اہل کوفہ اور آل بیت
حامد محمد خلیفہ عمانجب کوفہ شرور و فتن کا مرکز تھا، وہاں کے لوگ عزت دار گھرانوں کے لوگ نہ تھے اور وہ جملہ اخلاقی برائیوں سے متصف بھی تھے، تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ آل بیت کے ساتھ ان کا رویہ صدق و دیانت اور وفا و صفا پر مبنی ہوتا۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس موضوع پر بھی قدرے روشنی ضرور ڈالی جائے کہ اہل کوفہ نے آل بیت رسول کے ساتھ کس شرم ناک غدر و خیانت کا ارتکاب کیا تھا۔
اہل بیت کے ساتھ اہل کوفہ کی غداری
امیر المومنین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے رویوں کا شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’قوموں کو اپنے حکمرانوں کے ظلم کا ڈر رہا کرتا ہے جبکہ مجھے اپنی رعایا کے ظلم کا ڈر ہے۔ میں نے تم لوگوں کو جہاد پر نکلنے کو کہا، مگر تم لوگ نہ نکلے، میں نے تم لوگوں کو سنایا مگر تم لوگوں نے نہ سنا، میں نے خفیہ اور علانیہ تم لوگوں کو دعوت دی مگر تم لوگوں نے قبول نہ کی، تم لوگوں نے میری نصیحت کوٹھکرا دیا، تمہارا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور تم لوگوں میں آقا اور غلام کا کوئی فرق نہیں۔ میں نے تم لوگوں کو حکمت کی باتیں پڑھ کر سنائیں، مگر تم لوگ ان سے بدک بھاگے، میں نے تم لوگوں کو بڑی بلیغ نصیحتیں کیں مگر تم متفرق ہو گئے۔ میں نے تم لوگوں کو باغیوں کے خلاف جہاد کی دعوت دی، لیکن ابھی میری بات پوری نہیں ہوتی تھی کہ تم لوگ بھاگ کر اپنی مجلسوں میں جا پہنچے ہوتے تھے۔ تم لوگ دھوکہ دیتے تھے۔ میں صبح کو تم لوگوں کو سیدھا کرتا تھا مگر شام پڑے تک تم پھر ٹیڑھے ہو چکے ہوتے تھے، جیسے سانپ پلٹ کر الٹا ہو جاتا ہے۔ اب سمجھانے والا بھی تھک گیا اور سمجھنے والے بھی تنگ ہو گئے۔
اے لوگو! جو خود تو موجود ہیں، لیکن ان کی عقلیں غیر موجود ہیں اور ان کی خواہشیں مختلف ہیں۔ حکمران تم لوگوں کی وجہ سے آزمائش میں ہیں۔ تمہارا امیر تو رب کا فرمانبردار ہے اور تم اس کے نافرمان ہو۔ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ معاویہ میرے ساتھ زرگروں والا معاملہ کر لیں، جو ایک دوسرے سے درہم و دینار لیتے دیتے ہیں، پس وہ مجھ سے تمہارے دس آدمی لے کر مجھے اپنا ایک آدمی بھی اس کے بدلے میں دے دیں، تو میں سمجھوں گا کہ یہ سودا مہنگا نہیں۔
اے اہل کوفہ! تم لوگ کانوں والے بہرے، زبانوں والے گونگے اور آنکھوں والے اندھے ہو۔ دشمنوں سے سامنا کرتے وقت تم لوگ سچے نہیں اور نہ مصیبت کی گھڑیوں میں سچے دوست ہو، تم لوگوں کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ تم ان اونٹوں کی طرح ہو جن کے مالک موجود نہیں کہ ایک طرف اکٹھے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سے متفرق ہو جاتے ہیں۔ (نہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 187-189)
رافضی فلاسفر دکتور احمد راسم نفیس، روافض کے سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے اور انہیں ستانے کے بارے میں ایک اور موقف بیان کرتے ہیں:
’’نصر بن مزاحم روایت کرتا ہے کہ لیلۃ الہریر کی صبح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے معسکر پر نگاہ ڈالی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قاصد نے جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیے۔ انہوں نے جواب دیا: اس وقت مجھے اپنے موقف سے ہٹنا مناسب نہیں۔ مجھے امید ہے کہ فتح مجھے ملے گی اس لیے جلدی نہ کیجیے۔ یزید بن ہانی نے لوٹ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی کہ وہ ہم پر ضرور حملہ آور ہوں گے۔
اتنے میں زبردست غبار اٹھا، اشتر کی طرف سے شور بلند ہوا اور اہل عراق کی فتح کے واضح آثار نظر آنے لگے اور اہل شام کی شکست و خذلان کی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ آپ نے قاصد کو قتال کا حکم دیا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے قاصد کو ان کی طرف کوئی خفیہ پیغام دے کر بھیجا تھا۔ اس نے جو کہا تھا علی الاعلان کہا تھا کیا تم لوگوں نے نہیں سنا تھا؟‘‘
قوم بولی: اشتر کو بلوا بھیجئے وگرنہ ہم آپ کو چھوڑ دیں گے۔
آپ نے فرمایا: اے یزید! تیرا ناس ہو، اسے واپس بلا لو کہ فتنہ نے سر اٹھا لیا ہے۔ یزید نے جا کر اشتر کو سارا قصہ سنایا۔ اشتر بولا: کیا انہوں نے مصاحف اٹھا لیے ہیں؟ قاصد بولا: ہاں۔ اشتر بولا: اللہ کی قسم! کیا تم فتح کی طرف نہیں دیکھتے؟ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کیا اٹھا لیا ہے اور اللہ ہمارے لیے کیا کر رہا ہے؟ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم اس کو چھوڑ کر لوٹ جائیں؟
یزید نے اشتر سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں تو اس جگہ فتح ملے اور امیر المومنین جس جگہ ہیں وہاں انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا جائے؟ اشتر بولا: نہیں، اللہ کی قسم! میں یہ نہیں چاہتا۔ یزید نے کہا: تو پھر سنو! قوم نے امیر المومنین سے یہ کہا ہے اور اس پر حلف لیا ہے کہ یا تو آپ اشتر کو بلوائیے تاکہ وہ آپ کے پاس آ جائے یا پھر ہم آپ کو اپنی تلواروں سے اسی طرح قتل کر دیں گے جس طرح ہم نے عثمان(رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا، (قاتلانِ عثمان وہی لوگ ہیں، جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کی دھمکی دی) یا پھر ہم آپ کو دشمنوں کے حوالے کر دیں گے۔‘‘ اس پر اشتر چلا آیا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ صف کو صف میں ملا لیجیے۔ اس سے آپ قوم کو شکست دے دیں گے۔‘‘
لوگوں میں شور مچ گیا کہ امیر المومنین نے ثالثی قبول کر لی ہے اور وہ قرآن کے حکم پر راضی ہو گئے ہیں۔ اشتر بولا: اگر تو امیر المومنین نے ثالثی قبول کر لی ہے اور حکم قرآن پر راضی ہیں، تو میں بھی راضی ہوں۔ لوگ کہنے لگے کہ امیر المومنین راضی ہو گئے اور انہوں نے قبول کر لیا۔ جبکہ امیر المونین خاموش اور سر جھکائے ہوئے تھے۔ پھر آپ کھڑے ہوئے۔ لوگ ایک دم خاموش ہو گئے۔ آپ نے فرمایا:
’’میرا معاملہ تم لوگوں کے ساتھ میرے حسب منشا رہا یہاں تک کہ میں نے تم لوگوں کی طرف سے جنگ دیکھی۔ اللہ کی قسم! تم لوگوں سے جنگ میں مجھے زیادہ نقصان ہوا بہ نسبت تمہارے دشمنوں سے جنگ میں کہ تم لوگوں کی طرف سے جنگ زیادہ مغلوب کرنے والی اور زیادہ عبرت ناک ہے۔ (دیکھ لیجیے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کوفیوں سے کتنی تکلیف اٹھائی)کیونکہ کل تک میں امیر المومنین تھا مگر آج مامور ہوں ، کل تک روکنے والا
میں تھا مگر آج میں خود روکا جانے والا ہوں۔ تم لوگوں نے بقا کو پسند کیا اور میں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف پر مجبور نہیں کر سکتا۔‘‘ یہ فرمایا اور بیٹھ گئے۔ (علی خطہ الحسین: صفحہ 34-35)
میں کہتا ہوں کہ بات اسی حد تک نہ رہی تھی بلکہ معاذ اللہ ان کوفیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کذب بیانی کی تہمت بھی لگائی تھی۔ چنانچہ شریف رضی امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتا ہے:
’’امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے اہل عراق! تم اس حاملہ عورت کی طرح ہو کہ جب اس کے حمل کی مدت پوری ہو گئی اور اس نے بچہ جن دیا، تو اس کا دودھ سوکھ گیا اور خاوند مر گیا اور اس کی بیوگی طویل ہو گئی اور اس کا دور کا رشتہ دار اس کا وارث بنا۔ اللہ کی قسم! میں اپنی مرضی سے تم لوگوں کے پاس نہیں آیا، بلکہ مجھے تم لوگوں کے پاس ہانک کر لایا گیا ہے۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم لوگ یہ کہتے ہو کہ علی(رضی اللہ عنہ) جھوٹ بولتا ہے، اللہ تم لوگوں کو غارت کرے! بھلا میں نے کس کے بارے میں جھوٹ بولا ہے '‘ (نہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 118-119)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے شیعیان سے فرمایا:
’’اللہ تمہیں غارت کرے! تم لوگوں نے میرا دل اور میرا سینہ غم و غصہ سے بھر دیا ہے، تم لوگوں نے مجھے تہمتوں کے گھونٹ پلائے اور نافرمانی اور بے وفائی کے ذریعے سے میری رائے کو برباد کیا۔‘‘ (ہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 70)
یہ ہے اُس وقت کے شیعیان کا حال اپنے پہلے امام کے ساتھ ، اور حیرت کی بات ہے کہ پھر بھی یہ لوگ اس موضوع روایت کو دہراتے رہتے ہیں: ’’اے علی! تم اور تمہارے شیعہ اس حال میں آئیں گے کہ تم ان سے راضی اور وہ تم سے راضی جبکہ تیرے دشمن غضب کی اور اس حالت میں آئیں گے کہ ذلت سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘
کیا یہی وہ اہل تشیع ہیں، جو اس حال میں آئیں گے کہ خود بھی راضی اور جناب علی رضی اللہ عنہ بھی ان سے راضی؟
اس کے بعد ان شیعوں کے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ کا دَور آتا ہے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان اہل تشیع کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے، ایک خطبہ دیتے ہیں۔
دکتور احمد نفیس اس تقریر کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’حسن (رضی اللہ عنہ) اپنے شیعہ کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اللہ نے اپنے بندوں پر جہاد کو فرض کیا اور اسے ’’ناگوار‘‘ امر کا نام دیا۔ پھر مومن مجاہدین سے یہ ارشاد فرمایا:
اِصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ
’’صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اے لوگو! تم جو مقام و مرتبہ چاہتے ہو، اسے ناگواریوں پر صبر کیے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔ اللہ تم لوگوں پر رحم کرے ’’نخیلہ‘‘ میں اپنے معسکر کی طرف نکلو تاکہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ لیں۔"
احمد نفیس کہتا ہے:
’’ حسن(رضی اللہ عنہ) نے گویا ان الفاظ میں اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں یہ شیعہ ہمیں چھوڑ نہ دیں۔ پس وہ شیعہ یہ بات سن کر خاموش ہو گئے، ان میں سے کسی نے کوئی بات نہ کی اور نہ کسی نے ایک حرف بھی جواب میں کہا۔ لوگوں میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب انہوں نے ان شیعہ کی یہ بے حسی دیکھی، تو اٹھ کر یوں گویا ہوئے: ’’سبحان اللہ! میں ابنِ حاتم ہوں، یہ کس قدر شرم اور ذلت کا مقام ہے کہ تم لوگ اپنے امام کو جواب تک نہیں دیتے، حالانکہ وہ تمہارے پیغمبرﷺ کی لخت جگر کے بیٹے ہیں؟
مضر کے خطباء کہاں ہیں؟ جن کی زبانیں حالت امن میں تلواروں کی طرح تیز ہوتی ہیں؟ اور جب گمبھیر حالات پیش آتے ہیں تو لومڑیوں کی طرح ڈرپوک ثابت ہوتے ہیں؟ کیا تم لوگ اللہ کی ناراضی اور اس کے انتقام سے نہیں ڈرتے؟ (علی خطی الحسین: صفحہ 38)
یہی قصہ ادریس حسینی نے بھی نقل کیا ہے۔ ( لقد شیعنی الحسین: صفحہ 274-275)
دکتور احمد راسم نفیس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’یہ لوگ ذہنی اور نفسیاتی شکست سے دوچار تھے، انہیں جہاد میں کوئی رغبت نہ تھی اور نہ ان میں جان و مال خرچ اور قربانی دینے کا کوئی جذبہ تھا۔ یہ دنیا اور اس کی حلاوت کو آزما چکے تھے اور اب یہ دنیا کے ہی طلب گار تھے۔ یہ لوگ عدل کے سائے تلے رہ کر نفس کی خواہشوں کو پورا نہ کر سکتے تھے۔ ان کے نفس بنی امیہ کی طرف مائل تھے، جو اگلے مرحلہ کے قائدین تھے۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 39)
اہل کوفہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو غداری کی اور ان پر کدال کا وار کیا، اس کو نقل کرتے ہوئے دکتور احمد راسم شیعی لکھتا ہے:
’’اس کے بعد حسن (رضی اللہ عنہ) نے اعلان کر دیا کہ وہ میدانِ قتال کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اس پر قیس بن سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہما) اور معقل بن یسار ( رضی اللہ عنہ ) نے بھی کھڑے ہو کر وہی کہا، جو عدی بن حاتم( رضی اللہ عنہ ) نے کہا تھا اور اپنے معسکر کی طرف چل پڑے، جس پر لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔
حسن (رضی اللہ عنہ) نے لشکر کی مورچہ بندی کی، انہیں قتال کے لیے تیار کیا، پھر ان میں خطبہ دیا۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے جا رہے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ بولے: شاید یہ معاویہ( رضی اللہ عنہ) سے صلح کرنا اور امر خلافت ان کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اس آدمی نے اس بات کا ارادہ کر کے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے جناب حسن رضی اللہ عنہ کے خیمہ پر ہلہ بول دیا اور اندر گھس کر خیمہ لوٹ لیا۔ حتیٰ کہ ان کے نیچے سے ان کا مصلیٰ بھی کھینچ لیا۔ پھر عبدالرحمن بن عبداللہ بن جعال ازدی نے آگے بڑھ کر سختی کے ساتھ آپ کے کندھے پر سے آپ کی دھاری دار ریشمی چادر کھینچ کر اتار لی۔ اب آپ بغیر چادر کے تلوار حمائل کیے ہوئے باقی رہ گئے۔ پس آپ نے اپنا گھوڑا منگوایا اور اس پر سوار ہو کر چل دئیے۔
جب آپ ساباط سے گزر رہے تھے، تو بنی اسد کے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر رات کے اس اندھیرے میں آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور اور کہا: اللہ اکبر! اے حسن! پہلے تیرے باپ نے شرک کیا اور اب تو شرک کرتا ہے۔ یہ کہہ کر آپ پر کدال کا ایک وار کر دیا، جو آپ کی ران پر پڑا۔ اس وار نے گوشت پھاڑ کر زخم کر دیا اور ران کی جڑ پر سے کھال ادھیڑ دی۔ آپ زخمی ہو کر گر پڑے۔ بعد میں آپ کو ایک تخت پر بٹھا کر اسی زخمی حالت میں مدائن منتقل کر دیا گیا۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 39-40)
ایک اور مصنف ادریس حسینی اہل کوفہ کی غداری کی یہ تصویر پیش کرتا ہے:
’’حسن (رضی اللہ عنہ) کو اپنے ہی لشکر کی طرف سے قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک مرتبہ بنی اسد کا ایک شخص جراح بن سنان آیا۔ اس نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی اور آپ کی ران میں گہرا زخم لگایا۔ حسن (رضی اللہ عنہ) نے اسے پکڑ کر دبوچ لیا جس سے دونوں زمین پر گر گئے۔ حتیٰ کہ عبداللہ بن حنظلہ طائی سامنے آیا، اس نے جراح سے کدال چھینی اور اسے ایک ضرب لگائی۔ جبکہ حسن ( رضی اللہ عنہ) کو دوسری مرتبہ نماز کے دوران میں وار کر زخم لگایا گیا۔‘‘ (لقد شیعنی الحسین: صفحہ 279)
اہل تشیع کا مرجع کبیر ’’محسن الامین العاملی‘‘ لکھتا ہے:
’’پھر علی (رضی اللہ عنہ) کے بیٹے حسن (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کر لی گئی، لیکن ان کے ساتھ عہد و پیمان کرنے کے باوجود ان کے ساتھ غداری کا ارتکاب کیا گیا، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ اہل عراق نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو میں خنجر کا ایک وار کیا۔‘‘
(اعیان الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 26)
محمد تیجانی سماوی لکھتا ہے:
’’جیسا کہ بعض جاہل حسن (رضی اللہ عنہ) پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) سے صلح کر کے اور مخلص مسلمانوں کو قتل ہونے سے بچا کر مومنوں کو ذلیل کیا ہے۔‘‘ (محل الحلول عند آل الرسول: صفحہ 122-123 دیکھ لیجیے کہ یہ تہمت لگانے والے تو خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے شیعہ ہیں، لیکن تیجانی قارئین کو دھوکہ دینے کے لیے اور صورتِ واقعہ کو مسخ کرنے کے لیے ان کو ’’بعض جاہل‘‘ کہہ کر پکارتا ہے)
آیت اللہ اعظمی حسین فضل اللہ لکھتا ہے:
’’حسن( رضی اللہ عنہ) کے لشکر میں خوارج کی بھی ایک ٹولی تھی۔ یہ حسن(رضی اللہ عنہ) کی محبت میں ان کے ساتھ نہ نکلے تھے بلکہ صرف اس لیے نکلے تھے کہ وہ ہر صورت میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے تھے، چاہے اس کے لیے کسی بھی شخص کا ساتھ دے کر لڑنا پڑے۔ پھر کچھ لوگ صرف مالِ غنیمت کے لالچ میں لشکر میں آ نکلے تھے۔ کچھ لوگ قبائلی عصبیت کے جذبوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر نکلے تھے اور ان میں اس قبائلی عصبیت کو ان کے سرداروں نے پھونکا تھا جو جاہ و مال کی محبت کے اسیر بے زنجیر تھے۔ یہ لوگ لشکر حسن (رضی اللہ عنہ) میں بگاڑ اور انتشار پیدا کرنے آئے تھے۔ لشکر میں بعض حسن(رضی اللہ عنہ) کے قرابتی رشتہ دار بھی تھے جن کی طرف معاویہ(رضی اللہ عنہ) نے مال بھیجا تو انہوں نے اپنی قیادت کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ لشکر سے اس مضمون پر مشتمل بے شمار خطوط معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجے گئے کہ ’’اگر آپ چاہیں تو ہم حسن( رضی اللہ عنہ) کو زندہ یا مردہ کسی بھی حال میں آپ کے حوالے کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ معاویہ( رضی اللہ عنہ) نے بھی اس پر اپنی موافقت لکھ بھیجی کہ ایسا کر گزرو، حسن(رضی اللہ عنہ) کو زندہ یا مردہ میرے حوالے کرو۔ پھر خود لشکر حسن کی پوری خبر گیری کی اور دیکھتے رہے کہ یہ لوگ حسن(رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کی سازش کیونکر کرتے ہیں۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 3 صفحہ 207 فی رحاب اہل البیت: صفحہ 270)
شیخ ابو منصور طبرسی انہی حالات کے تناظر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتا ہے:
’’اللہ کی قسم! میں معاویہ(رضی اللہ عنہ) کو ان سے بہتر دیکھ رہا ہوں جو خود کو میرا شیعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے مال اسباب بھی لوٹ لیا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر معاویہ(رضی اللہ عنہ ) میری اور میرے اہل کی جان کی حفاظت کا مجھ سے عہد کر لیں، تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ یہ مجھے قتل کر ڈالیں، جس سے میرے اہل بیت ضائع ہو جائیں اور اگر میں معاویہ(رضی اللہ عنہ) سے قتال کرتا ہوں، تو یہ لوگ مجھے میری گردن سے پکڑ کر ان کے حوالے کر دیں گے۔‘‘ (الاحتجاج: جلد،2 صفحہ 10 آداب المنابر لحسن مغنیۃ: صفحہ 20)
امیر محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے:
’’صحیح تاریخ ہمارے لیے یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جو لوگ حسن( رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ تھے اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ پرلے درجے کے خائن اور غدار تھے۔ اسی لیے دشمنوں سے قتال کے وقت ان کی اتنی زیادہ تعداد بھی امام حسن علیہ السلام کے کام نہ آئی۔ ان کی خیانت اور غداری اس حد تک جا پہنچی کہ انہوں نے معاویہ( رضی اللہ عنہ ) کو یہ لکھ بھیجا: ’’اگر آپ کہیں تو ہم حسن علیہ السلام کو آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔‘‘ اور ان میں سے ایک نے کدال مار کر آپ کی ران میں ایسا گہرا زخم ڈالا، جو ہڈی تک جا پہنچا اور اس حملہ آور نے ایسی گری ہوئی زبان جناب حسن علیہ السلام کے ساتھ استعمال کی تھی کہ جس کے ذکر کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔ اگر خود ان ائمہ نے یہ نہ کہا ہوتا کہ ہمارے شیعہ ہمارے بارے میں جو بھی کہیں، وہ بیان کر دیا کرو، تو ہم کبھی ان الفاظ کو ذکر نہ کرتے۔ سنیے! اس حملہ آور نے یہ کہا تھا: ’’اے حسن! تم نے بھی اسی شرک کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب تم سے پہلے تیرے باپ نے کیا تھا۔‘‘
چنانچہ جب امام حسن علیہ السلام نے اہل کوفہ میں غدر و خیانت دیکھی، تو معاویہ( رضی اللہ عنہ ) سے صلح کر لی اور مسلمانوں کی خوں ریزی روکنے اور اپنے اور اپنے اہل بیت کے دھوکے سے قتل کر دئیے جانے سے حفاظت کی خاطر جنگ بندی کر لی، تاکہ ایک تو آپ کو کوئی دھوکے سے قتل نہ کر سکے اور دوسرے آپ کے اہل بیت بے جا ضائع نہ ہوں، جس کا نہ انہیں کوئی فائدہ ہو اور نہ اسلام اور مسلمانوں ہی کو کوئی فائدہ ہو۔‘‘ (محاورۃ عقائدیۃ: صفحہ 122-123 اور مزید یہ کہ امر خلافت سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں دینے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی حرج بھی نہ تھا)
ادریس حسینی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اپنے شیعہ کو کیے گئے خطاب کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’اے اہل عراق! مجھے تین باتوں نے تم لوگوں سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا ہے: (1) میرے باپ کو تم لوگوں کا قتل کرنا، (2) مجھ پر کدال کا وار کر کے شدید زخمی کرنا (3) اور میرا مال و اسباب لوٹ لینا۔‘‘ (لقد شیعنی الحسین: صفحہ 283 (بہامش))
اس خطاب کو نقل کر کے وہ لکھتا ہے:
’’غرض انہوں نے اپنے ائمہ (سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم) کو بے پناہ آمائشوں میں ڈالا۔ ان حضرات کی آزمائشوں کا یہ سلسلہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تک جا پہنچا اور انہیں بھی انہی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان کے اجداد کا سامنا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم ان میں زرارہ بن اعین نامی کو دیکھتے ہیں (عبدالحسین موسوی نے ’’المراجعات‘‘ میں زرارہ کا ناحق دفاع کرنے میں بڑا زور لگایا ہے) کہ وہ اپنی خست و خباثت اور کمینگی و دناءت کا اظہار کرتے ہوئے، جناب جعفر صادق رحمۃ اللہ پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ’’اللہ ابو جعفر پر رحم کرے اور رہے ان کے والد جعفر تو میرے دل میں ان کے بارے میں ایک بات ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 131)
امام جعفر صادق رحمۃ اللہ نے جب زرارہ کی بدعت پر انکار کیا تو اس نے یہ کہہ کر اس بدعت کو ان کی طرف منسوب کر دیا: ’’اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے استطاعت دی اور انہیں اس کی خبر بھی نہیں۔" (رجال الکشی: صفحہ 134)
جب زرارہ نے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت نہ دی اور تین بار یہ کہا: ’’اسے اندر آنے کی اجازت مت دینا، یہ اس بڑھاپے میں مجھے قدریہ بنانا چاہتا ہے جو نہ میرا دین ہے اور نہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 142)
ایسی ہی بدعقیدگی ان ائمہ کے دوسرے ان اصحاب سے بعید نہیں، جیسے ابو بصیر، جابر جعفی اور ہشام بن حکم وغیرہ جن کا دفاع کرنے میں صاحب ’’المراجعات‘‘ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ (اس کی تفصیل کے لیے شیعی کتب رجال کا مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ عبدالحسین موسوی نے ان کے دفاع میں کس دھڑلے سے جھوٹ بولے ہیں)
حضرات اہل بیت نے ان کے اس کردار کو دیکھتے ہوئے ان پر نفاق کا حکم لگایا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کہتے ہیں:
’’رب تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں جو بھی آیت نازل کی ہے وہ انہی پر صادق آتی ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 254)
امام جعفر صادق رحمۃ اللہ سے مروی ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے:
’’کاش ہم اہل بیت میں سے کوئی اٹھتا اور ان کذابوں کو قتل کر دیتا۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 253)
امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اگر میں اپنے شیعوں کو تولوں، تو یہ منافق نکلیں، اگر انہیں پرکھوں تو یہ مرتد نکلیں اور ان کی جانچ کروں تو ہزاروں میں ایک بھی مخلص نہ نکلے۔‘‘ (الکافی: جلد، 8 صفحہ 228 مجموعۃ ورام: جلد، 2 صفحہ 152)
امام رضا رحمۃ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’ہم اہل بیت کی محبت و مودت کو منسوب کرنے والے بعض لوگ ہمارے شیعیان کے حق میں دجال سے زیادہ فتنہ پرور ہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 11 صفحہ 441)
بے شک اہل کوفہ اور عراقیوں نے غدر و خیانت کی ایک طویل مگر بے حد شرم ناک داستان رقم کی ہے، جو نواسۂ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اہل عراق اور کوفی خونِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اپنے ہاتھ رنگنے کے بعد غدر و خیانت کی خوئے بد سے باز آ گئے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد انہیں اس قدر اونچے پیمانے پر بدعہدی کرنے کا تاریخ نے پھر کوئی موقعہ نہ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ معمولی معمولی خیانتیں کر کے اہل کوفہ اپنے نفس کی تسلی کا سامان ضرور کرتے رہے۔
ان کا آخری کاری وار سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر تھا۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:
’’جب کوفی لشکروں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا، تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی سرزمین ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ کربلا، تو فرمایا: ’’نبی کریمﷺ نے سچ فرمایا ہے کہ یہ زمین کرب اور بلا والی ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر: 2812 کربلا کوفہ سے صرف دس کلومیٹر کے قریب دُور ہے)
شہر بن حوشب کہتا ہے:
’’ام المومنین ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کو جب حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کی شہادت کی خبر دی گئی تو میں نے سنا کہ پہلے انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی پھر یہ فرمایا: ’’ان لوگوں نے حسین کو قتل کیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا اور انہیں رسوا کیا، اللہ ان پر لعنت کرے۔‘‘ (المعجم الکبیر: ۲۸۱۸۔ البتہ یہ بات اس روایت کے معارض جاتی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا 59 ہجری میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت سے قبل رحلت فرما چکی تھیں۔ دیکھیں: سیرۃ ابن حبان: جلد، 1 صفحہ 397 سیرۃ ابن کثیر: جلد، 3 صفحہ 311 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 4 صفحہ 62)