا دُور دُور تک بھی پتا نہیں۔ جس کی بنیاد پر ان ناہنجاروں نے ائمہ اسلاف، ائمہ اہل بیت اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کیا جاتا ہے تاکہ امامت اور مظلومیت کے جذباتی نعروں کی آڑ میں امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیر دیں اور اس کی وحدت پارہ پارہ کر دیں۔ اس وصیت میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز کی حفاظت کی دعوت دی ہے، سنت و جماعت کو مضبوطی سے تھامنے کی نصیحت کی ہے، فتنوں سے دُور رہنے کی فہمائش کی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی زبردست ترغیب دی ہے۔

یہ وصیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ محبت اور ان کی تعظیم و توقیر کرنے کو بیان کرتی ہے کیونکہ اس بات کی خود نبی کریمﷺ نے امت کو وصیت فرمائی تھی۔ اس وصیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں اور حاسدوں سے بچنے کی تاکید ہے۔ تواضع، انفاق فی سبیل اللہ، نیکیوں پر تعاون اور قول حق کی حمایت کی ترغیب ہے اور آخری بات یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ایک اکیلے اللہ سے مدد لی جائے۔



صفحہ 2 از 2