کوفیوں کی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے خط و کتابت شیعی روایات کی روشنی میں
حامد محمد خلیفہ عمانمناسب ہے کہ اس مقام پر خود شیعی روایات سے بھی یہ ثابت کر دیا جائے کہ اہل عراق و کوفہ نے یہ رسوائے زمانہ قابل فضیحت و ذلت اور شرم ناک فعل کیا تھا کہ پہلے خود خطوط لکھے، پھر مکر گئے اور غدر و جفا پر اتر آئے اور بالآخر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر ڈالا۔ ذیل میں چند شیعی نصوص کو نقل کیا جاتا ہے:
کاظم حمد الاحسائی نجفی لکھتا ہے:
’’کوفیوں کی جانب سے جناب امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو لگاتار اس قدر خطوط آئے کہ ان سے دو خورجیاں (بوریاں) بھری جا سکتی تھیں۔ کوفیوں کا آخری خط ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ہاتھوں پہنچا۔ آپ نے سب کے سامنے یہ خط کھولا اور پڑھ کر سنایا، جس میں یہ لکھا تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حسین بن علی کے نام، ان کے اور ان کے والد امیر المومنین کے شیعیان کی طرف سے،
اما بعد!
لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ کے سوا کسی کے بارے میں بھی ان کی رائے نہیں، اس لیے آنے میں جلدی کیجیے۔‘‘ (عاشوراء: صفحہ 85 تظلم الزہرا: صفحہ 141)
دکتور احمد نفیس لکھتا ہے:
’’کوفیوں نے حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کو خطوط لکھے اور ان میں یہ کہا: ’’اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں، آپ ہماری امارت قبول کیجیے۔ شاید اللہ ہمیں آپ کے ذریعے سے حق پر جمع کر دے۔‘‘
آپ کے پاس دستخط شدہ خطوط پہنچے، جن میں کوفہ چلے آنے کی دعوت تھی، تاکہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اور بنو امیہ کے باغیوں اور طاغوتوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی قیادت آپ کے ہاتھوں میں دے دی جائے۔ یوں حسینی تحریک کے بنیادی عناصر پورے ہو گئے، جو یہ ہیں:
٭ جمہور کے ارادہ کا وجود جو تبدیلی چاہتا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات کی ترغیب دے رہا ہے کہ اس تحریک کی زمامِ قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کی جلدی کریں۔ کوفیوں کے یہ ارادے ان کے ان خطوط سے عیاں ہوتے ہیں، جو انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لکھے اور جن میں سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت کرنے کا وعدہ کیا۔ (علی خطی الحسین: صفحہ 94)
محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے:
’’اہل عراق نے امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو خطوط لکھے اور مسلسل مراسلت قائم رکھی اور ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ کوفہ آئیں، تاکہ ان کی بیعت خلافت کی جا سکے۔ مجموعی طور پر اہل عراق نے بارہ ہزار خطوط لکھے تھے، ان سب کا یہی ایک مضمون تھا کہ ’’پھل پک چکے ہیں، کھیتی تیار ہے، اپنے تیار شدہ لشکر کے پاس چلے آئیے، ایک لاکھ تلواریں کوفہ میں آپ کے حکم کی منتظر ہیں، آج اگر آپ ہمارے پاس نہ آئیں گے تو کل قیامت کے دن ہم اللہ کے حضور آپ سے لڑیں گے۔‘‘ (فاجعۃ الطف: صفحہ 6)
عباس قمی لکھتا ہے:
’’کوفہ سے لگاتار خطوط آنے کا عالم یہ تھا کہ ایک دفعہ ایک ہی دن میں ایک ہزار خطوط آئے، جن میں امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ وفا کا اظہار تھا، لیکن افسوس کہ وفا کا اظہار کرنے والے یہی لوگ پرلے درجے کے بے وفا تھے۔ اس سب کے باوجود جناب حسین (رضی اللہ عنہ) ٹالتے رہے اور کسی ایک بات کا بھی جواب نہ دیا، حتیٰ کہ بارہ ہزار خطوط جمع ہو گئے۔‘‘
(منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 430)
علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاؤس حسینی لکھتا ہے:
’’اہل کوفہ کو اس بات کی خبر مل گئی کہ امام حسین (رضی اللہ عنہ) مدینہ سے مکہ پہنچ گئے ہیں اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ یزید کی بیعت نہیں کر رہے۔ پس یہ لوگ سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان میں جمع ہوئے۔ جب سب لوگ اکٹھے ہو گئے، تو سلیمان بن صرد نے ان میں خطبہ دیا اور خطبہ کے آخر میں یہ کہا: ’’اے گروہ شیعہ! تم جانتے ہو کہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) ہلاک ہو کر اپنے رب سے جا ملا ہے اور ان کی مسند خلافت اس کے بیٹے یزید نے سنبھال لی ہے۔ یہ رہے حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) جو اس کے مخالف ہیں اور وہ آل ابی سفیان کے باغیوں سے بھاگ کر مکہ چلے آئے ہیں۔ تم لوگ ان کے اور ان سے پہلے ان کے باپ کے شیعہ ہو۔ آج وہ تمہاری مدد کے محتاج ہیں اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تم حسین (رضی اللہ عنہ) کے حامی و ناصر اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کے مددگار ہو تو انہیں خط لکھو اور اگر تمہیں بے ہمتی اور کمزوری کا ڈر ہے تو انہیں اپنی طرف سے دھوکے میں نہ رکھنا۔‘‘
علی بن موسیٰ لکھتا ہے:
’’پس انہوں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو خطوط لکھنے شروع کر دئیے۔‘‘ (اللہوف لابن طاؤوس، صفحہ 22۔ المجالس الفاخرۃ: صفحہ 58-59 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 430 علی خطی الحسین: صفحہ 93)
عباس قمی ایک اورجگہ لکھتا ہے:
’’پس کوفی سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر اکٹھے ہوئے اور وہاں معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی ہلاکت اور یزید کی بیعت کا ذکر ہونے لگا۔ اتنے میں سلیمان نے کھڑے ہو کر یہ تقریر کی:
’’تم لوگ جانتے ہو کہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) ہلاک ہو چکا ہے۔ ملک پر یزید اور اس کے بیٹے نے قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے اس کی مخالفت کی ہے، اس لیے وہ بھاگ کر مکہ چلے آئے ہیں۔ تم لوگ ان کے اور ان کے باپ کے شیعیان ہو۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم حسین (رضی اللہ عنہما) کے مددگار اور ان کے دشمنوں سے لڑنے والے ہو، تو نہیں خطوط لکھو اور اگر تمہیں اپنے اوپر بزدلی اور بے ہمتی کا ڈر ہو تو انہیں خطوط لکھ کر دھوکہ مت دو۔‘‘لوگوں نے کہا: ’’نہیں بلکہ ہم ان کے دشمنوں سے قتال کریں گے اور ان کی خاطر جان دے دیں گے۔‘‘
پھر ان لوگوں نے سلیمان بن صرد، مسیب بن نجبہ، رفاعہ بن شداد بجلی، حبیب بن مظاہر اور اہل کوفہ کی طرف سے ایک خط لکھا جس میں حمد و ثنا کے بعد لکھا:
’’آپ پر سلام ہو، اما بعد! سب تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے آپ کے سرکش اور جابر دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں، ہمارے پاس چلے آئیے، شاید آپ کے ذریعے سے اللہ ہمیں حق بات پر اکٹھا کر دے۔ نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہما) قصر خلافت میں ہیں۔ ہم جمعہ اور جماعت دونوں میں ان کے ساتھ اکٹھے نہیں ہوتے (یعنی یہ کوفی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے جمعہ اور نمازیں ادا نہ کرتے تھے) اور نہ ہم ان کے ساتھ عید پڑھنے نکلتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ بات معلوم ہو جائے کہ آپ ہمارے پاس آنے والے ہیں، تو ہم انہیں کوفہ سے نکال دیں گے اور شام پہنچا کر دم لیں گے ان شاء اللہ۔‘‘
سلیمان اور اہل کوفہ نے عبداللہ بن سمع ہمدانی اور عبداللہ بن دال کے ہاتھ یہ خط روانہ کیا اور انہیں جلد ازجلد یہ خط جناب حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کا حکم دیا۔ یہ دونوں برق رفتاری سے چل کر دس رمضان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ پہنچے۔ اس خط کے روانہ کرنے کے دو دن بعد ہی قیس بن مسہر صیداوی، عبداللہ بن شداد اور عمارہ بن عبداللہ سلولی کو تقریباً ڈیڑھ سو خطوط دے کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف مکہ روانہ کر دیا اور مزید دو دن بعد ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔ ان کوفیوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھا:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، حسین بن علی کی طرف ان کے مومن اور مسلم شیعیان کی طرف سے!
اما بعد! تشریف لے آئیے کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں، وہ آپ کے سوا کسی اور کے بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتے۔ بس تو پھر جلدی کیجیے! ہاں ہاں جلدی کیجیے
و السلام۔
اس کے بعد شبث بن ربعی، حجار بن ابجر، یزید بن حارث بن رویم، عروہ بن قیس، عمرو بن حجاج زبیدی اور محمد بن عمرو تیمی نے آپ کو خط میں یہ لکھا:
اما بعد! سبزہ ہو چکا، پھل پک چکے۔ اگر آپ چاہیں تو آئیے کہ ایک تیار لشکر آپ کی بیعت کرنے کو منتظر ہے،
و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
(منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 430 اللہوف: صفحہ 22 المجالس الفاخرۃ: صفحہ 58)