سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور امت مسلمہ - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور امت مسلمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے یہی منکوس و معکوس رویہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنائے رکھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی محبت و وفاداری کو ظاہر کیا۔ جب انہیں ان لوگوں کی صداقت کا یقین ہو گیا اور آپ ان کے کہنے پر کوفہ پہنچ گئے تو ان لوگوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور آپ پر دشمنوں کو قابو دے دیا اور بالآخر سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اس کوفی لشکر کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کر گئے جس میں ایک بھی شامی نہ تھا۔

آلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے اس شرم ناک غداری کرنے، دشمنوں کے حوالے کرنے، مصیبت میں مدد نہ کرنے اور میدانِ کربلا میں آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کو بے یار و مددگار چھوڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کوفیوں یعنی اعدائے صحابہ کے حصہ میں دنیا و آخرت کی لعنت آئی۔ جبکہ دوسری طرف ان شرم ناک افعال کے برملا ارتکاب کے باوجود یہ کوفی آج تک تقیہ کی چادر اوڑھے آلِ بیت سے محبت کا شور مچائے ہوئے ہیں اور اسی شور و غل کی آڑ میں ان مقدس ہستیوں کے عقائد اور سیرت کو مسخ کر رہے ہیں۔

بے شک اہل کوفہ نے سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دھوکہ سے قتل کیا، سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی کوشش کی اور سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بے پناہ مکر و فریب اور نفرت و کینہ کا ارتکاب کیا، حتیٰ کہ انہیں اپنے ہی لشکر کے ہاتھوں شہید کروا دیا۔

مناسب ہے کہ اس موقعہ پر کوفہ اور شیعیت پر بھی شیعی مآخذ و مصادر سے روشنی ڈال دی جائے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ اہلِ بیت اور آل بیت کے ساتھ شیعیت کا رویہ کن خطوط پر قائم رہا ہے:

 کوفہ شیعیت کا گڑھ

باقر شریف قرشی کہتے ہیں: کوفہ شیعہ کی جنم بھومی اور علویوں کا وطن ہے کوفہ نے متعدد مواقع پر اہل بیت کے ساتھ اپنے اخلاص کا اعلان کیا ہے۔ (حیاۃ الامام الحسین: جلد، 3 صفحہ 12)

شیخ باقر یہ بھی لکھتے ہیں: کوفہ میں تشیع کا بیج حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور خلافت میں ہی بو دیا گیا تھا۔ (حیاۃ الامام الحسین: جلد، 3 صفحہ 13)

شیخ محمد تیجانی سماوی لکھتے ہیں: ’’ابوہریرہ کوفہ میں داخل ہوئے، جو شیعوں کا گڑھ اور علی بن ابی طالب( رضی اللہ عنہ ) کا مرکز ہے۔‘‘ (اعرف الحق: صفحہ 161)

 کوفہ، غدر و خیانت کا مرکز

شیخ جواد محدثی لکھتا ہے: تاریخ کوفہ کی شہرت غدر و خیانت اور عہد شکنی کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے۔ بہرحال تاریخ اسلام اہل کوفہ کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتی۔ (موسوعۃ عاشوراء: صفحہ 59)

شیخ جواد یہ بھی لکھتا ہے: اہل کوفہ کی نفسیاتی اور اخلاقی خصوصیات کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے: قول و فعل میں تضاد، مزاج میں تلون اور عدم استقلال، غیر مستقل عادات، حکمرانوں کے خلاف سرکشی، موقع پرستی، بد اخلاقی، حرص، طمع، افواہوں پر یقین اور قبائلی عصبیتوں کی طرف میلان۔‘‘

یہ ہیں اہل کوفہ اور ان کی تصویر کا ایک رخ۔

ان کی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اہل کوفہ متعدد قبائل سے مل کر بنے ہیں۔ یہ ایک جد کی اولاد نہیں ۔ ان سب اسباب و وجوہات نے جمع ہو کر اہل کوفہ کو سلبی، متضاد اور غیر صالح صفات کا مجموعہ بنا دیا، جس کے نتیجہ میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھوں دو دفعہ شدید تکلیف اٹھائی اور بالآخر انہی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ پھر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ان کی غداری کا زخم سہنا پڑا، پھر ان ہی کوفیوں کے درمیان مسلم بن عقیل مظلومانہ شہید ہوئے اور اسی کوفہ کے قریب کوفیوں کے ہاتھوں میدان کربلا میں سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ پیاسے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ (ایضاً) شیخ حسین کورانی کوفہ کی ہیئت پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

ایک کوفی کے ایمان کی نمایاں خصوصیات کیا ہو سکتی ہیں؟ سنیے! ان کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیجیے:

(1) اسلام کی مدد سے دست کش ہو کر بیٹھ رہنا۔

(2) مال کی اندھی محبت۔

(3) بدلتے حالات کے ساتھ طرح طرح کا رنگ بدلنا۔ (فی رحاب کربلاء: صفحہ 53)

شیخ جواد محدثی لکھتا ہے:

’’کوفہ میں شیعان اہل بیت کی کمی نہ تھی البتہ ان میں جذباتی تقریروں، شعلہ بار خطبوں اور زبانی جمع خرچ کے دلاسوں کا غلبہ تھا، جب کہ اس کے بالمقابل میدان جہاد میں عترتِ رسول کا ساتھ دینا، اہل سنت کے عمل و عقیدہ پر عمل کرنا، آل رسول کا ساتھ دینا اور قربانی کرنا برائے نام بھی نہ تھا۔‘‘ (موسوعۃ عاشوراء: صفحہ 60)

شیخ باقر قرشی لکھتا ہے:

’’کوفیوں نے ان خطوط کو بھلا دیا اور انہیں طاقِ نسیان میں رکھ دیا، جو انہوں نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لکھے تھے اور اس بیعت کو فراموش کر دیا، جو انہوں نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سفیروں کے ہاتھ پر کی تھی۔‘‘ (حیاۃ لامام الحسین: جلد، 2 صفحہ 370)


صفحہ 2 از 2